افغان فورسز کی ’غلطی‘، فائرنگ سے 6 شہری ہلاک

اپ ڈیٹ 25 مئ 2019

ای میل

متاثرین کے اہلخانہ نے جلال آباد میں انصاف کے لیے احتجاج کیا — فائل فوٹو /ڈان نیوز
متاثرین کے اہلخانہ نے جلال آباد میں انصاف کے لیے احتجاج کیا — فائل فوٹو /ڈان نیوز

افغانستان کے صوبے ننگرہار کے حکام کا کہنا ہے کہ طالبان جنگجوؤں کے خلاف آپریشن کے دوران افغان سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 2 بچوں اور خواتین سمیت 6 شہری جاں بحق ہو گئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق صوبائی حکام نے تصدیق کی کہ افغان سیکیورٹی اہلکاروں کی ’غلطی‘ سے شہری جاں بحق ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان: امریکی فضائی حملے میں بچوں، خواتین سمیت 14 شہری جاں بحق

صوبائی گورنر کے ترجمان عطااللہ نے بتایا کہ ضلع شرزاد میں افغان سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں طالبان کے 10 جنگجو بھی ہلاک ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ ’آپریشن کے فوراً بعد ایک گاڑی کو مذکورہ علاقے سے نکلتے دیکھا تو سیکیورٹی اہلکار سمجھے کہ طالبان جنگجو فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اور اہلکاروں نے گاڑی پر فائرنگ کردی‘۔

صوبائی کونسل کے رکن اجمل عمر نے بتایا کہ متاثرین کے اہلخانہ اور گاؤں والوں نے لاشوں کو صوبائی دارالحکومت جلال آباد میں رکھ کر انصاف کے لیے احتجاج کیا۔

دوسری جانب افغانستان میں موجود اقوامِ متحدہ کے معاون مشن (یو این اے ایم اے) نے کہا کہ ’ماہ رمضان کے مقدس مہینے میں شہریوں کی ہلاکت کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جو باعث تشویش ہے‘۔

مزید پڑھیں: افغانستان: امریکی فضائی حملے میں طالبان کمانڈر سمیت 10 افراد جاں بحق

خیال رہے گزشتہ ماہ اقوامِ متحدہ نے پہلی مرتبہ افغانستان میں شہریوں کی ہلاکت سے متعلق اقرار کیا تھا کہ ’افغان اور امریکی فوجیوں نے القاعدہ کے مقابلے میں زیادہ شہریوں کو قتل کیا‘۔

قطری نشریاتی ادارے 'الجزیرہ' کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کے عالمی ادارے کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق افغان اور امریکی فوجیوں کے حملوں میں سال 2019 کی پہلی سہہ ماہی کے دوران مجموعی طور پر 300 شہری ہلاک ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان: فضائی حملوں میں 31 دہشت گرد ہلاک

اس سے قبل مارچ میں صوبہ قندوز میں طالبان کے حملے میں 2 امریکی فوجی ہلاک جبکہ امریکی فضائی حملوں میں 4 افغان اہلکاروں کے علاوہ بچوں اور خواتین سمیت 14 شہری ہلاک ہوگئے تھے۔

قندوز میں دو امریکیوں کی ہلاکت کے بعد امریکی جنگی طیاروں نے ضلع گل ٹیپا کے مضافات میں ایک گھر کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 8 بچے اور 4 خواتین سمیت 14 پناہ گزین ہلاک ہو گئےتھے۔