آپ کی وہ عام عادت جو زندگی کو مختصر بنادے

28 مارچ 2019

ای میل

یہ عادت صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ عادت صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے — شٹر اسٹاک فوٹو

دنیا کا کونسا شخص ہے جو کھانے پینے کے بغیر رہ سکتا ہو؟ کچھ دن بھی ان سے دوری موت کو گلے لگانے کے مترادف ہوسکتی ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ جو کچھ آپ کھاتے ہیں وہ جسم پر کیسے اثرانداز ہوتا ہے؟

کم از کم طبی سائنس کی دنیا میں تو اکثر نت نئی رپورٹس سامنے آتی رہتی ہیں جس میں غذا اور جسم کے تال میل کے دلچسپ حالات بیان کیے جاتے ہیں جو اکثر افراد کو معلوم بھی نہیں ہوتے۔

مگر ایک عادت ایسی ہے جو بیشتر افراد میں پائی جاتی ہے اور وہ ہے اپنا کھانا بہت تیزی سے ختم کرنا یا اچھی طرح چبائے بغیر نگل لینا جو کہ صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔

تیز کھانے کے نقصانات

جب آپ کھانا بہت تیزی سے کھاتے ہیں اور نوالے اچھی طرح چبائے بغیر نگلتے ہیں تو نظام ہاضمہ اس کا ساتھ نہیں دے پاتا اور آپ حد سے زیادہ کھالیتے ہیں جس کا نتیجہ وقت کے ساتھ موٹاپے کی شکل میں نکلتا ہے جو کہ آگے بڑھ کر ذیابیطس کی شکل بھی اختیار کرسکتا ہے جبکہ یہ عادت سینے میں جلن، امراض قلب اور فالج جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

نوالے اچھی طرح چبانا کس حد تک فائدہ مند؟

جب آپ سست روی سے کھانا کھاتے ہیں یعنی کم از کم 20 منٹ اس کام کے لیے لگاتے ہیں تو اس سے غذائی نالی کو خوراک ہضم کرنے کا عمل شروع کرنے کا موقع ملتا ہے۔

زیادہ تیزی سے کھانے سے ہوا بھی معدے میں چلی جاتی ہے اور پیٹ پھول جاتا ہے جس سے معدے میں تیزابیت کی شکایت بھی پیدا ہوتی ہے جبکہ گیس بھی ہوجاتی ہے۔

خوراک کو مناسب طریقے سے چبا کر نگلنا جسمانی وزن میں کمی کا آسان ترین نسخہ بھی ہے۔ ٹیکساس کرسٹین یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق آہستگی سے کھانے اور چھوٹے لقمے لینے سے لوگوں کو کھانے کے کچھ دیر بعد بھوک کا احساس کم ہوتا ہے۔

اسی طرح جو لوگ سست روی سے کھاتے ہیں وہ زیادہ پانی بھی پیتے ہیں جس سے انہیں طبیعت سیر ہونے کا احساس زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیق کے دوران کھانے کی رفتار اور کیلیوریز لینے کے عمل کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا، جس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ آہستہ کھانے والے افراد اوسطاً تیزی سے کھانے والوں کے مقابلے میں 88 کیلیوریز کم استعمال کرتے ہیں۔

نوالہ کتنی بار چبانا چاہئے؟

چبانا نظام ہاضمہ کے لیے انتہائی اہم عمل ہے، یعنی غذا کو جتنی اچھی طرح چبائیں گے، ہاضمے کے لیے اسے توانائی میں تبدیل کرنا اتنا ہی آسان ہوگا، تو اگر آپ چند بار چبا کر ہی نوالے کو حلق سے اتار لیتے ہیں تو اس عادت کے نتیجے میں جسم کے لیے غذا کے ٹکڑے کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اور جسمانی توانائی کا ضیاع ہوتا ہے۔ ویسے تو ایک نوالے کو کتنی بار چبایا جائے، اس کی کوئی مثالی تعداد تو واضح نہیں، تاہم نوالے کو کم از کم 25 سے 40 بار چبانا چاہئے۔

سست روی سے کھانا خوراک کا لطف بھی زیادہ بڑھا دیتا ہے جبکہ گیس اور پیٹ پھولنے کا مسئلہ بھی پیدا نہیں ہوتا۔