آئی ایم ایف پروگرام: حکومت بجلی، گیس مہنگی کرنے اور نئے ٹیکس لگانے کیلئے تیار

اپ ڈیٹ 09 مئ 2019

ای میل

آئی ایم ایف اور حکومت نے مالی سال 20-2019 کے لیے 11 ارب ڈالر کے مالیاتی خلا کو پر کرنے کے لیے بات چیت کی —فائل فوٹو/اے ایف پی
آئی ایم ایف اور حکومت نے مالی سال 20-2019 کے لیے 11 ارب ڈالر کے مالیاتی خلا کو پر کرنے کے لیے بات چیت کی —فائل فوٹو/اے ایف پی

اسلام آباد: پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مابین عملے کی سطح پر ہونے والے سمجھوتے کی تکیمل جمعے تک متوقع ہے جس میں دونوں فریقین 2 سال کے عرصے میں 700 ارب روپے کی ٹیکس میں دی گئی چھوٹ ختم کرنے پر راضی ہوگئے ہیں۔

ملاقات میں دونوں اطراف نے مالی سال 20-2019 کے لیے 11 ارب ڈالر کے مالیاتی خلا کو پر کرنے کے لیے بات چیت کی۔

سمجھوتے کے تحت حکومت مالی سال 20-2019 کے بجٹ میں مختلف مد میں دیے گئے ٹیکس استثنٰی کو ختم کرنے کا آغاز کرے گی جو تقریباً 350 ارب روپے کے برابر ہے۔

اس کے علاوہ دونوں فریقین نے اس بات پر بھی رضا مندی کا اظہار کیا کہ پاکستان آئندہ بجٹ میں صارفین کے لیے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردے گا۔

اس کے علاوہ اس بات پر بھی سمجھوتہ طے پایا کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو خودمختار بنایا جائے گا اور حکومت عوام کو سہولت فراہم کرنے والے مقبول فیصلوں کے لیے مداخلت کم سے کم کرے گی۔

اس ضمن میں ایک عہدیدار نے بتایا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے پالیسی ریٹ میں 200-100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرنے کے مطالبے پر بھی اتفاق رائے کرلیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی معیشت خطے کی معاشی ترقی پر بوجھ بن جائے گی، آئی ایم ایف

خیال رہے کہ پالیسی ریٹ مرکزی بینک کی اعلان کردہ شرح سود ہے جسے پیسوں کے استعمال، دستیابی، لاگت اور کریڈٹ کو ریگولیٹ کرنے کے لیے مانیٹری پالیسی کے آلہ کار طور پر دیکھا جاتا ہے۔

اس کے ساتھ دونوں فریقین نے زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لیے مختلف اقدامات اٹھانے پر بھی اتفاق کیا۔

وزارت خزانہ نے عہدیدار کے مطابق آئی ایم ایف نے اس سے قبل اس بات پر زور دیا تھا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 4 سے 6 ارب ڈالر کے درمیان رہنا چاہیے تاہم بعد میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت آئندہ مالی سال میں مالی خسارہ 8 ارب ڈالر تک رہے گا۔

اس کے ساتھ آئی ایم ایف ٹیم نے حکومت کو ہدایت کی کہ مالیاتی ایڈجسٹمنٹ کے لیے آئندہ بجٹ میں مزید ٹیکس اقدامات اٹھائے جائیں، واضح رہے کہ عملے کی سطح پر ہونے والے معاہدے کی تکمیل کے بعد بجٹ تیار کرنے کا آغاز ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت اور آئی ایم ایف کی سوچ میں خاصی مطابقت ہے

مذاکرات میں پاکستانی ٹیم کی سربراہی سیکریٹری خزانہ نے کی جو پالیسی معاملات دیکھیں گے جبکہ ٹیکس اقدامات کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے 2 سینئر عہدیدار شریک ہوئے۔

اس وقت حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج بجٹ خسارے کو کم کرنا ہے جو اخراجات میں کمی اور آمدنی میں اضافے سے ہی ممکن ہوسکتا ہے۔

عہدیدار نے مزید بتایا کہ ’آئی ایم ایف نے ترقیاتی بجٹ میں کمی کرنے کی مخالفت کی اس وجہ سے ایک سطح پر پہنچ کر مزید کمی نہیں کی جاسکتی اس لیے واحد راستہ آمدنی میں اضافے کا ہے'۔

یاد رہے کہ گزشتہ مالی سال 18-2017 کے بجٹ میں مالی خسارہ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا 6.6 فیصد تھا جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران یہ 7 فیصد سے تجاوز کرجائے گا۔

مزید پڑھیں: ’9 ماہ میں اس پوزیشن پر آگئے کہ آئی ایم ایف سے اپنی شرط پر قرض لے رہے ہیں’

سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ 30 جون تک بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 7.6 فیصد تک پہنچ جائے گا۔

خیال رہے کہ آئی ایم ایف کی ٹیم کی مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ سے ملاقات جمعرات (آج) متوقع ہے اور اگر شبر زیدی کی بطور چیئرمین ایف بی آر تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری ہوگیا تو وہ بھی اس ملاقات میں شریک ہوں گے۔


یہ خبر 9 مئی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔