وزیر اعلیٰ بلوچستان کا 25 سال کے ترقیاتی پروگرامز کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ

06 مارچ 2019

ای میل

جام کمال خان کے مطابق ہ صوبائی حکومت تعلیم، صحت، صاف پانی اور قانون کے نفاذ کے شعبے پر جاری اسکیموں پر کام کر رہی ہے۔ — فائل فوٹو/ٹوئٹر اکاؤنٹ جام کمال خان
جام کمال خان کے مطابق ہ صوبائی حکومت تعلیم، صحت، صاف پانی اور قانون کے نفاذ کے شعبے پر جاری اسکیموں پر کام کر رہی ہے۔ — فائل فوٹو/ٹوئٹر اکاؤنٹ جام کمال خان

کوئٹہ: بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال خان علیانی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کو صوبے کے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے 25 سال کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرنا چاہیے اور تاکہ ناقص منصوبہ بندی اور غیر قانونی عمل کرنے والوں کو سزا دی جاسکے۔

کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان ہائی کورٹ کے صوبائی پی ایس ڈی پی برائے 2018-19 کے حوالے سے احکامات پر عمل کرے گی۔

مزید پڑھیں: بلوچستان کے 9 ہزار سرکاری اسکول پینے کے صاف پانی، ٹوائلٹ سے محروم

واضح رہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ نے از خود نوٹس میں حکومت کو تعلیم، صحت، پانی، نکاسی آب اور قانون نافذ کرنے کے شعبوں میں موجودہ ترقیاتی منصوبوں پر توجہ مرکوز رکھنے کے احکامات دیے تھے۔

جام کمال کا کہنا تھا کہ کابینہ نے عدالتی احکامات کی تائید کی اور امید کا اظہار کیا کہ عدالت صوبائی حکومت کا عوام کی بہبود کے لیے کام کرنے میں مزید معاونت فراہم کرے گی۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے احکامات پر ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت تعلیم، صحت، صاف پانی اور قانون کے نفاذ کے شعبے پر جاری اسکیموں پر کام کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان: ڈیرہ مراد جمالی میں بم دھماکا، ایک شخص جاں بحق

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ عدالت نے طویل عرصے سے تعطل کا شکار ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ 411 ڈیولپمنٹ اسکیموں پر کام طویل عرصے سے تاخیر کا شکار ہے اور ان میں سے چند 10 سال سے بھی پرانی ہیں اور ان منصوبوں کی مجموعی لاگت تقریباً 37 ارب سے 42 ارب روپے ہے۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 6 مارچ 2019 کو شائع ہوئی