پی ٹی اے نے 'غلطی' سے معروف ویب سائٹس کو بلاک کردیا

03 جون 2019

ای میل

— خاکہ حماد اے عباسی
— خاکہ حماد اے عباسی

پاکستان میں لگ بھگ ایک ہفتے تک انٹرنیٹ صارفین کو متعدد مقبول ویب سائٹس تک رسائی سے محروم رکھا گیا کیونکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے انٹرنیٹ سروس پرووائڈرز (آئی ایس پی) کو انہیں بلاک کرنے کی ہدایت جاری کی گئی تھی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق 26 مئی کو پی ٹی اے نے آئی ایس پیز کو مختلف ویب سائٹس جیسے علی بابا ڈاٹ کام، بلومبرگ ڈاٹ کام، بزفیڈ ڈاٹ کام اور جی ایس ایم ایرینا ڈاٹ کام تک رسائی کو بلاک کرنے کی ہدایت کی اور اس کی وجہ ان سائٹس کی جانب سے 'غیراخلاقی' مواد کی میزبانی کرنا قرار دیا۔

بز فیڈ ایک مقبول میڈیا اور انٹرٹینمنٹ وئب سائٹ ہے، بلومبرگ میں کاروبار اور مارکیٹ نیوز پر توجہ دی جاتی ہے، علی بابا بین الاقوامی سطح پر معروف آن لائن شاپنگ پلیٹ فارم ہے جبکہ جی ایس ایم ایرینا موبائل فونز کی معلومات فراہم کرنے والی ویب سائٹ ہے۔

اس حوالے سے ڈان کی جانب سے ایک نجی آئی ایس پی نیاٹیل کے ترجمان نے بتایا 'ان ویب سائٹس کو پی ٹی اے کی ہدایات پر بلاک کیا گیا'۔

ٹیلی نار اور زونگ کے سبسکرائبرز کو اپنے موبائل فونز پر بز فیڈ، بلومبرگ اور علی بابا تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہوا جبکہ یو فون اور جاز کے کچھ صارفین بھی ان سائٹس کو کھولنے میں ناکام رہے۔

حیران کن طور پر موبائل نیٹ ورک انڈسٹری کے بیشتر حلقے اس صورتحال سے بے خبر اور ڈان کی جانب سے اس حوالے سے رابطے کرنے پر حیران نظر آئے کہ آخر گزشتہ چند دن کے دوران انے کی سروس کے صارفین کو مختلف وئب سائٹس تک رسائی کیوں نہیں مل رہی۔

یوفون کے ایک عہدیدار نے مشورہ دیا کہ ڈیوائسز کی انٹرنیٹ ہسٹری کلیئر یا ان کو ری اسٹارٹ کرکے پھر کوشش کریں جبکہ ٹیلی نار کے ایک آفیشل کا کہنا تھا کہ ویب سائٹس ایسا لگتا ہے کہ سورس کو روک رہی ہیں۔

بز فیڈ پر اکثر وزٹ کرنے والی ندا عباسی نے بتایا 'پہلے تو مجھے لگا کہ میرے موبائل فون میں کوئی خرابی ہے، مگر مجھے چار روز تک گھر پر بھی بزفیڈ تک رسائی نہیں ملی'۔

علی بابا کو اکثر استعمال کرنے والے شہریار سعید نے بھی شکایت کی کہ وہ اس آن لائن شاپنگ پلیٹ فارم سے کنکٹ نہیں کرپارہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکشن کمپنی (پی ٹی سی ایل) کی ٹیکنیکل سپورٹ نے تصدیق کی کہ پی ٹی اے کی جانب سے ان ویب سائٹس کو بلاک کیے جانے کی ہدایت کی گئی تھی۔

پی ٹی سی ایل ٹیکنیکل سپورٹ ٹیم کے ایک رکن نے بتایا 'یہ ہدایات درحقیقت وزارت داخلہ سے آئی تھیں، جس میں مخصوص ویب سائٹ پر قابل اعتراض یا متنازع مواد شائع کیے جانے پر پی ٹی اے کو انہیں بلاک کرنے کا کہا گیا'۔

پی ٹی اے نے ہفتہ کی رات اس بات کی تردید کی ان ویب سائٹس تک رسائی کو بلاک کیا گیا ہے اور اس کا کہنا تھا کہ اتھارٹی نے بلومبرگ، علی بابا یا بزفیڈ ڈاٹ تک رسائی روکنے کی ہدایت نہیں کی۔

آئی ایس پیز کو جن ہزاروں ویب سائٹس بلاک کیے جانے کی ہدایت کی گئی ہے، اس کی فہرست ڈان کو دستیاب ہے اور اس میں بھی علی بابا، بلومبرگ ، بزفیڈ اور جی ایس ایم ایرینا کے نام شامل ہیں۔

ڈان کی جانب سے پی ٹی اے سے ان ویب سائٹس تک رسائی روکے جانے کے حوالے معلومات کے لیے رجوع کرنے پر آئی ایس پیز کو ہفتے کو رات گئے نئی ہدایات جاری کی گئیں۔

ان ہدایات میں پی ٹی اے نے آئی ایس پیز کو ان ویب سائٹس کو ان بلاک کرنے کا کہا گیا اور اتھارتی کے بقول ان ویب سائٹس کا نام غلطی سے قابل اعتراض مواد والی سائٹس کی فہرست میں شامل ہوگیا تھا۔

یہ خبر 3 جون کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی