انگلینڈ کے خلاف شکست قومی ٹیم کے لیے نیک شگون کیسے بن سکتی ہے؟

اپ ڈیٹ 13 مئ 2019

ای میل

جیت جہاں حوصلوں کو بلند کرتی ہے، وہیں ہار خامیوں کو کھل کر سامنے لے آتی ہے۔ ہم انگلینڈ کے خلاف اگرچہ دوسرا میچ ہار گئے، مگر سچ پوچھیے تو یہ ہار بھی بُری نہیں لگ رہی کیونکہ ہم لڑ کر ہارے ہیں اور یہ ہار ہمارے لیے نیک شگون ثابت ہوسکتی ہے، لیکن صرف تب، جب ہم اس میچ میں ہونے والی خامیوں کو فوری طور پر ٹھیک کرلیں۔

اس میچ میں ہمارے لیے کیا مثبت رہا اور کیا منفی، کیا اچھا ہوا اور کیا بُرا، آئیے آپ کو بتاتے ہیں۔

خراب ٹیم سلیکشن

یہ سب سے اہم اور پہلا نکتہ ہے، جس پر بات کرنا بہت ضروری ہے۔ انگلینڈ کے خلاف سیریز جیتنا یقیناً بہت ضروری ہے کیونکہ ورلڈ کپ سے پہلے یہ جیت ہم کو نئی ہمت اور نیا عزم فراہم کرسکتی ہے، لیکن جیت سے زیادہ ضروری اس وقت بہترین ٹیم کی تشکیل ہے۔

دیگر ٹیموں کے مقابلے میں قومی ٹیم کو یہ چیلنج درپیش ہے کہ اس نے 17 میں سے 15 رکنی ٹیم کو منتخب کرنا ہے، یعنی محمد عامر اور آصف علی وہ 2 اضافی کھلاڑی ہیں جن کا ورلڈ کپ کے لیے منتخب ہونے کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ انگلینڈ کے خلاف کیسا کھیل پیش کرتے ہیں؟

مزید پڑھیے: انگلینڈ سے شکست کے باوجود پاکستان نے 15 سال پرانا ریکارڈ توڑدیا

جس کا مطلب یہ ہوا کہ انگلینڈ کے خلاف سیریز میں ان دونوں کھلاڑیوں کو تو لازمی کھلانا چاہیے تاکہ معلوم ہوجائے کہ کون کتنے پانی میں ہے۔ اگرچہ پہلے میچ میں تو آصف علی اور محمد عامر کو بارش کی وجہ سے کھیلنے کا موقع ہی نہ مل سکا، لیکن دوسرے میچ میں حیران کن طور پر محمد عامر کو جگہ ہی نہیں دی گئی۔ ایسا کیوں ہوا کم از کم مجھے تو اندازہ نہیں۔

آصف علی نے جارحانہ انداز اپنایا اور نصف سنچری مکمل کی—فوٹو:اے ایف پی
آصف علی نے جارحانہ انداز اپنایا اور نصف سنچری مکمل کی—فوٹو:اے ایف پی

لیکن آصف علی کی مڈل آرڈر میں اچھی اننگ نے یہ بات ثابت کردی کہ وہ ورلڈ کپ کھیلنے کے اہل ہیں۔ آصف علی کی ٹیم میں جگہ یوں بھی بنتی ہے کہ وہ واحد کھلاڑی ہیں جو نچلے نمبر پر آکر تیز اننگ کھیل کر میچ کے نتیجے پر اثر انداز ہوسکتے ہیں، اور انہوں نے دوسرے ایک روزہ میچ میں ایسا ثابت بھی کردیا، اگر وہ مزید 2 اوور وکٹ پر ٹھہر جاتے تو نتیجہ یقینی طور پر قومی ٹیم کے حق میں آسکتا تھا۔

ٹیم اور بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی ضروری ہے

قومی ٹیم کے سب سے تجربہ کار کھلاڑی محمد حفیظ اور شعیب ملک اس وقت ٹیم کا حصہ نہیں ہیں، لیکن امید یہی ہے کہ وہ جلد ٹیم کو دستیاب ہوجائیں گے، اور ان کی واپسی ٹیم کے لیے نیک شگون ثابت ہوگی۔ لیکن ان دونوں کی واپسی کے بعد کچھ کھلاڑیوں کو باہر ہونا ہوگا، ساتھ ساتھ بیٹنگ آرڈر کی تبدیلی بھی ضروری ہے۔

دوسرے ایک روزہ میچ میں جب ٹیم کو آخری 3 اوورز میں بڑے شاٹس کی ضرورت تھی تو ہم نے یہ دیکھ لیا کہ کپتان سرفراز احمد یہ کام انجام نہیں دے سکے، یعنی سرفراز گیپ میں تو اچھے شاٹس کھیل سکتے ہیں، لیکن فیلڈرز کے اوپر سے باونڈری لائن کے باہر گیند کو پھینکنے میں وہ ابھی کمزور ہیں۔

دوسری طرف امام الحق کی فارم کے مسائل پریشان کن ہیں، ساتھ ساتھ اننگ کے آغاز میں ان کی سستی باقی کھلاڑیوں کو بھی پریشان کررہی ہے، اس لیے اگر امام الحق کی جگہ سرفراز اوپننگ پر آجائیں، اور بالکل ویسے ہی بیٹنگ کریں جیسے انہوں نے 2015 کے ورلڈ کپ اور اس کے بعد کی تھی تو قومی ٹیم کو ابتدائی 10 اوورز میں اچھا آغاز مل سکتا ہے۔ پھر ان کے بعد بابر اعظم، حارث سہیل، محمد حفیظ، شعیب ملک اور آصف علی کی موجودگی ٹیم کے لیے بہت اچھی ثابت ہوسکتی ہے۔

آخری 3 میچ اہم ترین کیوں؟

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان سیریز کے بقیہ 3 میچ قومی ٹیم کے لیے اہم ترین ہے، کیونکہ 23 مئی سے پہلے یہ 3 میچ فیصلہ کریں گے کہ ورلڈ کپ کے لیے فائنل 15 کھلاڑی کون ہوں گے؟

اس لیے یہ اب ضروری ہے کہ ٹیم انتظامیہ فاسٹ باولر جنید خان، محمد عامر اور محمد حسنین کے ساتھ ساتھ اوپنر عابد علی کو بھی موقع دے اور ان کھلاڑیوں کی کارکردگی کا بھرپور جائزہ لے۔

صرف یہی نہیں بلکہ شاداب خان کی ٹیم میں شمولیت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ بھی اگلے 12 دنوں میں کرنا ہوگا، جس کا مطلب یہ ہوا کہ آنے والے دن قومی ٹیم کے لیے بہت اہم ہیں اور ہم دعا کرتے ہیں کہ جو بھی فیصلہ ہو، وہ ٹیم کے لیے بہتر ہو۔

فخر زمان کی فارم میں واپسی

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان دوسرے ایک روزہ میچ کا سب سے مثبت پہلو یہ ہے کہ فخر زمان کی کھوئی ہوئی فارم واپس آگئی ہے اور ان سے متعلق جو پریشانیاں سر اٹھا رہی تھیں وہ اب دم توڑ چکیں۔ ان کی فارم میں واپسی اور بطور اوپنر اچھا آغاز فراہم کرنا کتنا اہم اور ضروری ہے یہ سمجھنے کے لیے دوسرے ایک روزہ میچ کا نتیجہ دیکھا جاسکتا ہے، جہاں دونوں ہی ٹیموں کے اوپنروں نے اپنی اپنی ٹیموں کو زبردست آغاز فراہم کیا۔

پاکستان کی جانب سے فخرزمان نے شان دار بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنچری بنائی—فوٹو:رائٹرز
پاکستان کی جانب سے فخرزمان نے شان دار بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنچری بنائی—فوٹو:رائٹرز

انگلینڈ کی پہلی وکٹ 115 پر گری تو پاکستان کی پہلی وکٹ 94 رنز پر۔ یعنی یہ کہ اگر کسی بھی ٹیم کو اچھا اور تیز آغاز مل جائے تو نیچے آنے والوں کے لیے کھل کر کھیلنا آسان ہوجاتا ہے اور وہ بڑے سے بڑے ہدف کو حاصل کرنے کی بھی کوشش کرسکتے ہیں۔

جیسن روئے اور بیئرسٹو نے 115 رنز کی شراکت کی—فوٹو:اے ایف پی
جیسن روئے اور بیئرسٹو نے 115 رنز کی شراکت کی—فوٹو:اے ایف پی

مڈل آرڈر کی کمزوری

یہ بات ٹھیک ہے کہ انگلینڈ کو اوپننگ میں زبردست آغاز ملا، لیکن انگلینڈ کی جیت میں اوپنروں سے کئی زیادہ کردار مڈل آرڈر کے بلے باز ایون مورگن اور جوس بٹلر نے نبھایا، جنہوں نے بالترتیب 48 گیندوں پر 71 رنز اور 55 گیندوں پر 110 رنز کی غیر معمولی اننگ کھیلی۔ اگر جوس بٹلر جارحانہ سنچری اسکور نہ کرتے تو انگلینڈ کے لیے یہ ناممکن تھا کہ وہ اتنا بڑا اسکور بنا سکے۔

بٹلر اور مورگن نے تیسری وکٹ کی شراکت میں ناقابل شکست 162 رنز بنائے—فوٹو:اے پی
بٹلر اور مورگن نے تیسری وکٹ کی شراکت میں ناقابل شکست 162 رنز بنائے—فوٹو:اے پی

لیکن دوسری طرف قومی ٹیم کا معاملہ بالکل الٹا ہے۔ ہم ایک بار پھر مڈل آرڈر میں ایکسپوز ہوچکے ہیں۔ ایک بار پھر یہ ثابت ہوا کہ اگر مڈل آرڈر پر میچ جتوانے کی ذمہ داری آجائے تو اس کے ہاتھ پاوں پھول جاتے ہیں۔

ہمارے پاس انگلینڈ کے جوس بٹلر، جنوبی افریقہ کے ڈیوڈ ملر اور آسٹریلیا کے گلین میکسویل جیسا کوئی ایسا بلے باز نہیں جو اپنے طور پر ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کرسکتا ہو، آصف علی نے اگرچہ کوشش پوری کی لیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکے۔

مزید پڑھیے: آئی سی سی نے پلنکٹ کو ٹمپرنگ کے الزام سے بری کردیا

دوسری طرف کپتان سرفراز احمد کے پاس بھی یہ ذمہ داری نبھانے کا بہترین اور سنہری موقع تھا، مگر افسوس کہ وہ بھی یہ ذمہ داری پوری نہیں کرسکے۔ کئی مواقع ایسے آئے جب وہ تھوڑی ہمت دکھا کر قومی ٹیم کو جیت کی راہ پر گامزن کرسکتے تھے، لیکن ان سے اہم ترین مواقع پر نہ تو چھکا لگا اور نہ چوکا۔ میچ کے بعد اوپنر فخر زمان نے بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ 47ویں اوور تک میچ ہاتھ میں تھا، مگر ہم اچھا فنش نہیں کرسکیں۔

انگلینڈ نے ایک اچھے مقابلے کے بعد میچ 12 رنز سے جیت لیا—فوٹو: اے ایف پی
انگلینڈ نے ایک اچھے مقابلے کے بعد میچ 12 رنز سے جیت لیا—فوٹو: اے ایف پی

اس حوالے سے اہم بات یہ کہ اننگ کے آخر میں ہم جن کھلاڑیوں پر مسلسل تکیہ کیے ہوئے ہیں وہ مسلسل دھوکا دیے جارہے ہیں، یعنی کپتان سرفراز احمد، عماد وسیم اور فہیم اشرف۔ لہٰذا اس طرف توجہ دینے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔

فہیم اشرف ٹیم کا حصہ کیوں ہیں؟

گزشتہ 8 ایک روزہ میچوں میں بیٹنگ میں 10 اور باؤلنگ میں 303 کی ایوریج رکھنے والے فہیم اشرف آخر کس طرح مسلسل ٹیم کا حصہ بنے ہوئے ہیں؟ اگر 2019 کی بات کی جائے تو اس کھلاڑی نے 6 میچوں میں صرف ایک، جی آپ نے ٹھیک پڑھا صرف ایک وکٹ حاصل کی ہے۔ میں اب تک ان کی کوئی ایک ایسی اننگ تلاش کرنے میں ناکام رہا ہوں جس میں انہوں نے بیٹنگ کے شعبے میں کچھ انوکھا کیا ہو۔ پھر باؤلنگ جو ان کی خصوصیت ہے، وہاں بھی کوئی ایسی کارکردگی نہیں، جس کی بنیاد پر وہ مستقل ٹیم کا حصہ رہ سکیں۔

اس لیے اب ضروری ہے کہ انہیں کچھ وقت ٹیم سے باہر رکھا جائے اور کسی ایسے کھلاڑی کو جگہ دی جائے، جو قومی ٹیم کے لیے بہتر ثابت ہو۔