نریندر مودی کا معروف شخصیات سے ووٹرز کی حوصلہ افزائی کرنے کا مطالبہ

13 مارچ 2019

ای میل

لگاتار 29 ٹویٹس میں مودی نےمعروف شخصیات کواپنی مشہوری کا استعمال کرتے ہوئےعوام کو ووٹ ڈالنےکیلئے متاثرکرنے کا مطالبہ کیا — فائل فوٹو
لگاتار 29 ٹویٹس میں مودی نےمعروف شخصیات کواپنی مشہوری کا استعمال کرتے ہوئےعوام کو ووٹ ڈالنےکیلئے متاثرکرنے کا مطالبہ کیا — فائل فوٹو

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹوئٹر پر بالی وڈ اور کھیل کی نامور شخصیات کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے ان سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی شہرت کا استعمال کرتے ہوئے عوام کو ووٹ ڈالنے پر راغب کریں۔

لگاتار 29 ٹویٹس میں مودی نے مختلف کھلاڑیوں جن میں ویرات کوہلی، دھونی، بالی وڈ کے اداکار رنویر سنگھ اور وکی کوشل سمیت دیگر سے اپنی شہرت کا استعمال کرتے ہوئے عوام کو ووٹ ڈالنے کے لیے متاثر کرنے کا مطالبہ کیا۔

مزید پڑھیں: بھارت میں اپریل سے مئی تک عام انتخابات کا اعلان

ان کا کہنا تھا کہ ’معزز دھونی، ویرات کوہلی، روہت شرما، آپ ہمیشہ کرکٹ کے میدان میں ریکارڈ بناتے ہیں اس بار عام انتخابات میں بھارت کے 1.3 ارب عوام کو ٹرن آؤٹ کا نیا ریکارڈ بنانے لیے متاثر کریں، جب ایسا ہوگا، جمہوریت کی جیت ہوگی‘۔

خیال رہے کہ 2014 میں مودی نے دائیں بازو کی ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی سے انتخابات میں فتح حاصل کرتے ہوئے تقریباً 3 دہائی میں پہلی مرتبہ اکثریتی حکومت بنائی تھی۔

معروف ہونے کے باوجود انہیں 90 کروڑ بھارتی ووٹروں کو 11 اپریل سے 19 مئی تک ہونے والے انتخابات میں ووٹرز کو ووٹ ڈالنے کے لیے آمادہ کرنے کے چیلنج کا سامنا ہے۔

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کی پالیسیاں ناکام ہوگئی ہیں اور وہ اپنے وعدے کے مطابق روزگار دلانے میں ناکام ہوگئے ہیں جبکہ حالیہ سالوں میں کئی قرضوں میں ڈوبے کسانوں نے خودکشی بھی کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: انتخابات میں 'بی جے پی' کو شکست دینے کیلئے سیاسی جماعتوں کا اتحاد

نریندر مودی جن کے ٹوئٹر پر بڑی تعداد میں، 4 کروڑ 63 لاکھ فالوورز ہیں نے اپنے ٹوئٹ میں اپنے سیاسی مخالف راہول گاندھی، جو کانگریس کے سربراہ بھی ہیں، کو بھی مخاطب کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ٹرن آوٹ کا زیادہ ہونا ہماری جمہوریت کو مزید خوبصورت بنائے گا‘۔

بالی وڈ کے ستاروں رنویر سنگھ اور کوشل کو مخاطب کرتے ہوئے مودی نے ان ہی کی کامیاب فلم ’گلی بوائے‘ اور اڑی: دی سرجیکل اسٹرائیک‘ کے ڈائیلاگ کو استعمال کیا اور کہا کہ وہ نوجوانوں کو ان کا ووٹنگ کا حق استعمال کرنے کے لیے متاثر کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ وقت ہے کہ نوجوانوں کو بتایا جائے: اپنا ٹائم آ گیا ہے اور یہ وقت ہے کہ آپ کے قریب ووٹنگ سینٹر پر جوش ہو‘۔

خیال رہے کہ بھارت کے عام انتخابات 11 اپریل سے 19 مئی تک سات مرحلوں میں ہوں گے، جن کے نتائج کا اعلان 23 مئی کو کیا جائے گا۔