چین کے ساتھ نئے آزادانہ تجارتی معاہدے سے برآمدات 50 کروڑ ڈالر تک بڑھنے کا امکان

اپ ڈیٹ 24 اپريل 2019

ای میل

چین-پاکستان ایف ٹی اے کے دوسرے مرحلے پر عمران خان دورہ بیجنگ میں دستخط کریں گے—فائل فوٹو: اے ایف پی
چین-پاکستان ایف ٹی اے کے دوسرے مرحلے پر عمران خان دورہ بیجنگ میں دستخط کریں گے—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت اور ٹیکسٹائل عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ چین-پاکستان آزادانہ تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے دوسرے مرحلے میں شامل 313 اشیا کی نئی فہرست کے تحت ملک کی برآمدی آمدنی 18 ماہ کی مدت میں 50 کروڑ ڈالر تک بڑھ سکتی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ نئی فہرست ٹیکسٹائل کی مخصوص مصنوعات کے لیے محدود نہیں ہے بلکہ اس میں ٹیکسٹائل کا سامان، چمڑا، انجینئرنگ، کیمیکل، فرنیچر، آٹو پارٹس، پلاسٹک، ربڑ، پیپر بورڈ، سرامک، گلاس، آلات جراحی، جوتے، لکڑی، مختلف اقسام کے پتھر، سمندری خوراک، گوشت، ٹریکٹرز اور گھریلو آلات وغیرہ شامل ہیں۔

واضح رہے کہ چین-پاکستان ایف ٹی اے کے دوسرے مرحلے پر وزیر اعظم عمران خان کے دورہ چین کے درمیان 28 اپریل کو بیجنگ میں دستخط ہوں گے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم چین سے آزادانہ تجارت کا معاہدہ کرنے جارہے ہیں، فردوس عاشق

عبدالرزاق داؤد کا کہنا تھا کہ بیجنگ دنیا بھر سے ان اشیا کی تقریباً 64 ارب ڈالر کی درآمدات کرتا ہے اور اگر پاکستان مارکیٹ شیئر کا صرف 10 فیصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پاکستان کی چین کو برآمدات 6 ارب ڈالر تک بڑھ سکتی ہے۔

چین کی پاکستان کے لیے برآمدات سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ ’ہم موجودہ 35 فیصد سے ٹیرف لائن کو 15 سال کی مدت کے لیے 80 فیصد تک کھول رہے ہیں‘۔

دوران گفتگو 2007 میں قابل عمل ہونے والے پاک چین ایف ٹی اے کے پہلے مرحلے کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس میں مناسب حفاظتی اقدامات کی کمی تھی اور اب ہماری درخواست پر چینی انتظامیہ نے دوسرے مرحلے میں ان اقدامات کو شامل کیا ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر رہے کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی ایف ٹی اے کے دوسرے مرحلے کو منظور کرلیا گیا ہے جو چینی حکومت کی جانب سے باقی چیزیں مکمل کرنے کے بعد فعال ہوجائے گا۔

عبدالرزاق داؤد نے واضح کیا کہ ٹیرف لائنز کا تقریباً 95 فیصد ای ڈی ای کے تحت آئے گا، جس میں ہر چیز پوری ہوگی، اس سلسلے میں انہوں نے سیکریٹری خزانہ محمد یونس دھاگا اور ان کی ان کی ٹیم کی جانب سے بطور سیکریٹری تجارت کیے گئے سخت کام کو سراہا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں تجارتی مقاصد کیلئے چینی کرنسی کو گرین سگنل

انہوں نے کہا کہ اصل چیلنج درآمد اور برآمد دونوں طرف ہے، سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ درآمدات کس طرح کم کی جائے۔

پاکستان اور چین کے درمیان 15 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیجنگ سے درآمدات کو کم کرنے کے اقدامات اٹھائے ہیں اور ’ہم نے گزشتہ برس کے مقابلے میں ساڑھے 3 ارب ڈالر تک چین سے بلک برآمدات کو کم کردیا‘۔

اس موقع پر مشیر تجارت نے مارچ کے برآمدی اعداد و شمار پر مایوسی کا اظہار کیا لیکن ساتھ ہی امید ظاہر کی کہ اپریل میں اس میں اضافہ ہوگا۔