اوپیک سے الگ ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے، ایرانی وزیر تیل

08 جون 2019

ای میل

دو علاقائی ممالک تنظیم میں ہم سے دشمنی ظاہر کر رہے ہیں، ایرانی وزیر تیل — فائل فوٹو / رائٹرز
دو علاقائی ممالک تنظیم میں ہم سے دشمنی ظاہر کر رہے ہیں، ایرانی وزیر تیل — فائل فوٹو / رائٹرز

ایران کے وزیر تیل بیجان زنگانیہ کا کہنا ہے کہ تہران کا تیل درآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق بیجان زنگانیہ نے ایران کی پارلیمانی نیوز ایجنسی 'آئی سی اے این اے' کو انٹرویو میں کہا کہ 'ایران کا اوپیک سے علیحدہ ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور افسوس کا اظہار کیا کہ تنظیم کے چند اراکین نے اسے اس کے دو بنیادی اراکین ایران اور وینزویلا سے الجھنے کے لیے سیاسی فورم بنا دیا ہے۔'

انہوں نے دونوں ممالک کا نام لیے بغیر کہا کہ 'دو علاقائی ممالک تنظیم میں ہم سے دشمنی ظاہر کر رہے ہیں، ہم ان کے دشمن نہیں لیکن وہ ہم سے عداوت دکھا رہے ہیں اور وہ عالمی مارکیٹ میں تیل کو ہمارے خلاف بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔'

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے امریکا کی تہران پر پابندیوں کے بعد رواں سال عالمی مارکیٹ سے ایرانی خام تیل کی جگہ ختم کرنے کے لیے تیل کی پیداوار میں اضافے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد ان دونوں ممالک اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔

مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں ٹینکر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ

گزشتہ روز ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کی سب سے بڑی پیٹروکیمیکل کمپنی پر ایران کے پاسداران انقلاب کی بالواسطہ حمایت کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے اپنی پابندی کی فہرست میں شامل کر لیا تھا۔

واشنگٹن کا کہنا تھا کہ اس قدم کا مقصد پاسداران انقلاب کی آمدنی کو روکنا ہے تاہم تجزیہ کاروں نے اسے علامتی قرار دیا تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ ایران پر اس کے جوہری اور میزائل پروگراموں اور شام، عراق، لبنان اور یمن میں پراکسی گروپوں کی مدد کی وجہ سے اقتصادی اور عسکری دباؤ بڑھا رہی ہے۔