ہولوکاسٹ پر ویڈیو بنانے والے الجزیرہ کے 2 صحافی برطرف

20 مئ 2019

ای میل

الجزیرہ نے ویڈیو فوری طور پر اپنے تمام آن لائن اکاؤنٹس اور سوشل میڈیا پیجز سے ہٹادی—فائل فوٹو: اے پی
الجزیرہ نے ویڈیو فوری طور پر اپنے تمام آن لائن اکاؤنٹس اور سوشل میڈیا پیجز سے ہٹادی—فائل فوٹو: اے پی

دوحا: قطر کے سرکاری فنڈز سے چلنے والے سرکاری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ نے اپنے 2 صحافیوں کو ایک ویڈیو بنانے پر برطرف کردیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ یہودی ہولوکاسٹ کے بارے میں غلط بیانی سے کام لیتے ہیں۔

فرانسیسی خبررساں ادارے ’اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق الجزیرہ کی آن لائن ’اے جے پلس‘ عرب سروس پر شائع کردہ ویڈیو میں صحافیوں کا کہنا تھا کہ ’ہولوکاسٹ کے دوران نازی جرمنوں کے ہاتھوں 60 لاکھ یہودیوں کی ہلاکت کا بیانیہ صیہونی تحریک سے آیا ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی صدر کی مبینہ یہود مخالف تقریر پر معذرت

مزکورہ ویڈیو میں نازی حکومت کے دور میں آباد یورپی یہودیوں کی ایذا رسانیوں کے خاکے اس کے ساتھ ساتھ قتل ہونے والے افراد کی تصاویر دکھا کر اوپر یہ لکھا گیا کہ ’صرف ان پر توجہ کیوں‘؟

ویڈیو میں کہا گیا کہ دیگر (اقوام) کے ساتھ ساتھ یہودیوں کو بھی ظلم و ستم کی منظم پالیسی کا سامنا تھا جو آخرکار حتمی حل پر منتج ہوا۔

تاہم کلپ میں یہ بات کہی گئی کہ چونکہ یہودی قوم کو ’مالی وسائل اور ذرائع ابلاغ‘ تک رسائی حاصل تھی اس لیے یہودیوں کو پر گزرنے والے مصائب کو ’خصوصی طور پر مرکزی توجہ‘ دی جاسکی۔

مزید پڑھیں: ہولوکاسٹ جدید دور کا سنگین ترین جرم ہے، عباس

اس ضمن میں الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک کی جانب سے اس صورتحال پر جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ ’اے جے پلس کی اعلیٰ انتظامیہ کی جانب سے اس ویڈیو اور اس سے منسلک پوسٹ کو فوری طور پر اے جے پلس کے تمام سوشل میڈیا پیجز اور اکاؤنٹس سے ہٹا دیا گیا کیوں کہ یہ الجزیرہ نیٹ ورک کے ادارتی پالیسی کی خلاف ورزی پر مبنی تھا‘۔


یہ خبر 20 مئی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔