الماس پروین: مردانہ معاشرے میں اپنا مقام بنانے والی ایک کسان

اپ ڈیٹ 10 مارچ 2019

ای میل

الماس پروین ایک ورکشاپ کے موقعے پر—تصویر بشکریہ ذوفین ابراہیم
الماس پروین ایک ورکشاپ کے موقعے پر—تصویر بشکریہ ذوفین ابراہیم

الماس پروین بھلے ہی آپ کو دبلی پتلی سی نظر آئے لیکن وہ اپنے کندھوں پر بھاری ذمہ داری کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔

وہ خود ایک کسان ہے اور دیگر کسانوں کو ٹریننگ دیتی ہے، ایک ایسا گاؤں جسے کسی نام سے نہیں بلکہ نمبر، چک نمبر 224 ای بی، سے پکارا جاتا ہے، اس میں دیگر کسانوں کو تربیت دینا ایک بڑی ذمہ داری سے کم نہیں۔ اس کا فارم صوبہ پنجاب کے تاریخی شہر ملتان سے 100 کلومیٹر دور ضلع وہاڑی میں واقع ہے۔

پروین کئی پہلوؤں سے رواں سال کے عالمی یوم نسواں کے نعرے ‘مساوی سوچو، معقول بنیادیں ڈالو اور تبدیلی کے لیے جدت لاؤ‘ پر پورا اترتی ہیں۔ نعرے کا خلاصہ یہ ہے کہ صنفی برابری حاصل کرنے کی جدوجہد میں خواتین اور لڑکیوں کی جانب سے لڑکیوں اور خواتین کے لیے متعارف کردہ جدت کو شامل کیا جائے۔

مخصوص صنفی کرداروں پر سوال

میں نے اس کے منہ سے پہلی بات یہ سنی کہ، ’کپاس چننے کا کام ہمیشہ ایک عورت کو ہی کیوں کرنا پڑتا ہے؟‘

اس سوال کے اندر پروین نے درحقیقت روایتی صنفی کرداروں پر سوال اٹھایا تھا۔ اب جبکہ پروین خوش ہیں کہ وہ ایک ایسا کام بڑی ہی خوش اسلوبی کے ساتھ کر رہی ہیں جو کہ حسبِ روایت مرد ہی انجام دیتے ہیں، اس لیے اس کے سوال میں مزید گہرائی آجاتی ہے کہ آخر کیوں مرد وہ کام نہیں کرسکتے جسے حسبِ روایت خواتین ہی کرتی آئی ہیں۔

برسا برس سے یہی کہا جاتا رہا ہے کہ کھیتوں میں اگنے والی گیند نما نرم ملائم، روئیں دار کپاس کو صرف خواتین کے نفیس اور نازک ہاتھوں سے ہی چنا جاسکتا ہے۔ پروین اس بات کو ماننے سے انکاری ہیں اور کہتی ہیں کہ، ’یہ تو کام نہ کرنے کا محض ایک بہانہ ہے۔‘

وہ اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر بتاتی ہیں کہ، ’بلاشبہ یہ پیٹھ توڑدینے والا کام ہے جسے انجام دینے کے لیے عورت کی زبردست قوت خرچ ہوتی ہے۔ گاؤں کی خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ گھنٹے کام کرتی ہیں۔‘

ٹریننگ ورکشاپ کے موقعے پر الماس پروین مرد و خواتین فارمرز سے گفتگو کر رہی ہیں—Reed Society
ٹریننگ ورکشاپ کے موقعے پر الماس پروین مرد و خواتین فارمرز سے گفتگو کر رہی ہیں—Reed Society

ان کا یہ تجربہ ایک دوسرے ذرائع کی تحقیق کو درست ثابت کرتا ہے۔ 2018ء میں پاکستان میں دیہی خواتین کی صورتحال پر جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق تقریباً 72 لاکھ دیہی خواتین زراعت کے کاموں میں اپنا حصہ ڈالتی ہیں اس طرح زرعی کام ’خواتین کا خاصہ‘ اور یہ پاکستانی کام کرنے والی خواتین کا ایک سب سے بڑا ذریعہ ملازمت بن چکا ہے۔

مگر ان کے کام کی نوعیت کثیرالجہت ہے، کیونکہ معاشی فائدے کے لیے مشقت اور گھریلو کاموں کے حصے کے طور پر کام (مثلاً لائیو اسٹاک سنبھالنا) اور خاندانی زمینوں پر کام آپس میں کافی گڈمڈ ہیں اور اس لیے ان کی سارے دن کی مشقت کا احاطہ نہیں کیا جاپاتا۔ رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ زرعی شعبے میں خواتین (جو کہ زیادہ تر ڈیری اور لائیو اسٹاک سے وابستہ ہیں) کے لیے کام کے بدلے بہت ہی کم اجرت ملتی ہے، صرف 40 فیصد خواتین کو ملازمت کی اجرت ملتی ہے جبکہ 60 فیصد ایسی خواتین ہیں جو اپنے خاندانی فارموں اور ملکیتوں پر کام کرتی ہیں اور انہیں کسی قسم کی اجرت نہیں ملتی۔

ایک اندازے کے مطابق ان کے کام کی کُل اجرت 683 ارب روپے بنتی ہے، جو کہ تمام خواتین کی جانب سے کی گئی مجموعی مشقت کا 57 فیصد ہے اور اس ملک کی جی ڈی پی کا 2 اعشاریہ 6 فیصد ہے۔

پروین کی زمینوں پر دیگر فصلون کے ساتھ کپاس بھی اگائی جاتی ہے۔ وہ اپنی 23 ایکڑوں پر محیط زمین (جس میں سے 8 ایکڑ ان کی والدہ کے ہیں) کو سنبھالتی ہے۔

خود سے 3 سال بڑے بھائی سمیت ان کا گھرانہ مکئی، گندم، گنا اور کپاس کی فصل اگاتا ہے۔

کام، کام اور کام

’مجھے کھیتی باڑی کا کام پسند ہے، مجھے اپنے ہاتھ مٹی میں گندے کرنا اور نرم مٹی کو اپنے پیروں تلے محسوس کرنا بہت پسند ہے۔ نہ تو مجھے سورج کی تپش پریشان کرتی ہے اور نہ ہی سخت سردی کا موسم۔ مجھے یوں گھر سے باہر کام کرتے رہنا پسند ہے۔‘

23 برس کی عمر اور وہ بھی کنواری، جس کا پروین کے گاؤں میں تصور بھی گوارا نہیں کیا جاتا، مگر اسی گاؤں میں کھیتوں میں ٹریکٹر چلاتی پروین کو دیکھنا اب ایک عام سا نظارہ ہے۔ وہ اپنے حصے کے کام میں کوئی کوتاہی نہیں کرتی اور کام ایسا کہ جس کی کوئی انتہا نہیں۔

کھیتی باڑی کے کام میں کوئی چھٹی نہیں ہوتی—Reed Society
کھیتی باڑی کے کام میں کوئی چھٹی نہیں ہوتی—Reed Society

وہ اپنی فصلوں کو کھاد ڈالتی ہے، اور کیڑے مار دوا کا اسپرے کرتی ہے، اور پانی بھی خود ہی دیتی ہے، پھر چاہے دن کا وقت ہو یا رات کا کوئی پہر۔

وہ کہتی ہے کہ ہمیں نہروں سے وارا بندی (آبپاشی نظام میں دستیاب پانی کی مساوی تقسیم کے لیے پانی فراہمی کا ایک گردشی نظام) کی بنیاد پر پانی فراہم کیا جاتا ہے اس لیے ہمیں ہر 15 دن بعد پانی ملتا ہے۔‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کبھی پانی بیچ میں کبھی آجائے تو یہ صورتحال بھی اسی کو ہی سنبھالنی پڑتی ہے۔

بات محض کام، یا فصل خراب کرتے خارپشتوں، یا سانپوں سے چوکنا رہنے کی ہی نہیں، بلکہ پروین میں موجود تمام معاملات کو سنبھالنے کی خصوصیت اسے دیگر سے ممتاز بناتی ہے۔

شاید وہ اپنے علاقے کی وہ واحد خاتون ہے جو بیج، کھاد، ڈیزل، اور دیگر سامان خریدنے خود منڈی جاتی ہے، جی ہاں منڈی جسے صرف اور صرف مردوں کی جگہ تصور کیا جاتا ہے۔

وہ اپنے اندر کے اعتماد پر زور دیتے ہوئے بڑے ہی تیکھے انداز میں کہتی ہے کہ، ’مجھے کوئی بے وقوف نہیں بناسکتا کیونکہ مجھے ہر اس چیز کی مارکیٹ قیمت پتہ ہے جس کی میں خرید و فروخت کرتی ہوں۔‘

’ایسی کئی خواتین ہیں جو اتنی ہی سخت محنت کرتی ہیں جتنی کہ میں کرتی ہوں لیکن انہیں مجھ جیسی آزادی میسر نہیں، اس لیے فصل کی کٹائی کے بعد پوری فصل اپنے گھر کے مردوں کے حوالے کرتی ہیں اور انہیں اسے بیچ آنے کے لیے کہتی ہیں۔‘

اس کے گھر کے افراد میں اس کے والدین، ایک شادی شدہ بھائی اور دو چھوٹی بہنیں شامل ہیں، لیکن کتنا پیسہ کہاں خرچ کرنا ہے اس کا فیصلہ پروین ہی کرتی ہے۔

وہ کہتی ہے کہ، ’فصل سے ہونے والی کمائی سے سب سے پہلے ہم وہ ضروری سامان خریدتے ہیں جو اگلی فصل کے لیے مطلوب ہوتا ہے۔ جبکہ باقی کے پیسے گھریلو اور دیگر اخراجات میں استعمال ہوتے ہیں۔‘

وہ اپنے گھر کی واحد فرد ہے جس کا بینک اکاؤنٹ ہے اور وہ یہ کہتی ہے کہ ان کا بڑا بھائی ان پر مکمل اعتماد رکھتا ہے۔

کھیتی باڑی کا ایک نیا طریقہ

پروین کے روایتی اصولوں پر سوال اٹھانے کی شدید خواہش کو 2017 میں اس وقت تقویت ملی جب اس نے کھیتی باڑی کی ایک باضابطہ ٹریننگ حاصل کی۔ جس کے ذریعے اسے یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ اس کے پاس جو کچھ، بالخصوص پانی، دستیاب تھا اسے بہتر انداز میں کس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔

’ہم کئی نسلوں سے فلڈ ایریگیشن کے طریقہ کار پر عمل کرتے آرہے تھے اور آج تو یہ سوچ کر دل دہل جاتا ہے کہ ہم نے اس طرح برسا برس سے نہ جانے کتنا پانی ضائع کیا ہوگا۔‘

وہ اب واٹر اسٹیوارڈشپ (یعنی پانی کے حوالے سے خدمات کی فراہمی کا عہد) کی طرف اپنی توجہ مرکوز رکھتی ہیں۔

وہ اسے کچھ اس طرح سمجھاتی ہیں کہ، ’اس کا تعلق پانی کے ٹھیک استعمال سے ہے۔ آپ پانی کو اپنے لیے استعمال تو کرتے ہیں لیکن گہرائی کے ساتھ اس بات کو سمجھیں اور اس حقیقت کو ذہن میں رکھیں کہ، پانی اگلی نسل کی امانت ہے۔‘

انہوں نے پانی کے استعمال کا طریقہ بدل دیا، زمین کو ہموار کیا اور کھاد کا محتاط استعمال سیکھ لیا۔ جب اس کے پڑوسیوں نے پروین کی فصلوں کی پیداوار دیکھی تو ان میں سے متعدد نے اسی طریقے پر عمل کرنا شروع کردیا، جس کے بعد آس پاس کے گاؤں میں بھی کسانوں نے یہی طریقہ اپنانا شروع کردیا۔

اسے ’رورل ایجوکیشن اینڈ اکانومک ڈویلپمنٹ سوسائٹی‘ نامی غیر سرکاری تنظیم سے بطور ’فیلڈ فیسیلیٹر‘ وابستہ ہوئے تقریباً 2 سال گزر چکے ہیں، ’بیٹر کاٹن انی شیٹو‘، جس کا مقصد کپاس کی پیداوار کو اسے اگانے والوں، جس ماحول میں کپاس اگتی ہے اس ماحول کے لیے بہتر بنانا ہے، کے تحت کسانوں کو تربیت فراہم کرنے والی وہ واحد خاتون ٹرینر ہے۔ اب تک وہ 402 مرد و خاتون کسانوں کے پرانے طریقہ چھڑواچکی ہے۔

الماس پروین اپنے گاؤں میں ٹریکٹر چلاتے ہوئے—Reed Society
الماس پروین اپنے گاؤں میں ٹریکٹر چلاتے ہوئے—Reed Society

پروین کا کہنا ہے کہ، ’مثال کے طور پر ایک ایکڑ زمین کو پانی دینے میں کسانوں کو 3 گھنٹے لگتے تھے لیکن اب پہلے کے مقابلے میں نصف وقت ہی لگتا ہے۔ پھر جب نہری پانی کی کمی ہو اور جب انہیں ٹیوب ویلز سے پانی حاصل کرنا پڑتا ہے تو انہیں ان پمپوں کو چلانے کے لیے کم ڈیزل کی ضرورت پڑتی ہے۔‘

کھیتی باڑی کے مختلف نئے طریقوں کی آگاہی دینے کے ساتھ ساتھ اب وہ منصفانہ اجرت کے لیے خود قدم اٹھانے لگی ہے۔

مثلاً، کپاس کی چنائی کے دوران اس نے جن خواتین سے کام لیا انہیں 2017ء میں 250 سے 300 روپے فی 40 کلو کپاس کے حساب کے دیے گئے تھے لیکن اس بار پروین نے انہیں 400 روپے ادا کیے۔

چونکہ وہ بچوں سے مشقت لینے پر عائد بین الاقوامی پابندی کا علم رکھتی ہے اس لیے اس کے کھیت پر بچوں کو کام کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے اور ساتھ ہی ساتھ وہ دیگر کسانوں کو بھی بتاتی ہے کہ کس طرح کیڑے مار دوا اور دیگر غیر محفوط سازو سامان سے بچوں کو ممکنہ طور پر نقصان پہنچ سکتا ہے۔

پروین اب ایک کامیاب انسان ہے مگر پروین کے لیے ان پرخطر راستوں پر چلنا ہمیشہ آسان نہیں رہا جن راستوں پر چلنے کا خود اس نے فیصلہ کیا ہے۔ وہ خوشقسمت ہے کہ اسے ہر قدم پر اس کی حوصلہ افزائی کرنے والے گھروالے ملے ہیں۔ اسے اپنی راہ خود تلاش کرنے میں نہ صرف اس کے بڑے بھائی کے اعتماد نے مدد فراہم کی بلکہ اس میں اس کی والد کی پختہ حمایت بھی شامل ہے جنہوں نے خاندان اور گاؤں والوں کی تنقید کی کوئی پرواہ نہ کی۔

پروین بڑے ہی فخریہ لہجے میں کہتی ہے کہ، ’میرا سفر آسان نہیں رہا ہے لیکن یہ ناممکن بھی نہیں ہے۔‘


یہ مضمون ابتدائی طور پر دی تھرڈ پول ڈاٹ نیٹ پر شائع ہوا، اور بہ اجازت یہاں شائع کیا گیا ہے۔