ملک بھر میں ’ سینسر شپ ’ کے خلاف صحافیوں کا احتجاج

16 جولائ 2019

ای میل

یہ ریلیاں ’ صرف احتجاجی تحریک کا آغاز ہیں‘،صدر پی ایف یو جے— فوٹو: شٹراسٹاک
یہ ریلیاں ’ صرف احتجاجی تحریک کا آغاز ہیں‘،صدر پی ایف یو جے— فوٹو: شٹراسٹاک

پاکستانی صحافییوں نے روز بروز بڑھتی ہوئی سینسر شپ، بجٹ میں کٹوتی کی وجہ سے بھاری نقصان اور تنخواہوں کی ادائیگیوں میں کئی ماہ کی تاخیر کے خلاف ملک گیر احتجاج کیا۔

امریکی خبررساں ادارے ’ اے پی‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس( پی ایف یو جے) کی زیر صدارت 16 جولائی کو سینسر شپ کے خلاف مذمت کے طور پر احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔

پی ایف یو جے کا کہنا ہے کہ صحافی پاکستان کی تاریخ کے سخت ترین دور سے گزر رہے ہیں اور انہوں نے سینسر شپ کے خلاف جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مزید پڑھیں: صحافتی آزادی کا معاملہ، پاکستان کے درجے میں تنزلی

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر افضل بٹ نے کہا کہ یہ ریلیاں ’ صرف احتجاجی تحریک کا آغاز ہیں‘۔

صحافیوں اور آزادی صحافت کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے میڈیا اداروں پر طاقت ور طبقے کی جانب سے دباؤ ڈالا جارہا ہے اور نو منتخب حکومت نجی اخبارات اور چینلز کے ریونیو کے بنیادی ذریعے یعنی اشتہارات کے بجٹ میں کٹوتی کررہی ہے۔

سینر صحافی حامد میر نے اسلام آباد میں احتجاج سے متعلق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کیا جہاں انہوں نے نیشنل پریس کلب کے باہر مظاہرے میں شرکت کی تھی۔