شام میں دھماکے سے شہریوں سمیت 15 افراد جاں بحق

24 اپريل 2019

ای میل

ادلب کے ایک قصبے میں چار منزلہ عمارت میں دھماکا ہوا—فوٹو: اے ایف پی
ادلب کے ایک قصبے میں چار منزلہ عمارت میں دھماکا ہوا—فوٹو: اے ایف پی

شام کے صوبے ادلب میں ایک عمارت میں زور دار دھماکے سے عام شہریوں سمیت 15 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے۔

خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ادلب کے قصبے جسرالشغور میں 4 منزلہ عمارت میں دھماکا ہوا اور قریبی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

شام میں کام کرنے والی ایک تنظیم کے مطابق ادلب کے اس علاقے میں ماضی میں القاعدہ سے منسلک رہنے والے گروپ کا کنٹرول ہے۔

دھماکے کے بعد رضاکار تنظمیوں کی جانب سے امدادی کام شروع کردیا گیا ہے اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کا کام جاری ہے۔

شام میں موجود برطانوی تنظیم کا کہنا ہے کہ دھماکوں میں 15 شہری جاں بحق ہوچکے ہیں تاہم دھماکا کس وجہ سے ہوا، اس حوالے سے معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

تنظیم کے سربراہ رامی عبدالرحمٰن کا کہنا تھا کہ 'دھماکا مارکیٹ کے برابر میں ہوا جہاں ایک غیرملکی جنگجو اور ان کی بیٹی بھی نشانہ بنیں'۔

قبل ازیں انہوں نے کہا تھا کہ یہ کار بم دھماکا یا کسی گاڑی میں نصب کردہ مواد پھٹنے کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے لیکن مقامی سول ڈیفنس یونٹ کے سربراہ عبدالوہاب العبدو کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتے کہ اس دھماکے کی وجہ کیا تھی۔

عبدالوہاب العبدو نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ 13 شہری جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ ایک مقامی شہری کا کہنا تھا کہ ان کے گھر سے 50 میٹر کے فاصلے پر زور دار دھماکا ہوا تھا۔

شہری کا کہنا تھا کہ دھماکے کی آواز سنتے ہیں ہم جائے وقوع پر پہنچے تو وہاں پر امدادی ٹیمیں کام میں مصروف تھیں اور زخمیوں کو نکالا جارہا تھا۔

دھماکے کی جگہ پر انسانی اعضا بکھرے ہوئے ہیں جبکہ امدادی تنظمیں عمارت کے ملبے کو اٹھا رہی ہیں۔

یاد رہے کہ ادلب میں حیات التحریر شام کے زیر تسلط ہے جو القاعدہ سے منسلک سابق النصرہ سے الگ ہونے والا گروپ ہے۔

گزشتہ برس ستمبر میں روسی اتحادی شامی حکومت اور ترک حمایت یافتہ گروپ کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد ایک بڑے حصے پر حکومت کا کنٹرول ہے لیکن جنوری میں حیات التحریر شام نے دوبارہ اپنا اثر رسوخ بڑھایا ہے جس کے بعد ایک مرتبہ پھر 30 لاکھ آبادی پر مشتمل خطے میں سیکیورٹی صورت حال مسلسل ابتری کی جانب گامزن ہے۔

شامی حکومت کے اتحاد کی جانب سے گزشتہ روز خان شیخون میں بمباری کی گئی تھی جہاں4 بچوں سمیت 7 شہری جاں بحق ہوگئے تھے۔

خیال رہے کہ شام میں 2011 میں حکومت کے خلاف مظاہروں کے نتیجے میں شروع ہونے والی خانہ جنگی میں اب تک 3 لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد مارے گئے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں نقل مکانی کر چکے ہیں یا بے گھر ہیں۔