ایک دن کی شادی اور 'ہنی مون' کی اجازت دینے والا انوکھا ملک

06 جون 2019

ای میل

اس کی وجہ کافی دلچسپ ہے — شٹر اسٹاک فوٹو
اس کی وجہ کافی دلچسپ ہے — شٹر اسٹاک فوٹو

کیا آپ نے کبھی سنا ہے کہ کسی ملک میں سیاحوں کو مقامی افراد سے صرف ایک دن کی شادی اور 'ہنی مون' کی اجازت دی جائے؟

اگر نہیں تو ایسا نیدرلینڈ کے شہر ایمسٹرڈیم میں ہونے والا ہے۔

جی ہاں ایمسٹرڈیم گھومنے والے سیاح کسی مقامی فرد سے ایک دن کے لیے شادی کرسکیں گے اور 'شریک حیات' کے ساتھ ڈیٹ پر جاکر اس شہر کی سیر کرسکیں گے۔

اس انوکھے اقدام کا مقصد بہت زیادہ سیاحوں کی آمد سے مرتب ہونے والے منفی اثرات کا مقابلہ کرنا ہے۔

اس وقت سالانہ اس شہر میں ایک کروڑ 90 لاکھ سیاح آرہے ہیں اور یہ تعداد ایک دہائی میں تین کروڑ کے قریب پہنچنے کا امکان ہے جبکہ یہاں کے رہائشیوں کی تعداد 10 لاکھ ہے، جو سیاحت کے فروغ سے زیادہ خوش نہیں۔

اس مقصد کے لیے ان ٹورسٹ ایمسٹرڈیم نامی تحریک شروع کی گئی تاکہ سیاحوں کی بڑھتی تعداد کو شہر میں مثبت چیزوں کے لیے استعمال کیا جاسکے۔

اس تحریک کے مختلف اقدامات میں سے ایک 'ایمسٹرڈیم کے کسی رہائشی سے شادی' بھی ہے، جس میں مقامی رہائشی کی سیاح سے روایتی تقریب میں شادی ہوگی، یعنی انگوٹھیوں کا تبادلہ، وعدے اور عروسی ملبوسات وغیرہ۔

اس تقریب میں 35 منٹ لگیں گے جبکہ جوڑے اپنا 'ہنی مون' شہر کے ان حصوں کو دریافت کرتے ہوئے گزاریں گے جو زیادہ معروف نہیں۔

بنیادی طور پر یہ شادی قانونی نہیں بلکہ علماتی ہوگی اور اس تحریک کے آرگنائزر کا کہنا تھا کہ یہ یہاں آنے والے کے لیے کسی مقامی فرد سے بامقصد رابطے کا ایک موقع ہوگا۔

ایک اور اقدام 'ویڈ ڈیٹنگ' ہوگا جس میں سیاح اور ایک مقامی فرد کو ملایا جائے گا تاکہ وہ ایک دوسرے کو جان سکیں گے اور وہ فارم ہاﺅسز سے جڑی بوٹیاں چنیں گے، یا کسی بزرگ رہائشی کے ساتھ کسی پارک میں چہل قدمی کریں گے۔

اس حیرت انگیز تحریک کا آغاز آئندہ ہفتے سے ہورہا ہے اور ایسا کسی سیاح کی مقامی رہائشی سے شادی کے ساتھ ہوگا۔