گولین میں گلیشیائی جھیل کا پھٹنا، کیا بکری پھر جیت گئی؟

اپ ڈیٹ 16 جولائ 2019

ای میل

اب یہ تو طے ہے کہ چترال کی گولین وادی میں آنے والا سیلاب ایک گلیشیائی جھیل کے پھٹنے کے سبب تھا۔

پاکستان کے شمالی علاقوں میں واقع خوبصورت وادئ چترال کے بُلند ترین مقام شندور پرپولو میلہ اپنی روایتی خوبصورتی کے ساتھ جاری تھا، دنیا بھر سے آئے ہوئے سیاحوں کے دل گھوڑوں کی ٹاپوں کے ساتھ دھڑک رہے تھے اور پوری وادی ڈھول کی تھاپ پر رقصاں تھی کہ چترال ہی کی ایک وادی سیلاب کی لپیٹ میں آگئی۔

دنیا نے چترال کے حوالے سے یہ دونوں اچھی بُری خبریں ایک ساتھ سُنیں۔ یہ سیلاب چترال شہر سے 25 کلومیٹر دُور گولین وادی کے روگھیلی گلیشئر کے پھٹنے سے آیا جس سے گولین ویلی روڈ، پانچ پُل، بجلی گھر، گھروں، دکانوں، مویشیوں کے باڑوں اور بڑی تعداد میں باغات اور زرعی اراضی کو نقصان پہنچا جبکہ ازغور کے مقام پر قدرتی جنگلات کے بہت سے قیمتی درخت بھی سیلاب کی نذر ہوگئے۔ کھڑی فصلیں اور فراہمئ آب کے تمام کے تمام پائپ بھی اس سیلاب میں محفوظ نہ رہے۔ راستہ بند ہونے سے گولین کی وادی میں لوگ محصور ہوگئے تھے جنہیں بعد ازاں نکال کر محفوظ مقامات تک پہنچایا گیا۔

وہ دیہات جہاں گولین وادی سے پانی فراہم کیا جاتا ہے، وہاں اب بھی ایمرجنسی کی صورتحال برقرار ہے۔ ان میں سرِ فہرست موری پائیں اور برغوزی کے دیہات ہیں۔ موری پائیں کی آنادہ تقریباً 350 افراد پر مشتمل ہے، اور پانی کے لیے یہ گولین پر ہی انحصار کرتا ہے۔ چونکہ علاقے میں فصل کی کاشت کا سیزن ہے اس لیے کاشت کار انتہائی پریشان ہیں۔

یہ سیلاب  چترال شہر سے 25 کلومیٹر دُور گولین وادی کے روگھیلی گلیشئر کے پھٹنے سے آیا—ڈان
یہ سیلاب چترال شہر سے 25 کلومیٹر دُور گولین وادی کے روگھیلی گلیشئر کے پھٹنے سے آیا—ڈان

گولین وادی میں آنے والے سیلاب کو ماہرین GLOF) Glacial Lakes Outburst Floo) کا نام دے رہے ہیں جسے ہم عام زبان میں گلیشیائی جھیل کا پھٹنا بھی کہہ سکتے ہیں۔

گلیشیائی جھیل کے پھٹنے سے کیا مراد ہے؟

پاکستان اپنے منفرد جغرافیہ کی بدولت دنیا بھر میں ایک اہم مقام رکھتا ہے، یہاں سمندر، ساحل، دریا، ڈیلٹا، صحرا، پہاڑ ی علاقے، گلیشئر، جنگل اور زرعی اراضی کی صورت گوناگوں ایکو سسٹم یا ماحولیاتی نظام موجود ہیں۔ شاید ہی کسی دوسرے ملک میں اتنا تنوع پایا جاتا ہو۔

پاکستان کے شمال میں 3 عظیم پہاڑی سلسلوں یعنی ہمالیہ، ہندوکش اور قراقرم کا سنگم واقع ہے۔ انہی پہاڑوں میں کم و بیش 7 ہزار چھوٹے بڑے گلیشئر واقع ہیں جن کی تعداد قطبین کے بعد شمال کو تیسرا بڑا گلیشیائی خطہ بناتی ہے۔

ہمارے ان گلیشئروں سے دستیاب پانی کی مقدار دریائے سندھ کے کُل بہاؤ کے نصف کے قریب ہے اور یہ پانی ملک کی زرعی، صنعتی اور بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ گرمیوں میں درجہءِ حرارت کے بڑھنے سے یہ گلیشئر پگھلنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ان گلیشئروں کے چھلکتے پانی سے اردگرد کے نشیبی علاقوں میں جھیلیں بننا شروع ہوجاتی ہیں جہاں گلیشئر سے رستا ہوا پانی جمع ہوتا رہتا ہے۔

گلیشئر سے بننے والی ان جھیلوں کو گلیشیائی جھیلیں کہا جاتا ہے۔ جب یہ جھیلیں اپنی کُل گنجائش تک پہنچ جانے پر اضافی پانی کا بوجھ برداشت نہیں کرپاتیں تو یہ پھٹ جاتی ہیں جس سے پانی تیز رفتاری سے نشیبی علاقوں کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ چونکہ یہ پانی بلندی سے نشیب کی طرف بہہ رہا ہوتا ہے اس لیے پانی کی رفتار بھی تیز ہوتی ہے اور یہ اپنے ساتھ مٹی، برفانی تودے اور بڑے بڑے پتھر بھی لارہا ہوتا ہے۔

زیریں آبادیوں کے لیے یہ ایک تباہ کُن سیلاب ہوتا ہے جو اچانک ہی انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اس عمل کو گلیشیائی جھیلوں میں سیلاب (Glacial lake outburst flood) یا GLOF کہا جاتا ہے۔

جون 2015ء میں چترال میں آنے والا سیلاب—سید حریر شاہ
جون 2015ء میں چترال میں آنے والا سیلاب—سید حریر شاہ

محکمہءِ موسمیات پاکستان کے سابق ڈی جی ڈاکٹر غلام رسول کے مطابق شمالی علاقہ جات خصوصاً گلگت بلتستان میں 7 ہزار سے زائد گلیشئر ہیں اور ان کے ساتھ 3044 گلیشیائی جھیلیں موجود ہیں جن میں سے 36 جھیلوں کو انتہائی خطرناک قرار دیا جاچکا ہے۔

گولین کے حوالے سے جاری محکمہءِ موسمیات کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق گولین وادی کے بالائی علاقوں میں 53 چھوٹے بڑے گلیشئر موجود ہیں اور ان کے قریب کم از کم 9 گلیشیائی جھیلیں وجود میں آچکی ہیں، جن میں سے 2 کو انتہائی خطرناک قرار دیا جاچکا ہے۔ حالیہ سیلاب روگھیلی (Rogheli) گلیشئر کی انجیلیکل جھیل کے پھٹنے کا شاخسانہ ہے۔ سیٹلائٹ ریکارڈ کے مطابق یہ جھیل 3 جون 2019ء کو وجود میں آئی تھی۔

سیلابوں سے ہونے والے نقصانات میں جانی اور مالی نقصان کے علاوہ پانی سے زمین کا کٹاؤ اور بہاؤ کے ساتھ آنے والا مٹی و پھتر پر مشتمل ملبہ قراقرم کی وادیوں میں نقصانات کا سبب بنتا ہے۔ یہ سیلاب بڑے پہاڑی تودوں کے گرنے اور راہ میں آنے والی تہہ در تہہ آبادیوں کی تباہی کا سبب بھی بنتے ہیں اور ایسا بارہا ہوچکا ہے۔ تربیلا ڈیم کی تعمیر سے پہلے دربند اور اٹک کے مقام پر صرف ایک بہاؤ میں ڈھیر سارا ملبہ اتر آیا تھا جس کے نتیجے میں مٹی کا بہت بڑا کٹاؤ پیدا ہوگیا تھا۔ اس قسم کا ملبہ ڈیموں کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

ایسی ہی گلیشیائی جھیلوں کے سیلاب کے تدارک کے لیے حکومتِ پاکستان نے گلگت بلتستان میں ایک منصوبہ شروع کیا تھا جس نے ان علاقوں میں بہت اچھے اثرات مرتب کیے (ہمیں یہ پروجیکٹ دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے)۔ چترال بھی اس منصوبے کا حصہ تھا۔

یہ پاکستان گلوف پروجیکٹ کلائمیٹ چینج ڈویژن حکومتِ پاکستان، اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی ادارے اور ایڈاپٹیشن فنڈ کا ایک مشترکہ پروجیکٹ تھا جس کا دورانیہ 2011ء سے 2015ء پر مشتمل تھا۔ اس منصوبے کا مقصد پاکستان کے شمالی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے سیلاب اور موسمیاتی تغیرات سے پیدا ہونے والی تباہ کاریوں سے مقامی آبادی کو محفوظ رکھنا تھا۔ اس منصوبے نے ان وادیوں کے کچھ حصوں میں مثبت اثرات مرتب بھی کیے۔

سائنسی معلومات کو ذرا ایک طرف رکھتے ہوئے یہ دیکھتے ہیں کہ مقامی لوک دانش گلیشئر اور گلیشیائی جھیلوں کے نظام کو کیسے دیکھتی ہے۔

چترال کے رہائشی ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی صاحب جو ایک طویل عرصے سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں اور بین الاقوامی اتحاد برائے تحفظ قدرت (IUCN) پاکستان کے پروجیکٹ منیجر بھی رہ چکے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ جب ’لوک دانش ہار جائے اور بکری جیت جائے تو ایسے ہی سیلاب آتے ہیں۔‘ وہ وضاحت یوں کرتے ہیں کہ پہاڑوں میں رہنے والے جانتے ہیں کہ ایک خاص حد کے بعد درخت نہیں اُگتے اور جہاں درخت نہیں اُگتے اس جگہ سبزہ اُگ آتا ہے اور زمین کو گھیر لیتا ہے۔

یہ سبزہ مٹی کی حفاظت کرتا ہے اور سبزے کا یہ حفاظتی حصار اس مقام تک جاتا ہے جہاں سفید برف نظر آتی ہے۔ سفید برف سے اوپر سیاہ اور نیلی برف ہوتی ہے جس کو مقامی لوگ ’شاپوز‘ کہتے ہیں۔ کتابوں میں یہ برف گلیشئر کہلاتی ہے۔ یہ سیکڑوں سالوں سے جمع ہوتی رہتی ہے۔ سبزہ اوراس برف کے درمیان ایک دلدلی زمین ہوتی ہے، اس دلدل کو مقامی لوگ ’نژدیر‘ کہتے ہیں جبکہ کتابوں میں یہ برفانی جھیل یا گلیشئر لیک کہلاتی ہے۔

اس دلدل کے اوپر بھی سبزہ اُگتا ہے۔ تجربہ کار لوگ کہتے ہیں کہ سبزہ ختم ہوجائے تو نژدیر پھٹنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ گاؤں کی عمر رسیدہ خواتین بلند پہاڑی دروں اور وادیوں میں جانے والوں کو نصیحت کرتی ہیں کہ پہاڑوں کی ملکہ ’شاوان نان‘ پریوں کی ماں ہے، اگر سبزے کو روندا جائے تو وہ ناراض ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں چشمے بپھر جاتے ہیں۔ نژدیر ٹوٹ جاتے ہیں اور ندی نالوں میں طغیانی آجاتی ہے۔ یہ قصے اور کہاوتیں لوگوں کو ماحول تباہ کرنے والی حرکتوں سے روکتے ہیں۔ لوگ ان قصوں پر یقین رکھتے ہیں اور پریوں کی ملکہ ’شاوان نان‘ کی ناراضی سے ڈر کر کوئی ایسا کام نہیں کرتے جو ماحول کو نقصان پہنچائے۔

ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی کا کہنا ہے کہ ’علاقے میں موجود غیر مقامی افراد ان رسوم و روایات کا خیال نہیں رکھتے۔ اب ان علاقوں میں کئی دہائیوں سے افغان مہاجرین کا اثر نفوذ بڑھ گیا ہے۔ اب مویشی چرانے کا کام یہ افغان گوجر کرتے ہیں۔ پہلے مقامی لوگ مویشی چراتے تھے تو صدیوں پرانی مقامی روایات کا خیال رکھتے تھے، اپنے کسی عمل سے ماحول کو نقصان نہیں پہنچاتے تھے۔ کسی بھی چراہ گاہ میں مویشیوں کو اس حد تک نہیں چرایا جاتا تھا کہ وہاں سبزے کا وجود ہی مٹ جائے۔ متبادل چراہ گاہیں موجود ہوتی ہیں۔ ایک خاص حد کے بعد چراہ گاہ کو کچھ عرصے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ وہاں دوبارہ سبزہ، گھاس پھونس اور جھاڑ جھنکاڑ اُگ آئے۔

’لوگ جانتے تھے کہ خالی زمین پر مٹی کا کٹاؤ آسانی سے ہوجاتا ہے۔ ایسی زمینیں سیلاب کو زیادہ خطرناک بنادیتی ہیں لیکن اب مویشی چرائی یا گلہ بانی کا کام تبدیل ہوچکا ہے، اب وادی میں مویشی چرانے کا کام افغان مہاجرین نے سنبھال لیا ہے جو تقریباً 80 کی دہائی سے یہاں آباد ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگوں نے مقامی خواتین سے شادیاں بھی کرلی ہیں۔ یہ لوگ مقامی رسوم و رواج سے ناواقف ہیں اور واقف ہونا بھی نہیں چاہتے کیونکہ انہیں ان علاقوں سے کوئی محبت نہیں ہے۔ یہ ہر وہ کام کرتے ہیں جس سے ماحول کو نقصان پہنچے۔

یہ لوگ اندھا دھند مویشی چراتے ہیں اور زمین سے آخری حدوں تک جھاڑ جھنکاڑ اورسبزہ ختم کردیتے ہیں۔ جہاں مقامی لوگ کبھی مویشی لے کر نہیں جاتے تھے یہ وہاں اوپر گلشییرز تک مویشی چرائی کے لیے لے جاتے ہیں۔ سبزے کی ڈھال ختم ہونے سے مٹی آزاد ہوجاتی ہے اور لینڈ سلائیڈنگ اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے جیسے واقعات جنم لیتے ہیں۔‘

ڈاکٹر صاحب مزید بتاتے ہیں کہ ’یہ مہاجرین ہماری باتوں کی پرواہ نہیں کرتے ہیں۔ سبزے کو ختم کرنے کے علاوہ یہ نہ صرف درختوں کی کٹائی میں ملوث ہیں بلکہ یہ درخت کی جڑوں کو جلا کر کوئلہ بنا کر مارکیٹ میں بیچتے ہیں۔

ان افراد کے باعث علاقے میں بکریاں پالنے کا رجحان بڑھا ہے۔ بکری پودے کو جڑ سے اُکھاڑ دیتی ہے۔ پہاڑوں پر یہ عمل بہت خطرناک ہے۔ مقامی اہل دانش بکریاں پالنے کے خلاف ہیں لیکن لوگ ان کی بات نہیں مانتے، اس لیے جب بھی کوئی گلیشیائی جھیل پھٹتی ہے تو ہم کہتے ہیں کہ آج بکری پھر جیت گئی۔‘

2015ء میں چترال میں آنے والا سیلاب—پی پی آئی
2015ء میں چترال میں آنے والا سیلاب—پی پی آئی

حکومت کے گلوف پروجیکٹ کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب اعتراض کرتے ہیں کہ اس کے دوسرے فیز کو 8 سال پہلے شروع ہوجانا چاہیے تھا لیکن بیوروکریسی قدم قدم پر اس منصوبے کی راہ میں رکاوٹ بنتی رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ابتدائی پائلٹ پروجیکٹ سول سوسائٹی نے کیا تھا لیکن دوسرے فیز کو افسر شاہی سرانجام دے گی۔ 4 جولائی کو خاموشی سے اس پروجیکٹ کا افتتاح کردیا گیا جس میں میڈیا سمیت کسی کو مدعو نہیں کیا گیا۔ اس حوالے سے بہت سے سولات ہیں جو چترال والے حکومت سے پوچھنا چاہتے ہیں۔حکومت کو ان کا جواب دینا چاہیے‘۔

گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے کب کیا نقصان ہوا؟

اس کا پورا ریکارڈ تو موجود نہیں ہے مگر آئی یو سی این کے سہ ماہی جریدے کی ایک تحقیق کے مطابق گزشتہ 2 صدیوں میں قراقرم کے علاقے میں ایسے 35 سیلابوں کا ریکارڈ پایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اندازاً 35 گلیشئر نے اپنی جگہ سے حرکت کی اور وہ دریائے سندھ کی طرف جانے والی نہروں اور آبی راستوں کی طرف بڑھے۔ اچانک نمودار ہونے والا تیز رفتار پانی اپنے ساتھ مٹی و پتھر اور خس و خاشاک بھی ساتھ لاتا ہے جو راستے میں موجود آبادیوں اور تنصیبات کو تباہ کردیتا ہے۔

1884ء ہنزہ میں وادئ شمشال کے مقام پر ایک گلیشیائی جھیل کے پھٹنے سے دریائے ہنزہ کی سطح میں تقریباً 10 فٹ کا اضافہ ہوا جس سے گنیش اور بلتت کے علاقوں میں بہت تباہی پھیلی۔

اسی طرح کا ایک واقعہ 1893ء اور پھر 1905ء میں رونما ہوا۔ اس دوسرے یعنی 1905ء کے واقعے میں ہنزہ کی طرف آنے والی پانی کی سطح 28 فٹ تک بُلند ہوگئی جس سے بے شمار پہاڑی تودے پانی کے ساتھ بہتے ہوئے نیچے آئے۔ 1927ء اور 1928ء میں بھی ایسے ہی حادثات رونما ہوئے۔

1929ء اور 1932ء میں بالائی سندھ کے علاقے چنگ خمدان کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کا بہاؤ ساڑھے 13 ملین مکعب میٹر تک جا پہنچا۔

چترال  میں لکڑیوں کی ٹال—تصویر ڈان
چترال میں لکڑیوں کی ٹال—تصویر ڈان

1973ء اور 1974ء میں بالتورو گلیشئر کے پگھلنے سے پانی نے اچانک اپنا رُخ چند سو میٹر تک تبدیل کرلیا جس سے قراقرم ہائی وے کے لیے بنائے جانے والے پشتے کا خاصا بڑا حصہ منہدم ہوگیا اور ایک پُل بھی تباہ ہوگیا۔

1977ء میں شسکاٹ نامی گاؤں کے اوپر بالٹ بار نامی گلیشئر کے پگھلاؤ سے آنے والا پانی کا ریلا وہاں موجود پہاڑی چٹانیں، بڑے بڑے پتھر اور مٹی کو بہا کر لے گیا۔ اس پانی نے ایک بڑی جھیل کی صورت اختیار کرلی اور سڑک کے ایک بڑے حصے کو نقصان پہنچایا۔

درکوٹ اور باراندوس میں ستمبر 1973ء میں ایک جھیل کے ابلنے سے بہت سے کھیتوں، ایک اسکول اور 80 مکانات کو نقصان پہنچا۔

1999ء میں کھالتی جھیل اور گوپیز کے دائیں کناروں سے ملبے کا بہاؤ شروع ہوا اوریہ گوپیز سے ہوتا ہوا شاہراہِ شندور تک جاپہنچا اور دریائے غذر کا راستہ روک کر ایک جھیل بنادی۔ خان کھوئی نامی یہ جھیل اب بھی موجود ہے۔

2000ء میں ایک گلیشیائی جھیل کے پھٹنے سے کانڈے کے مقام پر دریائے ہوشے سے نکلنے والی ایک ندی میں چٹانوں کا ملبہ نمودار ہوا۔ اس سیلاب نے کانڈے گاؤں کو مکمل تباہ کردیا اور ایک پرائمری اسکول سمیت 124 مکانات اس سیلاب کی نذر ہوگئے۔ یہ انتہائی گرمیوں کے دن تھے اور یہ حادثہ دوپہر میں رونما ہوا۔ لوگوں نے پہاڑوں میں ایک گونج کی آواز سنی اور 10 منٹ کے اندر سیلاب نے انہیں آلیا۔

جبکہ صرف چترال میں 2006ء سے لے کر اب تک گلیشیائی جھیل پھٹنے کے 8 حادثات رونما ہوچکے ہیں جس میں حالیہ گولین وادی کا سیلاب بھی شامل ہے۔