کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد سپردخاک

اپ ڈیٹ 12 جولائ 2019

ای میل

مولانا صوفی محمد کو آبائی قبرستان میں سپردخاک کیا گیا—فائل فوٹو: اے پی
مولانا صوفی محمد کو آبائی قبرستان میں سپردخاک کیا گیا—فائل فوٹو: اے پی

تیمر گرہ: کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد 86 سال کی عمر میں پشاور میں انتقال کر گئے۔

انہون نے 90 کی دہائی میں مالاکنڈ میں شریعت کے نفاذ کی اشتعال انگیز تحریک کا آغاز کیا تھا بعد ازاں افغان جنگ کے دوران ہزاروں نوجوان ان کے ساتھ امریکا کے خلاف جنگ میں شمولیت کے لیے افغانستان بھی گئے تھے۔

ان کی میت لال قلعہ میدان منتقل کی گئی اور آبائی قبرستان میں انہیں سپردخاک کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد جیل سے رہا

پشاور میں موجود ایک عہدیدار نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مولانا کو علی الصبح پولیس ہسپتال لے جایا گیا تھا جہاں ڈاکٹرز نے ان کی موت کی تصدیق کی انہیں ذیابطیس، ہائپر ٹینشن سمیت متعدد امراض لاحق تھے۔

ماضی میں جماعت اسلامی کا حصہ رہنے والے مولانا صوفی محمد نے زیریں دیر اور میدان کے عمائدین کے ساتھ مل کر 1988 میں تحریک نفاذ شریعت محمدی کی بنیاد رکھی تھی جس کا مقصد مالاکنڈ ڈویژن، ہزارہ کوہستان میں شریعت کا نفاذ تھا۔

انہوں نے 1994 میں سول نافرمانی کی تحریک کا آغاز کیا جسے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے بزور طاقت کچل دیا تھا۔

مزید پڑھیں: ٹی ٹی پی کا قیامت تک بائیکاٹ کیا جائے: مولانا صوفی محمد

انہیں قید کر کے ان پیروکاروں کو اس تحریک پر عملدرآمد کو روک دیا تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کارکنان نے سوات میں موجود سرکاری تنصیبات اور دفاتر کو نشانہ بنانا شروع کردیا حتیٰ کہ ایئرپورٹ پر بھی قبضہ کرلیا۔

صوفی محمد 15 سال تک قید رہے اور 2001 میں میں ایک مرتبہ پھر اس وقت منظرِ عام پر آئے جب وہ ہزاروں نوجوانوں کو لے امریکا سے لڑنے افغانستان میں داخل ہوئے۔

ایک اندازے کے مطابق وہ رضاکارانہ طور پر تقریباً 10 ہزار نوجوانوں کو افغانستان لے جانے میں کامیاب ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: سوات میں 11 سال بعد فوجی آپریشن اور ایمرجنسی ختم

تاہم طالبان کو ملنے والی شکست کے نتیجے میں مولانا اپنے سینکڑوں ساتھیوں سے محروم ہوئے اور پاکستان واپس آگئے جہاں انہیں پاراچنار کی سرحد عبور کر کے پاکستان میں داخل ہونے ہر گرفتار کرلیا گیا۔

امریکی فورسز کی طالبان کے ٹھکانوں پر کی گئی بمباری کے نتیجے میں مولانا صوفی محمد کے بھی سینکڑوں رضاکار مارے گئے جبکہ متعدد کو مالاکنڈ اور قبائلی اضلاع میں ہونے والے آپریشن کے دوران گرفتار کرلیا گیا لیکن نوجوانوں کو غلط راہ کی طرف مائل کرنے پر کسی کا احتساب نہ ہوسکا۔