بھارت میں 35 سالہ شخص کا 3 روز تک کم عمر لڑکی کے ساتھ ریپ

اپ ڈیٹ 20 مئ 2019

ای میل

ملزم نے لڑکی کو ایک گاؤں میں چھپا رکھا تھا — فائل فوٹو/ شٹر اسٹاک
ملزم نے لڑکی کو ایک گاؤں میں چھپا رکھا تھا — فائل فوٹو/ شٹر اسٹاک

بھوپال: بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں نشے کے عادی شخص نے اپنی 11 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر 35 سالہ شخص کے ہاتھ فروخت کردیا، جس نے 3 روز تک لڑکی کا ریپ کیا۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق واقعہ ضلع بندیل کھنڈ کے علاقے چترپور میں پیش آیا جہاں ملزم نے لڑکی کو ایک گاؤں میں چھپا رکھا تھا۔

متاثرہ لڑکی کی والدہ، جو اپنی بیٹی کے فروخت کے حوالے سے واقف نہیں تھی، نے فوری طور پر لڑکی کی گمشدگی کے حوالے سے پولیس کا آگاہ کیا۔

مزید پڑھیں: بھارت: کم عمر لڑکی کے ریپ پر پادری کو 20 سال قید کی سزا

لڑکی کی جانب سے درج کروائی گئی شکایت میں بتایا گیا کہ ان کے والد نے 12 مئی کو ان کی 'شادی' 50 ہزار روپے کے عوض دیوی باسکر نامی شخص کے ساتھ کردی تھی، جو لڑکی کو قریبی مندر لے گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ لڑکی کو مندر میں ساڑھی پہنائی گئی جبکہ اسے بتایا گیا کہ ان کی شادی ہوگئی ہے۔

شکایت کنندہ نے بتایا کہ ان کے نام نہاد خاوند نے 3 روز تک ان کا ریپ کیا اور لڑکی کے مستقل رونے پر مذکورہ شخص اور اس کے اہل خانہ نے لڑکی کو واپس اس کے بات کہ حوالے کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر وقت روتی رہتی ہے۔

لڑکی کی والدہ، جو اپنے خاوند کے ساتھ گھریلوں تنازع کے باعث ہمسایہ ضلع ساگر میں رہائش پذیر تھی، نے واقعے کے حوالے سے پولیس کو بتایا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: 4 سالہ لڑکی کا ریپ، مجرم کو سزائے موت

پولیس نے کم عمر لڑکی کے ریپ کے کیس میں باسکر کو نامزد کرکے گرفتار کرلیا جبکہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں۔

مقامی ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ لڑکی کی جانب سے لگائے جانے والے دیگر الزامات کی تحقیقات بھی کی جائیں گی۔

متاثرہ لڑکی کی والدہ نے پولیس کو بتایا کہ 'جب میں اپنی بیٹی سے ملی تو وہ رو رہی تھی، اس موقع پر بھی اس نے شادی کی ساڑھی اور مانگ میں سندور لگا رکھا تھا'۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 'ان کے خاوند اور ان کی ہمشیرہ نے لڑکی کو اس کی عمر سے 3 گنا بڑے شخص کے ہاتھ فروخت کیا'۔

مزید پڑھیں: بھارت: 4 سالہ لڑکی کا ریپ، سزائے موت کے مجرم کے ڈیتھ وارنٹ جاری

واضح رہے کہ دنیا میں سب سے بڑی جمہوری ریاست کے دعویدار بھارت میں خواتین کا تحفظ تاحال ایک مسئلہ ہے جہاں 16 دسمبر 2012 کو نئی دہلی میں ایک طالبہ کو چلتی بس میں گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا اور وہ بعد ازاں کئی روز تک ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی تھی۔

آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے بڑے ملک بھارت میں ’ریپ‘ کیسز کی شرح کئی ممالک سے زیادہ ہے، صرف 2015 میں ہی ہندوستان بھر میں ’ریپ‘ کے 34 ہزار سے زائد واقعات رپورٹ کیے گئے تھے جبکہ درج نہ ہو پانے والے واقعات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔