تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت: چین کا امریکی کمپنیوں پر پابندی کا فیصلہ

13 جولائ 2019

ای میل

چین نے امریکا سے تائیوان کو 2 ارب 20 کروڑ ڈالر مالیت کے ہتھیاروں کی فروخت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا — فائل فوٹو / رائٹرز
چین نے امریکا سے تائیوان کو 2 ارب 20 کروڑ ڈالر مالیت کے ہتھیاروں کی فروخت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا — فائل فوٹو / رائٹرز

چین کا کہنا ہے کہ وہ تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کرنے والی امریکی کمپنیوں پر پابندی عائد کرے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان جینگ شوآنگ نے اپنے بیان میں کہا کہ 'امریکا کی تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت سے بین الاقوامی قانون اور تعلقات کے بنیادی اقدار کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'قومی مفادات کے تحفظ کے لیے چین، تائیوان کو ہتھیار کی فروخت میں حصہ لینے والی امریکی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرے گا۔'

امریکا کی جانب سے تائیوان کو بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی فروخت ایسے وقت میں کی جارہی ہے جب واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تجارتی جنگ کے باعث تعلقات کشیدہ ہیں۔

چین، تائیوان کو اپنے ملک کا حصہ تصور کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ ایک دن اس پر ضرور قبضہ کرے گا چاہے یہ طاقت کے استعمال کے ذریعے ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

چند روز قبل چین نے امریکا سے تائیوان کو 2 ارب 20 کروڑ ڈالر مالیت کے ہتھیاروں کی فروخت فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: چین کا امریکا سے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت بند کرنے کا مطالبہ

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پریس بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ چین نے سفارتی چینلز کے ذریعے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت پر باقاعدہ شکایات درج کی ہیں، جن میں امریکی اقدام پر عدم اطمینان اور مخالفت کا اظہار کیا ہے۔

امریکی ڈیفنس سیکیورٹی کوآپریشن ایجنسی (ڈی ایس سی اے) کے مطابق معاہدے میں 108 ایم ون اے ٹو ٹی ابرامس ٹینکس، 250 اسٹینگر اینٹی ایئر کرافٹ میزائل، متعلقہ آلات اور معاونت شامل ہیں جن کی لاگت اندازاً 2 ارب 20 کروڑ ڈالر سے زائد ہے۔

ڈی ایس سی اے نے بتایا کہ ہتھیاروں کی مجوزہ فروخت سے تائیوان کے جنگی ٹینکوں کی تعداد میں اضافہ اور فضائی دفاعی نظام مضبوط ہوگا، تائیوان کی سیکیورٹی اور دفاعی قابلیت کی بہتری میں مدد سے امریکا کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کی حمایت ہوگی‘۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بیجنگ نے امریکا کے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کے منصوبے پر پابندیوں کی دھمکی دی ہو۔

سال 2010 میں امریکا نے تائیوان کو پیٹریوٹ میزائل، بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز اور دیگر فوجی ساز و سامان فروخت کرنے کی منظوری دی تھی، جن کی مالیت 6 اعشاریہ 4 ارب ڈالر تھی۔

اس منصوبے پر بھی بیجنگ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے واشنگٹن سے ملٹری اور فوجی معاہدے ختم کر دیئے تھے اور تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت میں ملوث امریکی کمپنیوں پر پابندیوں کی دھمکی دی تھی۔

مزید پڑھیں: امریکا چین تجارتی جنگ، ‘بیجنگ میں مذاکرات کا پہلا دور مثبت رہا‘

'آگ سے نہ کھیلو'

امریکا نے 1979 میں سفارتی طور پر چین کو اہمیت دی تھی لیکن ساتھ ہی تائپے کا اہم اتحادی بھی رہا اور اسے ہتھیاروں کی فروخت کرتا رہا ہے۔

چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے واشنگٹن کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ 'وہ تائیوان کا سوال اٹھا کر آگ سے نہ کھیلے۔'

تائیوان کے صدر سائی اِنگ وین، کیریبین میں سفارتی اتحادیوں کے دورے سے قبل امریکا میں دو روز گزار رہے ہیں۔

ان کے دورہ امریکا پر بھی چین نے شدید ردعمل دیا تھا۔