افغانستان: طالبان کے حملے میں 9 اہلکار ہلاک، 62 زخمی

13 اپريل 2019

ای میل

طالبان کی جانب سے نئی کارروائیاں شروع کرنے کے اعلان کے بعد حملوں کاسلسلہ شروع ہوا—فوٹو:رائٹرز
طالبان کی جانب سے نئی کارروائیاں شروع کرنے کے اعلان کے بعد حملوں کاسلسلہ شروع ہوا—فوٹو:رائٹرز

امریکا اور طالبان کے درمیان امن کے لیے مذاکرات کے باوجود افغانستان میں ایک دوسرے پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے جہاں حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی شہر کندوز میں طالبان کے حملے میں 8 افراد جاں بحق اور 62 زخمی ہوگئے ہیں۔

خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق کندوز کے ہسپتال کے سربراہ نعیم مینگل کا کہنا تھا کہ کم ازکم 8 افراد جاں بحق ہوئے اور 62 افراد زخمی ہیں۔

کندوز میں طالبان نے 2015 میں اپنی طاقت دوبارہ حاصل کی تھی اور 2001 کے بعد پہلی مرتبہ اہم شہر میں ان کا اثر رسوخ بھی قائم ہوگیا تھا۔

دارالحکومت کابل میں بھی کئی ہفتوں بعد مرکزی پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا گیا۔

مزید پڑھیں:افغان امن عمل کے باوجود طالبان کا موسم بہار میں جارحانہ کارروائیوں کا اعلان

وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی کا کہنا تھا کہ فوجی گاڑی پر دو ہینڈ گرینیڈ سے حملہ کیا گیا تھا جس میں کم ازکم ایک جاں بحق اور دیگر 6 اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

فوری طور پر کسی کی جانب سے ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔

خیال رہے کہ افغانستان میں 18 سالہ جنگ کے بعد امریکا اور طالبان امن عمل کے لیے براہ راست مذاکرات کررہے ہیں جس کے لیے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طویل مذاکرات ہوئے ور رواں ماہ کے آخر میں ایک مرتبہ پھر دونوں فریقین متوقع طور پر ملاقات کریں گی۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا-طالبان مذاکرات میں 'بڑی کامیابی' کا دعویٰ

افغانستان کے مغربی صوبے غور کے گورنر کے ترجمان عبدالحئی خطینی کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز طالبان اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ میں کم ازکم 7 اہلکار مارے گئے۔

طالبان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ انہوں نے صوبہ ننگرہار کے ضلع شیراز میں ٹرک بم دھماکا کیا جس میں 200 فوجیوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی اور زخمی بھی ہیں۔

گورنر ننگرہار کے ترجمان عطااللہ خوغیانی کا کہنا تھا ک طالبان کے حملے میں دو افغان فوجی مارے گئے جبکہ جوابی کارروائی میں 27 طالبان جنگجو بھی نشانہ بنے۔

افغانستان میں حملوں کا سلسلہ طالبان کی جانب سے نئی کارروائیوں کے آغاز کے اعلان کے بعد شروع ہوا ہے۔