سعودی شاہی خاندان کتنی دولت کا مالک ہے؟

اپ ڈیٹ 16 مئ 2019

ای میل

— اے اہف پی فوٹو
— اے اہف پی فوٹو

کیا آپ بتاسکتے ہیں یا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ سعودی شاہی خاندان کتنی دولت کا مالک ہے؟

اگر نہیں تو جان لیں کہ سعودی شاہی خاندان کی دولت کتنی ہے اس کا صحیح طور پر کہنا تو مشکل ہے مگر سعودی شاہی خاندان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والی ایک ویب سائٹ نے اس کا تخمینہ ضرور بتایا ہے۔

ہاﺅس آف سعود نامی ویب سائٹ سعودی شاہی خاندان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والی ویب سائٹ ہے، جس میں اثاثوں کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

سعودی شاہی خاندان میں 15 ہزار کے قریب افراد موجود ہیں مگر بیشتر دولت کے مالک ان میں سے 2 ہزار افراد ہیں۔

ویب سائٹ کے مطابق سعودی شاہی خاندان کے پاس دہائیوں سے خام تیل کی آمدنی سے کی جانے والی سرمایہ کاری کے نتیجے میں اثاثوں کی مالیت 14 کھرب ڈالرز (2 ہزار کھرب پاکستانی روپے سے زائد) تک ہوسکتی ہے۔

سعودی شاہی خاندان کے افراد اپنی دولت کے حوالے سے معلومات کو کافی خفیہ رکھتے ہیں مگر ان کا طرز زندگی کا پرتعیش ہوتا ہے جس میں مہنگی اشیا کی خریدار، نجی جہازوں کی ملکیت، پرتعیش یاچس (کشتیاں)، ہیلی کاپٹرز، جائیدادیں اور ایسا ہی بہت کچھ شامل ہے۔

مگر اس کے ساتھ ساتھ اس خاندان کے افراد فلاحی اداروں کے ذریعے ضرورت مندوں کی مدد بھی کرتے ہیں جبکہ سعودی شہریوں کو سرمایہ بھی فراہم کرتے ہیں۔

سعودی فرمانروا شاہ سلمان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ 17 ارب ڈالرز کے مالک ہیں جس کا اظہار ولی عہد محمد بن سلمان مہنگی ترین اشیا کی خریداری سے کرتے رہتے ہیں۔

جیسے برطانوی روزنامے 'انڈپینڈنٹ' کی 2016 کی ایک رپورٹ کے مطابق انہوں نے جنوبی فرانس میں تعطیلات مناتے ہوئے ایک روسی تاجر کی کشتی کو پسند کرلیا اور پھر اسے 50 کروڑ یورو (اب کے 78 ارب پاکستانی روپے سے زائد) میں خرید بھی لیا۔

فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا

اسی طرح نومبر 2017 میں معروف مصور لیونارڈو ڈاونچی کی ایک نایاب پینٹنگ کو ایک گمنام شخص نے 45 کروڑ ڈالرز (48 ارب پاکستانی روپے سے زائد) میں خریدا تھا اور اس طرح یہ فن مصوری کا سب سے مہنگا شہ پارہ قرار پایا تھا۔

اگلے ماہ یعنی دسمبر 2017 میں انکشاف ہوا کہ اس پینٹنگ کو خریدنے والا کوئی اور نہیں بلکہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان تھے۔

برطانوی روزنامے 'دی گارجین' کی رپورٹ کے مطابق یہ انکشاف اس وقت ہوا جب امریکی انٹیلی جنس نے اس خریدار کو شناخت کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سعودی ولی عہد ہیں۔

اے ایف پی فائل فوٹو
اے ایف پی فائل فوٹو

اسی طرح دسمبر 2017 میں نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سعودی ولی عہد نے فرانس میں موجود ایک قلعے کو 30 کروڑ ڈالر سے زائد (33 ارب پاکستانی روپے) میں خریدا۔

دسمبر 2015 میں یہ رپورٹ سامنے آئی تھی کہ اس گھر کو مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے ایک گمنام خریدار نے 301 ملین ڈالر سے زائد ادا کرکے خریدا تھا اور اس طرح مہنگے ترین گھر کا پرانا ریکارڈ ٹوٹ گیا جو لندن کے پینٹ ہاﺅس کے پاس تھا جسے 221 ملین ڈالر میں فروخت کیا گیا تھا۔

پیرس کے قریب واقع یہ گھر 56 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا اور اس کا ڈیزائن 17 ویں صدی کے محلات سے متاثر ہوکر تیار کیا گیا۔

فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا

ویسے سعودی شاہی خاندان کا موازنہ برطانوی شاہی خاندان سے کیا جائے تو کافی دلچسپ صورتحال نظر آتی ہے۔

امریکی جریدے فوربس کے مطابق برطانوی شاہی خاندان کے اثاثوں کی مالیت 88 ارب ڈالرز (128 کھرب پاکستانی روپے سے زائد) ہے جبکہ سعودی شاہی خاندان کی دولت کا تخمینہ اوپر درج کیا جاچکا ہے۔

یعنی سعودی شاہی خاندان برطانوی شاہی خاندان سے 16 گنا زیادہ امیر قرار دیا جاسکتا ہے۔

اے ایف پی فوٹو
اے ایف پی فوٹو