جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو: تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر

11 جولائ 2019

ای میل

آئینی درخواست اشتیاق احمد مرزا نے ایڈووکیٹ چوہدری منیر صادق کے توسط سے جمع کروائی۔ — فائل فوٹو: ٹوئٹر
آئینی درخواست اشتیاق احمد مرزا نے ایڈووکیٹ چوہدری منیر صادق کے توسط سے جمع کروائی۔ — فائل فوٹو: ٹوئٹر

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی گئی۔

آئینی درخواست اشتیاق احمد مرزا نے ایڈووکیٹ چوہدری منیر صادق کے توسط سے سپریم کورٹ رجسٹری میں جمع کروائی گئی۔

درخواست میں وفاقی حکومت، مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف، نائب صدر مریم نواز، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما راجہ ظفر الحق کو فریق بنایا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ درخواست میں ویڈیو کے مرکزی کردار ناصر بٹ اور پاکستان الیکٹرنک میڈیا ریگولیٹری (پیمرا) کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: پیپلز پارٹی کا سپریم کورٹ سے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو پر نوٹس کا مطالبہ

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ مسلم لیگ کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے سامنے لائی گئی اس ویڈیو سے عدلیہ کی آزادی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے، تاہم ہر صورت اس معاملے کی انکوائری کروائے۔

اس میں مزید کہا گیا کہ ویڈیو کی تحقیقات سے عدلیہ کے وقار، عزت اور آزادی پر اٹھائے گئے سوالات کا جواب مل جائے گا۔

درخواست میں بتایا گیا کہ ' مریم صفدر اور دیگر لیگی رہنماؤں نے پریس کانفرنس کی جس میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک اور ناصر بٹ کے درمیان ہونے والی بات چیت کی ویڈیو ریکارڈنگ دکھائی گئی۔'

درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ اس ویڈیو سے یہ تاثر گیا ہے کہ عدلیہ آزادی سے کام نہیں کرتی اور یہ بلیک میل ہوجاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا جج کی مبینہ ویڈیو کی فرانزک تحقیقات کرانے کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ پریس کانفرنس کا ریکارڈ پیمرا سے طلب کیا جائے اور کیونکہ جو الزامات عدلیہ پر لگے ہیں ان کی انکوائری ہونا ضروری ہے۔

جج ارشد ملک کی پریس ریلیز کا حوالہ دے کر درخواست میں کہا گیا کہ معزز جج اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کر چکے ہیں جبکہ انہوں نے اس ویڈیو کو مفروضوں پر مبنی قرار دیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ جج ارشد ملک کی پریس ریلیز میں رشوت کی پیشکش کرنے کی جو بات کی گئی وہ سنجیدہ نوعیت کی ہیں۔

درخواست گزار نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ وہ اس ویڈیو کی تحقیقات کرنے کا حکم دے جبکہ وفاقی حکومت کو عدلیہ کی آزادای کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت دے۔