نان فائلرز کیلئے 1300 سی سی گاڑی خریدنے کی پابندی ختم ہونے پر ہونڈا کمپنی مشکلات کا شکار

اپ ڈیٹ 25 جنوری 2019

ای میل

کمپنی  صرف 1339 سی سی اور اسے سےبڑی گاڑیاں بناتی ہے—فائل فوٹو: ڈان
کمپنی صرف 1339 سی سی اور اسے سےبڑی گاڑیاں بناتی ہے—فائل فوٹو: ڈان

کراچی: حکومت کی جانب سے نان فائلرز کو 1300 سی سی گاڑی خریدنے کی اجازت دینے پر ہونڈا اٹلس کارز پاکستان (ایچ سی اے آر) خود کو ایک مشکل صورتحال کا شکار سمجھ رہی ہے کیونکہ وہ صرف 1339 سی سی اور اسے سےبڑی گاڑیاں بناتی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جاپانی آٹومیکر 1399 سی سی اور 1500 سی سی کی سٹی ویرینٹس، 1500 سی سی کی بی آر-وی اور 1800 سی سی کی سوک ماڈلز اسمبلز کرتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں استعمال شدہ کاروں کی درآمدات میں 70 فیصد اضافہ

اس حوالے سے ایچ سی اے آر کے نائب صدر مقصود الرحمٰن نے وزیر خزانہ اسد عمر سے مطالبہ کیا کہ وہ نان فائلرز کو 1300 سی سی کے بجائے 1350 سی سی کی گاڑیاں خریدنے کی اجازت دیں۔

ادھر ہونڈا کے ساتھ ساتھ سوزوکی سوئفٹ بھی اس حدود سے انتہائی کم مارجن سے باہر نکلتی ہے اور اس کی انجن کی صلاحیت 1328 سی سی ہے۔

تاہم پاک سوزوکی موٹر کمپنی لمیٹڈ کے ترجمان شفیق احمد شیخ کا کہنا تھا کہ ’مجموعی طور پر کمپنی کی فروخت میں کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا کیونکہ سوئفٹ کی پیداوار اور فروخت کی شرح کم ہے‘۔

خیال رہے کہ وزیر خزانہ اسد عمر نے بدھ کو اپنے خطاب میں کہا تھا کہ نان فائلرز کے لیے مقامی طور پر تیار ہونے والی 1300 سی سی گاڑی کی خریداری پر پابندی ختم کردی لیکن زائد ٹیکسز کا اطلاق ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: مقامی کمپنی کا 800 سی سی کار متعارف کرانے کا اعلان

شجر کیپیٹل کے مطابق حکومت نے نان فائلر کے لیے گاڑیوں کے تمام شعبوں پر 50 فیصد تک ودہولڈنگ ٹیکس بڑھانے کا فیصلہ کیا جبکہ فائلرز کے لیے ٹیکس کو برقرار رکھا گیا۔

منافع میں 48 فیصد تک کمی

دوسری جانب ہونڈا اٹلس کارز لمیٹڈ نے 9 ماہ اپریل سے دسمبر 2018 کے منافع کا اعلان کیا اور ٹیکس کے بعد منافع 2 ارب 68 کروڑ روپے ، ملز فی شیئر آمدنی (ای پی ایس) 18 روپے 78 پیسے رہی، اس آمدنی میں منافع سے 48 فیصد کمی ہوئی کیونکہ گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران ٹیکس کی ادائیگی کے بعد منافع 5 ارب 12 کروڑ روپے اور ای پی ایس 35 روپے 86 پیسے تھا۔

اعلیٰ سیکیورٹیز کی جانب سے کہا گیا کہ ایچ سی اے آر کے 31 دسمبر 2018 کو ختم ہونے والی تیسری سہ ماہی میں آمدنی امید سے کم رہی، جہاں ای پی ایس گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 9روپے 92 پیسے کے مقابلے میں 4 روپے 21 پیسے تک دیکھا گیا جو 58 فیصد کم تھا۔