چیئرمین سینیٹ کےخلاف تحریک عدم اعتماد: پی پی پی،(ن) لیگ کے اپنے ہی سینیٹرز مخالف

اپ ڈیٹ 25 جون 2019

ای میل

صادق سنجرانی نے گزشتہ سال مارچ میں چیئرمین سینیٹ کا عہدہ سنبھالا تھا — فائل فوٹو/اے پی پی
صادق سنجرانی نے گزشتہ سال مارچ میں چیئرمین سینیٹ کا عہدہ سنبھالا تھا — فائل فوٹو/اے پی پی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اپنے ہی سینیٹرز نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی مخالفت کردی۔

مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت نے اس تحریک کا حصہ بننے سے انکار کردیا ہے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کی قیادت نے بھی تحریک عدم اعتماد کی مخالفت کرنے کی تجویز دی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کا صادق سنجرانی کے خلاف ووٹ دینے کی وجہ مسلم لیگ (ن) کی مخالفت تھی۔

مزید پڑھیں: سینیٹ میں شور شرابا، چیئرمین نے سارجنٹ کو طلب کرلیا

انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے تجویز کے باوجود رضا ربانی کو بطور امیدوار نامزد نہیں کیا۔

دریں اثنا ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے بھی اس تحریک کی مخالفت کی اور کہا کہ ایسی کوئی بھی تحریک سینیٹ کے لیے بدنامی کا باعث ہوگی۔

سینیٹ چیئرمین کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ سینیٹ انتخابات میں پیپلز پارٹی نے صادق سنجرانی کے حق میں 19 ووٹ ڈالے تھے جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) اور اس کے اتحادیوں نے سلیم مانڈوی والا کی حمایت میں 32 ووٹ ڈالے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک عدم اعتماد لائی گئی تو چیئرمین سینیٹ کی حمایت کریں گے، وزیراعظم

ذرائع نے مزید بتایا کہ چیئرمین سینیٹ کے خلاف یہ تحریک جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی خواہش تھی۔

خیال رہے کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے رواں سال جنوری میں صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ کے عہدے سے ہٹانے کے لیے کوششوں کی خبروں کی تصدیق کی تھی۔

سابق صدر آصف علی زرداری کی مولانا فضل الرحمٰن اور میر حاصل بزنجو سے ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام (ف) نے مل کر فیصلہ کیا تو چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جاسکتی ہے۔