’حکومتی غلطیوں کی وجہ سے ہم دنیا میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے‘

اپ ڈیٹ 23 اپريل 2019

ای میل

اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کے اراکین اسپیکر ڈائس کے قریب جمع ہوگئے اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں — فوٹو: ڈان نیوز
اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کے اراکین اسپیکر ڈائس کے قریب جمع ہوگئے اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں — فوٹو: ڈان نیوز

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان کے دورۂ ایران کے دوران دیے جانے والے دہشت گردی سے متعلق بیان پر اپوزیشن کی جانب سے شدید ہنگامہ آرائی کی گئی جبکہ اس دوران ایوان کی کارروائی کو روکا بھی گیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی زیرصدارت ہوا، تاہم گزشتہ روز کی طرح یہ دن بھی شور شرابے کی نذر ہوگیا، اپوزیشن ارکان نے اسپیکر ڈائس کے سامنے گھیراؤ کیا اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔

پیپلز پارٹی کی حنا ربانی کھر اجلاس کے دوران تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کہیں بھی نہیں ہوتا کہ کوئی ملک کو ٹھیک کرنے کی بات کرے اور آپ اسی شخص کو ملک دشمن قرار دیں۔

وزیراعظم کے حالیہ دورہ ایران پر بات کرتے ہوئے حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ ہمارے منتخب وزیراعظم اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ ماضی میں ہماری سرزمین پڑوسی ملک میں دہشت گردی کے خلاف استعمال ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں: وزیروں کو نکال کر عمران خان اپنی ناکامی نہیں چھپا سکتے، بلاول بھٹو

انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی اپنے لیے نہیں بلکہ پاکستان کا مذاق بنتے دیکھ کر پریشان ہے، حکومت کو ملک کی قسمت کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے حنا ربانی کھر نے کہا کہ موجودہ حکومت کی غلطیوں کی وجہ سے ہم دنیا میں منہ دکھانے کے لیے قابل نہیں رہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو ریاستی امور چلانے کے لیے اگر ٹریننگ چاہیے تو وہ پہلے ٹریننگ حاصل کرلیں اور پھر دوبارہ منتخب ہوں، لیکن اس ملک کو مزید شرمندہ نہ کریں۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ نریندر مودی نے ریاستی دہشت گردی کو استعمال کرتے ہوئے کشمیر میں قتل عام کیا جبکہ اس پر پاکستان کا وزیراعظم کہہ رہا ہے کہ مودی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد مسئلہ کشمیر حل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم عمران خان کا ایران میں دوسرا روز

حنا ربانی کھر کی تقریر کے جواب میں وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید نے تقریر کرنی تھی مگر اس دوران اپوزیشن کے شور شرابے کی وجہ سے انہیں پہلے تقریر کرنے نہیں دی گئی تاہم اس کے بعد انہوں نے شور شرابے کے دوران ہی اپنی تقریر کی۔

مراد سعید کی بلاول پر تنقید، پی پی پی اراکین کی ہنگامہ آرائی

حنا ربانی کھر کی تقریر کے جواب میں مراد سعید نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مودی کو اپنے نواسے کی شادی پر گھر کس نے بلایا؟ جندال کی مری میں کس کے ساتھ ملاقات ہوئی؟ کون سا وزیراعظم کلبھوشن کا نام لینے سے شرماتا تھا؟

مراد سعید نے پیپلز پارٹی کو بھی آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ وہ حسین حقانی جو پاکستان کے خلاف زہر اگلتا تھا، اس کو پیپلزپارٹی نے امریکا میں پاکستان کا سفیر لگایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جب پاکستان نے بھارت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا تو اس وقت بلاول بھٹو نے بھارت کا مقدمہ لڑا۔

مزید پڑھیں: 'تحریک چلانے کی ضرورت نہیں، حکومت خود اپنے بوجھ سے گر جائے گی'

بلاول کے خلاف تقریر کرنے پر پیپلزپارٹی اراکین نے مراد سعید کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کیا، اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔

وزیراعظم اپنے بیان پر ایوان کو آگاہ کریں، خرم دستگیر

اس سے قبل قومی اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر نے وزیراعظم کی جانب سے ایران میں دیے جانے والے بیان پر مطالبہ کیا کہ وزیراعظم اپنے بیان کے حوالے سے ایوان کو آگاہ کریں۔

سابق وزیرِ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے ایران میں جو بیان دیا وہ انتہائی تشویش ناک ہے اور یہ پاکستان کو بیک فٹ پر لے جانے کے مترادف ہے۔

خرم دستگیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیراعظم نے اس سے قبل بھی اسی طرح کا بیان نیویارک ٹائمز کو دیا تھا، تاہم ہمارا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم اپنے اس بیان پر ایوان کو آگاہ کریں۔

وزیراعظم کے بیان کا ایک حصہ دکھایا جارہا ہے، شیریں مزاری

وفاقی وزیرانسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے اپنی تقریر کے دوران وزیراعظم عمران خان کے بیان کی وضاحت پیش کی۔

ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے دہشت گردی کے لیے پاکستانی سرزمین استعمال کرنے کے بیان کو مکمل طور پر نہیں دیکھا گیا اس کا صرف ایک حصہ دیکھا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پڑوسی ملک کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے دوسرا پڑوسی دہشت گردی کروارہا ہے، جس کی مثال حال ہی میں کوسٹل ہائی وے پر پیش آنے والے واقعات ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم عمران خان اور عثمان بزدار ایک پیج پر ہیں، فردوس عاشق اعوان

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کو سرحد کے دونوں جانب کالعدم تنظیموں کو ختم کرنا ہے، دونوں ممالک کے درمیان اس سے متعلق ایک معاہدہ ہوا ہے۔

ڈاکٹر شیریں مزاری نے مسلم لیگ (ن) کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ مودی کے ساتھ ڈیل مسلم لیگ (ن) نے کی تھی اور یہ وہی مودی ہے جو رائے ونڈ آیا تھا، اسی لیے یہ جماعت پہلے اپنے گریبان میں جھانکے۔

ملکی معیشت کو سود سے پاک کرنے کا بل پیش

جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی عبدالاکبر چترالی کی جانب سے ملکی معیشت کو سود سے پاک کرنے کے لیے 11 اراکین کی جانب سے تیارہ کردہ مجودہ بل اسمبلی میں پیش کیا گیا۔

عبدالاکبر چترالی نے بل میں موقف اختیار کیا کہ ’پورا پاکستان اپنے سودی نظام کی وجہ سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ میں مصروف ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ سود کے خاتمے کے بغیر ہم کوئی جنگ جیت نہیں سکتے، ہم اربوں ڈالرز صرف سود کی مد میں دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: جرمنی کا پڑوسی فرانس یا جاپان؟ پی ٹی آئی رہنماؤں کے متضاد بیانات

جماعت اسمبلی کے رکن اسمبلی کا اپنے بل میں کہنا تھا کہ ریاست مدینہ اور سود ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے کیونکہ ریاست مدینہ میں سود سب سے پہلے ختم کیا گیا۔

وزیر قانون فروغ نسیم نے بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ربا کے حرام ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت اسلامی نظریاتی کونسل اور علما کرام کی رہنمائی میں آگے بڑھنا چاہتی ہے اور ملک میں اسلام نظام کا نفاذ چاہتی ہے۔

وزیرقانون نے بل کو قائمہ کمیٹی کو بھیجنے کی سفارش کی جس کے بعد اسے کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔

پنجاب کو تین صوبوں میں تقسیم کرنے کا معاملہ

صوبہ پنجاب کو 3 صوبوں میں تقسیم کرنے کا معاملہ پھر قومی اسمبلی میں اٹھ گیا جہاں، مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی رانا ثنااللہ، احسن اقبال، رانا تنویر حسین اور نجیب الدین اویسی نے بہاولپور اور جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کا مجوزہ بل پیش کیا۔

لیگی اراکین کا کہنا تھا کہ الیکشن سے قبل سیاسی ایشو کے طورپر صوبہ جنوبی پنجاب کے قیام کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔

ادھر پاکستان پیپلز پارٹی 3 کے بجائے صرف 2 صوبوں کے قیام کی حمایت کردی اور اس معاملے میں تحریک انصاف کے ساتھ ایک پیش پر ہے۔

تحریک انصاف کے رکن اسمبلی ملک عامر ڈوگر نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) پنجاب میں نیا صوبہ نہیں بنانا چاہتی بلکہ صرف سازش کرنا چاہتی ہے۔

ملک میں نئے صوبے کے قیام کی گفتگو کے دوران متحدہ قومی مومنٹ کے رکن اسمبلی اقبال محمد کا کہنا تھا کہ پنجاب کی طرح سندھ میں انتظامی بنیادوں پر 2 صوبے بنائے جائیں جس پر پیپلز پارٹی کے اراکین نے شدید ہنگامہ آرائی کی۔