'ہواوے پر پابندی خود امریکی سلامتی کے لیے خطرہ ہے'

09 جون 2019

ای میل

یہ بات فنانشنل ٹائمز کی رپورٹ میں سامنے آئی — رائٹرز فائل فوٹو
یہ بات فنانشنل ٹائمز کی رپورٹ میں سامنے آئی — رائٹرز فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ ماہ چینی کمپنی ہواوے پر پابندیوں کا اطلاق ہوا تھا (جس پر ابھی 3 ماہ کے لیے ریلیف دیا گیا ہے)، مگر گوگل نے خبردار کیا ہے کہ یہ پابندی خود امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتی ہے۔

ہواوے کو بلیک لسٹ کیے جانے کے نتیجے میں امریکی کمپنیوں نے ہواوے سے کاروباری تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا اور گوگل نے بھی اینڈرائیڈ لائسنس منسوخ کیا تھا، جس کو امریکی محکمہ تجارت کی جانب سے پابندیوں کو 3 ماہ تک موخر کرنے پر دوبارہ بحال کردیا گیا۔

اب فنانشنل ٹائمز کی ایک رپورٹ میں گوگل ذرائع سے دعویٰ کیا گیا کہ سرچ انجن کو ڈر ہے کہ امریکی پابندی کے نتیجے میں وہ ہواوے فونز میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کو اپ ڈیٹ نہیں کرسکے گا، جس کے نتیجے میں چینی کمپنی اپنا آپریٹنگ سسٹم تیار کرے گی۔

یہ بات پہلے ہی سامنے آچکی ہے کہ ہواوے اپنے آپریٹنگ سسٹم ہونگ مینگ پر کام کررہی ہے مگر گوگل کے خیال میں اسے آسانی سے ہیک کیا جاسکتا ہے۔

اس رپورٹ پر گوگل ترجمان نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دیگر امریکی کمپنیوں کی طرح ہم بھی امریکی محکمہ تجارت سے رابطے میں ہیں اور ہم تمام پابندیوں پر مکمل عملدرآمد کریں گے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ہماری توجہ اس وقت امریکا اور دنیا بھر میں ہواوے فونز کے کروڑوں گوگل صارفین کے تحفظ پر مرکوز ہے۔

ہواوے فونز میں فیس بک ایپس کی پری انسٹال پر پابندی

دوسری جانب فیس بک نے بھی ہواوے پر عائد پابندیوں کے حوالے سے اہم اعلان کیا ہے۔

فیس بک کی جانب سے اب ہواوے کے فونز میں اس کی ایپس یعنی فیس بک، میسنجر، انسٹاگرام یا واٹس ایپ اب پری انسٹال نہیں ہوں گی تاہم صارفین پلے اسٹور سے فیس بک ایپس کو ڈاؤن لوڈ اور اپ ڈیٹ کرسکیں گے۔

خیال رہے کہ امریکا چینی حکومت سے ہواوے کے تعلقات پر اس کے خلاف اقدامات کررہا ہے اور امریکی انتظامیہ کے لیے ہواوے فونز نہیں بلکہ کمپنی کے ٹیلی کمیونیکشن انفراسٹرکچر آلات تشویش کا باعث ہیں۔

ہواوے کی جانب سے امریکی دعوﺅں کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ ایک خودمختار کمپنی ہے جس کا چینی حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔

امریکی حکومت کے خیال میں ہواوے انفراسٹرکچر سے چینی حکومت کو جاسوسی اور تباہی پھیلانے کے مواقع ملیں گے اور یہی وجہ ہے کہ 2012 سے امریکا میں ہواوے ٹیلی کام آلات کے استعمال پر پابندی ہے، جبکہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے بھی ہواوے کے 5 جی موبائل نیٹ ورک کے آلات کی سپلائی پر پابندی عائد کررکھی ہے۔

مگر گزشتہ سال ہواوے کے بارے میں امریکی اقدامات میں شدت دیکھنے میں اس وقت آئی جب ٹرمپ انتظامیہ نے مختلف کمپنیوں جیسے اے ٹی اینڈ ٹی اور دیگر کو ہواوے فونز کی ڈیل سے روک دیا گیا جبکہ گزشتہ ماہ ہواوے کو امریکی صدر نے بین کردیا تھا۔

امریکی محکمہ تجارت کی جانب سے ہواوے کے پابندی پر 90 روز کے لیے ریلیف دیا گیا ہے، جس کے اطلاق کے بعد امریکی کمپنیاں ہواوے کو ٹیکنالوجی اور پرزہ جات فراہم نہیں کرسکیں گی، یعنی گوگل کو اینڈرائیڈ لائسنس منسوخ کرنا ہوگا، جس کی وجہ سے چینی کمپنی اپنے نئے آپریٹنگ سسٹم کو جلد متعارف کرانا چاہتی ہے۔