پنجاب: نیشنل ایکشن پلان کے تحت 4 ہزار سے زائد ویب سائٹس بلاک

اپ ڈیٹ 21 مارچ 2019

ای میل

پنجاب حکومت نے 2019 کے آغاز سے اب تک 3 ہزار سے زائد فیس بک اکاؤنٹس بلاک کئے — فائل فوٹو/شٹر اسٹاک
پنجاب حکومت نے 2019 کے آغاز سے اب تک 3 ہزار سے زائد فیس بک اکاؤنٹس بلاک کئے — فائل فوٹو/شٹر اسٹاک

محکمہ داخلہ پنجاب نے نیشنل ایکشن پلان پر عمل در آمد کرتے ہوئے ریاست مخالف یا فرقہ واریت پھیلانے کے الزام میں 2018 سے اب تک 4 ہزار 566 ویب سائٹس بلاک کیں۔

نیشنل ایکشن پلان کے تحت آن لائن خدشات سے متعلق محکمہ داخلہ پنجاب نے رپورٹ تیار کرلی۔

محکمہ داخلے کے ذرائع کا کہنا تھا کہ رپورٹ کے مطابق جنوبی پنجاب سمیت صوبہ بھر میں ریاست مخالف اور فرقہ واریت پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی میں مزید تیزی لاتے ہوئے سیکیورٹی اداروں نے ایک ہفتے میں کالعدم تنظیموں کے 150 افراد کو حراست میں لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’2018 سے اب تک 4 ہزار 566 ویب سائٹس بلاک کی گئیں اور ان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے۔'

مزید پڑھیں: گوگل کروم کا نیا ٹول آن لائن اکاﺅنٹس کے تحفظ میں مددگار

ذرائع کے مطابق 2019 کے آغاز سے اب تک 3 ہزار سے زائد فیس بک اکاؤنٹس بلاک کئے گئے جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے مزید 277 اکاؤنٹس کی نشاندہی کی گئی ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر متعدد اکاؤنٹس ریاست مخالف ایجنڈے کو پھیلا رہے تھے جبکہ 100 سے زائد ویب سائٹس بیرون ممالک سے چلائی جارہی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بیرون ممالک سے چلنے والے اکاؤنٹس ملک دشمن ایجنڈے پر عمل پیرا تھے جس کے حوالے سے رپورٹس پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو بھجوائی گئیں، بعد ازاں پی ٹی اے نے ان ویب سائٹس اور اکاؤنٹس کو بند کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ حکومت کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان پر عملدر آمد یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: نیشنل ایکشن پلان پر حکومتی بریفنگ، اپوزیشن کے بائیکاٹ کا امکان

اسی تناظر میں رواں ماہ کے آغاز میں وفاقی حکومت نے جماعت الدعوۃ اور اس کی ذیلی تنظیم فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کیا تھا۔

بعد ازاں سیکیورٹی اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے حماد اظہر اور مفتی عبدالرؤف سمیت کالعدم تنظیموں کے متعدد افراد کو ’اصلاحی حراست‘ میں لے لیا تھا۔

وفاقی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں سندھ، پنجاب، بلوچستان اور اسلام آباد میں متعلقہ حکومتوں نے جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن (ایف آئی ایف) کے کئی مدارس اور اداروں کو اپنے انتظام میں لے لیا یا پھر سیل کردیا تھا۔