امریکی دھمکیوں کے باوجود ترکی کو ایس-400 میزائل کی پہلی کھیپ موصول

اپ ڈیٹ 12 جولائ 2019

ای میل

پہلی کھیپ انقرہ کے شمال مغرب میں واقع میورتد ملٹری ایئر بیس پہنچائی گئی — فوٹو: رائٹرز
پہلی کھیپ انقرہ کے شمال مغرب میں واقع میورتد ملٹری ایئر بیس پہنچائی گئی — فوٹو: رائٹرز

ترکی کو امریکی دھمکیوں کے باوجود روسی ساختہ دفاعی نظام ایس-400 کی پہلی کھیپ موصول ہوگئی جس کے بعد واشنگٹن سے کشیدگی اور پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ترکی کے وزیر دفاع نے بتایا کہ ایس -400 فضائی دفاعی نظام کی پہلی کھیپ انقرہ کے شمال مغرب میں واقع میورتد ملٹری ایئربیس پہنچادی گئی ہے۔

ترک وزیر دفاع نے سرکاری خبر رساں ادارے 'انادولو' ایجنسی کو بتایا کہ ’آج 3 کارگو طیارے پہنچے ہیں‘، انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ چند دنوں میں مزید کھیپ موصول ہوگی۔

مزید پڑھیں: روس سے ایس-400 میزائل معاہدے سے دستبردار نہیں ہوں گے، ترک صدر

اس حوالے سے ترک نشریاتی اداروں نے روسی ایئر فورس کے کارگو طیاروں اے این-124 کے ایئربیس پر آف لوڈ ہونے کی فوٹیج بھی جاری کی۔

روس کی 'طاس' نیوز ایجنسی کے مطابق ملٹری ذرائع نے بتایا کہ ترکی کو ایس -400 دفاعی نظام کی دوسری کھیپ بذریعہ جہاز جلد موصول ہوگی اور 120 میزائلوں پر مشتمل تیسری کھیپ بحری جہاز کے ذریعے گرمیوں کے اختتام میں بھیجی جائے گی۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ 20 ترک اہلکاروں نے مئی ۔ جون میں روس سے تربیت حاصل کی اور مزید 80 ترک اہلکار ایس -400 دفاعی نظام کا استعمال سیکھنے کے لیے تربیت حاصل کریں گے۔

اس حوالے سے امریکا کے قائم مقام سیکریٹری دفاع مارک ایسپر نے کہا کہ اس مسئلے پر واشنگٹن کا موقف تبدیل نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے انقرہ پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی ہے اور روس کا دفاعی سازو سامان نیٹو کے دفاعی نظام کے مقابلے پر پورا نہیں اترتا۔

مارک ایسپر نے کہا کہ ہم ترکی کو ایس-400 میزائل موصول ہونے سے آگاہ ہیں اور ایف-35 سے متعلق ہمارا موقف تبدیل نہیں ہوا، اس حوالے سے ترک ہم منصب سے بات چیت کروں گا۔

خیال رہے کہ جون میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا تھا کہ امریکا کی دھمکیوں کے باوجود وہ روس کے ساتھ ایس-400 میزائل کے معاہدے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ترکی، روس سے دفاعی نظام کے معاہدے سے جولائی تک دستبردار ہوجائے، امریکا

اس سے قبل پینٹاگون کے اعلیٰ عہدیدار نے کہا تھا کہ اگر ترکی نے روس سے اینٹی- ایئر کرافٹ ویپن سسٹم خریدنے کا منصوبہ برقرار رکھا تو اس کے مشترکہ ایف-35 فائٹر پروگرام اور نیٹو کے ساتھ اس کے تعاون کے نتائج خطرناک ہوں گے۔

واضح رہے کہ امریکا کی قائم مقام سیکریٹری دفاع برائے بین الاقوامی سیکیورٹی امور کیتھرائن وہیل بارگر نے کہا کہ ایس-400 کی خریداری ترکی کی نیٹو کے ساتھ کام کرنے کی قابلیت کو نقصان پہنچائے گی۔

ترکی نے ایف-35 طیارے پر ایس 400 کے اثرات کی جانچ کے لیے دونوں ممالک کو ورکنگ گروپ تشکیل دینے کی تجویز دی ہے، جس سے متعلق کہا گیا تھا کہ واشنگٹن نے یہ تجویز منظور کرلی تھی۔

اردوان نے کہا تھا کہ انہوں نے واشنگٹن کو بتایا تھا کہ انقرہ پیٹریاٹ میزائل خریدنے کے لیے اقدامات صرف اُس صورت میں کرے گا کہ اگر اس کی شرائط روس جتنی مثبت ہوں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'بدقسمتی سے ہمیں روس سے ایس-400 کی طرح امریکا کی جانب سے پیٹریاٹ میزائل سے متعلق کوئی مثبت تجویز نہیں ملی'۔