تمباکو نوشی خواتین میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھائے

26 جون 2019

ای میل

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی— شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی— شٹر اسٹاک فوٹو

ویسے تو تمباکو نوشی ایسی عادت ہے جو ہر عمر کے مردوں اور خواتین میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھا دیتی ہے مگر خواتین میں اس کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ناردرن جنرل ہاسپٹل کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 18 سے 49 سال کی خواتین میں اس لت سے دور رہنے والی خواتین کے مقابلے میں جان لیوا ہارٹ اٹیک کا خطرہ 13 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

طبی جریدے جرنل آف دی امریکن کالج آف کارڈیالوجی میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ نتائج سے خواتین میں تمباکو نوشی اور ہارٹ اٹیک کے درمیان تعلق پر روشنی ڈالی گئی ہے اور اس لت سے دور رہ کر درمیانی عمر میں اس جان لیوا مرض سے بچنا ممکن ہوسکتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ تمباکو نوشی کو چھوڑنے سے خواتین میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ اس لت سے دور رہنے والی خواتین جتنا ہی کم ہوجاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس خطرے میں اتنی کمی حیران کن ہے مگر یہ اچھی خبر بھی ہے کہ اس لت سے دوری اختیار کرنا دل کی صحت کے لیے کس حد تک فائدہ مند ہے۔

اس حوالے سے ڈیٹا کا جائزہ لینے پر محققین نے دریافت کیا کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین میں اس عادت کے نتیجے میں جان لیوا ہارٹ اٹیک کا خطرہ 6 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

50 سال سے کم عمر خواتین میں یہ امکان اس لت سے دور رہنے والی خواتین کے مقابلے میں 13 گنا زیادہ ہوتا ہے، جبکہ اس عمر کے تمباکو نوشی کے عادی مردوں میں یہ خطرہ 8 گنا زیادہ ہوتا ہے۔