'ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کریں جن پر جنسی ہراساں کا الزام لگا'

ای میل

اداکار نے آلوک ناتھ کے ساتھ گزشتہ سال فلم میں کام کیا —فوٹو/ اسکرین شاٹ
اداکار نے آلوک ناتھ کے ساتھ گزشتہ سال فلم میں کام کیا —فوٹو/ اسکرین شاٹ

بولی وڈ اداکار اجے دیوگن ہمیشہ ہی خواتین کے حقوق کے لیے بات کرتے نظر آتے ہیں تاہم اپنے ایک نئے انٹرویو میں اداکار نے ان کے سپورٹ میں بھی بیان جاری کردیا جن پر خواتین کو ہراساں کرنے کا الزام لگایا جاچکا ہے۔

فلم فیئر کو دیے اپنے ایک انٹرویو میں اداکار نے دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی 'می ٹو' مہم اور ایک ایسے اداکار کے ساتھ کام کرنے کے حوالے سے بات کی جن پر خواتین کو ہراساں کرنے کا الزام لگایا گیا۔

مزید پڑھیں: اجے اور کاجول جنسی ہراساں کے الزامات کی تحقیقات کے خواہاں

اداکار کا کہنا تھا کہ 'کسی پر الزام لگانے اور اس پر الزام ثابت ہونے، ان دونوں باتوں میں فرق ہے، ایسے لوگوں کے ساتھ بالکل کام نہیں کرنا چاہیے جن پر لگا الزام ثابت ہوچکا ہے، لیکن جن پر لگا الزام ابھی ثابت نہیں ہوا، ہم ان کے ساتھ ذیادتی نہیں کرسکتے، ان کے خاندان کا کیا ہوگا؟ میں ایک ایسے شخص کو جاننا ہوں جن پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا گیا اور ان کی بیٹی اس حد تک صدمے کا شکار ہوگئی کہ اس نے کھانا پینا اور اسکول جانا تک چھوڑ دیا'۔

یاد رہے کہ بولی وڈ اداکار آلوک ناتھ پر بھی خواتین نے ریپ اور جنسی ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا اور آلوک ناتھ پر ان الزامات کے بعد اجے دیوگن کو اس وقت تنازعات کا سامنا کرنا پڑا جب وہ آلوک کے ساتھ اپنی فلم 'دے دے پیار دے' میں کام کررہے تھے۔

50 سالہ اجے دیوگن کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا کہ 'جب اس می ٹو مہم کا آغاز ہوا، اس وقت میں نے اور میری پوری ٹیم اور انڈسٹری میں موجود میرے ساتھیوں نے مل کر فیصلہ کیا تھا کہ ورک پلیس پر موجود تمام خواتین کا احترام کرتے ہیں اور ہمیشہ کریں گے اور ان کے ساتھ ہونے والی کسی ناانصافی کو برداشت نہیں کریں گے اور آج بھی میرے اس فیصلے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی'۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'آلوک ناتھ کو فلم سے ہٹانے کا فیصلہ میں اکیلے نہیں کرسکتا تھا، اس معاملے میں فلم کی پوری ٹیم فیصلہ کرتی ہے، میں دوبارہ سے ایک اداکار کو تبدیل کرکے پوری شوٹنگ دوبارہ نہیں کراسکتا تھا، اس کے لیے مزید بجٹ کی ضرورت پڑتی اور اس کا بھی میں فیصلہ نہیں لے سکتا، یہ فیصلہ فلم ساز کے ہاتھوں میں تھا'۔

اجے دیوگن کے بیان کے مطابق تو ان کے خواتین پر بھروسہ کرنے کے فیصلے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی البتہ ان کے اس نئے انٹرویو سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ بہت کچھ تبدیل ہوچکا ہے۔

مزید پڑھیں: نانا پاٹیکر نے جنسی طور پر ہراساں کیا، تنوشری دتہ

یاد رہے کہ آلوک ناتھ کو بولی وڈ میں سنسکاری اداکار کہا جاتا تھا جو اپنی زیادہ تر فلموں میں ایسے کردار ادا کرتے تھے جنہیں دیکھ کر کوئی نہیں سوچ سکتا تھا کہ آلوک ناتھ بھی کسی کو ہراساں کرسکتے ہیں۔

آلوک ناتھ پر پروڈیوسر اور ہدایت کار ونتا نندا اور اداکارہ تونیت نشان نے می ٹو مہم کا سہارا لیتے ہوئے جنسی ہراساں اور ریپ کرنے کا الزام لگایا تھا۔

خیال رہے کہ بھارت میں می ٹو مہم کا آغاز اداکارہ تنوشری دتہ نے کیا تھا جب انہوں نے گزشتہ سال ایک انٹرویو میں معروف بھارتی اداکار نانا پاٹیکر پر جنسی ہراساں کرنے کا الزام لگایا۔