’اردو میڈیم‘ نہیں، صرف ’انگلش میڈیم‘!

30 مارچ 2019

ای میل

اگر آپ کراچی کے کسی مہنگے ریسٹورینٹ میں کھانا کھانے جائیں تو اکثر و بیشتر آس پاس کی میزوں پر بیٹھے لوگوں کے درمیان جاری گفتگو کی زبان انگریزی پائیں گے۔

یہی حال ڈیفنس اور کلفٹن کے نامور بڑے بڑے آئس کریم پارلر اور قہوہ خانوں کا ہے جہاں بچے کہیں کم تو کہیں زیادہ روانی کے ساتھ انگریزی بولتے نظر آتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح بڑے بڑے کارپوریٹ دفاتر میں ایگزیکیٹو سطح کے عملے پر تو جیسے کسی غیر تحریری حکم نامے کے تحت اردو بولنے پر پابندی عائد کی گئی ہو۔

تو بھئی پاکستان میں آخر کیا ہو رہا ہے کہ جس نے 72 برس قبل برطانوی حکومت سے آزادی حاصل کی تھی؟ کسی دور میں ہم پر حکمرانی کرنے والے کلونیل آقاؤں کے یہاں سے کوچ کرجانے کے بعد بھی ان کی زبان کا استعمال بڑھتا کیوں جا رہا ہے؟ اس رجحان نے ہماری قومی و علاقائی زبانوں کو کنارے سے لگا دیا ہے جبکہ تخلیقی صلاحیتوں کو بھی کمزور کردیا ہے۔

دوستوں سے گفت و شنید کے دوران ہم لاشعوری طور پر اردو سے انگریزی بولنا شروع کردیتے ہیں اور پھر جب کوئی ٹھیک لفظ نہیں مل رہا ہوتا تب دوبارہ پہلے والی زبان میں بولنا شروع کردیتے ہیں۔ مجھے یہاں یہ اقرار کرنے دیجیے کہ میں اس مرض کا بڑا شکار ہوں۔ مجھے یاد ہے کہ برسوں قبل جب میں ایک مشنیری اسکول سینٹ پیٹرکس میں زیرِ تعلیم تھا تو ان دنوں وقفے کے دوران اپنے دوستوں سے اردو زبان میں بات کرنے پر 4 آنے (یعنی 25 پیسے) جرمانہ عائد کیا جاتا تھا۔

ایک دن کراچی کے زم زمہ روڈ پر خمیری روٹی خرید رہا تھا کہ قریب 10 سالہ ایک کم عمر لڑکا میرے پاس آیا اور بچوں کی ایک کتاب خریدنے کے لیے کہا۔ اس عمر کے بچوں کو دیکھنا اگرچہ معمول ہی بن چکا ہے، مگر اس دن انوکھی بات یہ تھی کہ وہ مجھے کتاب خریدنے کے لیے قائل کرنے کی غرض سے انگریزی زبان کا استعمال کر رہا تھا، حالانکہ وہ واضح طور پر متوسط طبقے کے کسی گھرانے سے تعلق رکھنے والا بچہ تھا، اور اس بات کا تو بہت ہی معمولی امکان ہے کہ اس نے کسی نجی اسکول سے تعلیم حاصل کی ہوگی۔

یہ بات تو عیاں ہے کہ انگریزی کو اعلی سطح پر زبانِ مقتدر کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ امیر والدین کے بچوں کے درمیان ’اردو میڈیم‘ کو تو تقریباً ہتک آمیز سمجھا جاتا ہے۔ بچے ابتدا سے ہی یہ سمجھنا شروع کردیتے ہیں کہ اردو وہ زبان ہے جو ملازمین کو اپنا حکم دینے کے لیے استعمال کی جاتی ہے جبکہ انگریزی زبان وہ ہے کہ جو والدین اور دوست و عزیز اقارب سے مخاطب ہونے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

غریب والدین تک بھی یہ پیغام پہنچتا ہے، اور وہ اپنے معمولی وسائل کا ایک بڑا حصہ اپنے بچوں کو برائے نام ’انگلش میڈیم‘ اسکول میں پڑھانے کے لیے قربان کردیتے ہیں۔ تاہم، ایسے بہت ہی کم ادارے موجود ہیں جو درست انگریزی کی تعلیم فراہم کرتے ہیں، لیکن وہ اس قدر زیادہ فیس طلب کرتے ہیں جن کی ادائیگی زیادہ تر والدین کے بس سے باہر ہوتی ہے۔

لیکن اگر آپ اتنے خوش نصیب رہے ہیں کہ زبانی انگلش پر کسی حد تک عبور کے ساتھ گریجویشن کی ہے تو آپ کے لیے موقعوں کے کئی دروازے کھلے ہیں۔ ذہانت کو بہت ہی کم اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ اگر آپ روانی کے ساتھ انگریزی بول سکتے ہیں تو نہ صرف آپ ذہین و فطین ہیں بلکہ ایک ایسے گھرانے سے بھی تعلق رکھتے ہیں جس کے اہم لوگوں کے ساتھ تعلقات قائم ہیں۔ لہٰذا آپ ایک امتیازی فائدے کے ساتھ زندگی کی ابتدا کرتے ہیں اور ان کم خوش نصیب لوگوں کو خود سے کم تر سمجھتے ہیں جن کا لہجہ انہیں ’اردو میڈیم‘ کی شناخت بخش دیتا ہے۔

اگر وہ کم خوش نصیب افراد آپ سے انگریزی زبان میں مخاطب ہونے کا گمان بھی کریں تو قوی امکان ہے کہ آپ ان سے اردو میں ہی جواب دے کر انہیں ان کی حیثیت یاد دلانے کی کوشش کریں گے۔

اس قسم کا لسانی تکبر ہمارے معاشرے کو اس انداز میں تقسیم کرتا ہے، جو انداز برطانوی سماج کی تقسیم میں نظر آتا ہے۔ یہاں، ایٹون (Eton) اور ہیرو (Harrow) جیسے کسی مہنگے نجی بورڈنگ اسکولوں میں آنے سے نہ صرف آپ کا لہجہ درست ہوتا ہے بلکہ آپ ایک خاص اندازِ فکر و عمل بھی سیکھ جاتے ہیں جس سے فوراً یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے ایک اشرافیہ اسکول سے تعلیم حاصل کی ہوئی ہے۔ یہ خصوصی حیثیت دلوانے کے لیے والدین اپنے گھر تک گروی رکھنے پر تیار ہوجائیں گے تاکہ اپنے بچوں کے لیے اس برتری کو یقینی بنایا جاسکے۔

انگریزی زبان میں روانی کے فائدے تو واضح ہیں مگر اس کے باوجود اس زبان کی تعلیم اور استعمال کے ارد گرد کافی زیادہ کنفیوژن اور منافقت نظر آتی ہے۔ ہمارے پالیسی ساز اور نمائندگانِ عامہ اردو کے استعمال کی ستائش کرتے ہیں اور اس کی ترقی کے لیے زبانی کلامی خدمت کرتے ہیں۔ مگر بھوجیے کہ ان کی اپنی اولادوں نے کہاں سے تعلیم کی ہے؟ حتیٰ کہ ہمارے ہاں سینئر کلرک بھی اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا بھیجے جانے کے لیے مشہور ہیں جبکہ عام زندگی میں وہ پرجوش انداز میں امریکا مخالف نعرے لگا رہے ہوتے ہیں۔

لاہور کے ایچیسن کالج اور کراچی کے گرامر اسکول جیسے اسکولوں میں داخلہ جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ ایک طالب علم کی خالی جگہ پر بھی ڈھیروں درخواستیں بھیجی جاتی ہیں اور محض 5 برس کے کمسن بچوں سے بھی امتحان لیا جاتا ہے کہ کون سا بچہ اسکول کے لیے موزوں ہے اور کون نہیں، البتہ اس قدر کمسن بچے سے کس علم کی توقع کی جاتی ہے یہ میری سمجھ سے تو باہر ہے۔ مگر صرف یہ یقینی بنانے کے لیے کہ ان کے والدین ’درست‘ قسم کے ہیں، انہیں انٹرویو کے لیے بھی طلب کیا جاتا ہے۔

ایک بار اسکول میں داخلہ ہوگیا تو بچے کی پوری زندگی کا نقشہ سا تیار ہوجاتا ہے کہ آگے جاکر وہ گریجویشن کسی امریکی یونیورسٹی سے کرے گا، اس کے بعد کسی اچھی، بلکہ ترجیحی طور پر کسی ملٹی نیشنل کارپوریشن یا پھر والد کی کمپنی میں ملازمت کی باری آئے گی، کسی ہم پلہ پس منظر سے تعلق رکھنے والے یا والی سے شادی کی جائے گی اور پھر اپنے بچوں کا کسی اشرافیہ اسکول میں داخلہ یقینی بنانے کی جدوجہد کا مرحلہ شروع کیا جائے گا۔

مگر اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے چھوٹے بچے کی اس پروگرام شدہ زندگی کے سلسلے کے درمیان ایسے ذہین بچے جو منہ میں چاندی کا جمچ لیے پیدا نہیں ہوتے کہ جس پر امرا کے بچے اپنا ازلی حق سمجھتے ہیں، انہیں ایک طرف کردینے سے ہم بہت بڑا نقصان اٹھاتے ہیں۔ کنارے سے لگے یہ افراد انگریزی سے ہمارے لگاؤ کی وجہ سے بننے والی گہری دراڑوں میں پھنسے رہتے ہیں۔

یوں ہم نے نہ صرف خواتین اور اقلیتوں کو اہم جگہوں سے دُور رکھا ہوا ہے بلکہ انگریزی کو زیادہ سے زیادہ فوقیت دے کر باصلاحیت افراد کے مجموعے یا ٹیلنٹ پول کو محدود سے محدود تر کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ایسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جہاں زیادہ تر بچے اردو یا انگریزی میں سے کسی ایک زبان پر مناسب حد تک عبور حاصل کیے بغیر اسکول سے فارغ ہوتے ہیں اور لامحالہ ہم اپنے ثقافتی ورثے کے ایک اہم حصے سے محروم ہوجاتے ہیں۔


یہ مضمون 30 مارچ 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔