شام سے داعش کے ’مکمل خاتمے‘ کیلئے فیصلہ کن جنگ کا آغاز

اپ ڈیٹ 09 فروری 2019

ای میل

آئندہ چند روز میں جنگ مکمل طور پر ختم ہوجائے گی، ایس ڈی ایف—فوٹو: اے ایف پی
آئندہ چند روز میں جنگ مکمل طور پر ختم ہوجائے گی، ایس ڈی ایف—فوٹو: اے ایف پی

امریکا کی حمایت یافتہ شامی فورسز نے شام کے جنوبی حصے سے دہشت گرد تنظیم 'داعش' کے خلاف فیصلہ کن کارروائی شروع کرنے کا آغاز کردیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے کہا کہ ’مشرقی صوبے دیر الزور میں داعش کے جنگجوؤں کے خاتمے کے لیے لڑائی شروع ہو چکی‘۔

یہ بھی پڑھیں: شام میں داعش کے جوابی حملے میں 32 افراد ہلاک

اس حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ ’داعش کے جنگجو محض ایک کلومیٹر کے دائرے میں باقی بچے ہیں‘۔

ایس ڈی ایف کے اعلامیہ کے مطابق ’ایس ڈی ایف نے داعش کو مکمل طور پر شکست دینے کے لیے گاؤں بگووز میں فیصلہ کن کارروائی شروع کردی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’لڑائی شروع ہونے سے قبل 10 دن کے دوران تقریباً 20 ہزار شہریوں نے محفوظ مقامات پر ہجرت کی۔'

ایس ڈی ایف کے ترجمان مصطفیٰ بالی نے تصدیق کی کہ ’جنگ شروع ہو چکی ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مخصوص رقبے میں داعش کے تقریباً 600 جنگجو موجود ہیں جن میں بیشتر غیر ملکی ہیں، تاہم ہزاروں شہری تاحال گاؤں میں موجود ہیں‘۔

مزید پڑھیں: داعش نے شام کے 21 فوجیوں کو ہلاک کردیا

ان کا کہنا تھا کہ ’آئندہ چند روز میں جنگ مکمل طور پر ختم ہوجائے گی‘۔

واضح رہے داعش نے 2014 کے موسم سرما میں عراق کے شمال مغرب میں دوسرے بڑے شہر موصل کا قبضہ حاصل کرنے کے بعد دارالحکومت بغداد کی جانب پیش قدمی کی تھی۔

بعد ازاں امریکا نے فضائی کارروائی کے ذریعے عراق کی سرحدوں پر قبضہ کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف مسلح مہم شروع کردی تھی اور طویل جدوجہد کے بعد فوج نے نومبر 2017 میں موصل کا قبضہ دوبارہ حاصل کرلیا تھا۔

واضح رہے کہ شام میں امریکا کی سربراہی میں ڈیموکریٹک فورسز نے اکتوبر میں الرقہ پر قبضہ حاصل کرلیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: شام میں کردش ملیشیا کی امریکی حمایت ایک بڑی غلطی تھی، ترکی

امریکا اور روس دونوں نے اپنی اپنی اتحادی فورسز کے ساتھ خصوصی تعاون کیا تھا اور فضائی کارروائیاں کی تھیں۔

روس کی جانب سے شام میں صدر بشارالاسد کی زیرسرپرستی حکومتی فورسز کی پشت پناہی کی جارہی ہے۔