جاپان میں کارٹون اسٹوڈیو پر حملہ، 33 افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 18 جولائ 2019

ای میل

آگ کے باعث 30 افراد زخمی ہوئے جن میں 10 کی حالت نازک ہے—فوٹو: اے پی
آگ کے باعث 30 افراد زخمی ہوئے جن میں 10 کی حالت نازک ہے—فوٹو: اے پی

ٹوکیو: جاپان کے شہر کیوٹو میں تین منزلہ اینیمیشن (کارٹون) اسٹوڈیو میں آتش گیر مادے کے ذریعے مبینہ حملے میں تقریباً 33 افراد ہلاک ہوگئے۔

غیرملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ مطابق اسٹوڈیو کو آتش گیر مادہ پھینک کر جلایا گیا اور پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار بھی کرلیا۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ کیوٹو اینیمیشن نامی کمپنی میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

خبررساں ادارے کے مطابق مشتبہ شخص نے اسٹوڈیو کے داخلی راستے پر آگ لگائی تاکہ عمارت میں موجود افراد جان بچانے کے لیے دوسرے راستوں کا انتخاب کریں.

مقامی پولیس کے ترجمان کزیوہیرو ہیاشی نے بتایا کہ آگ کے باعث تقریباً 36 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں سے 10 کی حالت نازک ہے۔

علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ اسٹوڈیو پر مشتبہ حملے کے الزام پر 41 سالہ شخص کو حراست میں لے لیا ہے اور اس کے قبضے سے متعدد چھریاں بھی برآمد کرلی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تین منزلہ عمارت کی آخری منزل پر متعدد لاشیں ملیں۔

پولیس ترجمان نے بتایا کہ پہلی منزل سے 2، دوسری منزل سے 11 اور تیسری منزل سے 20 لاشیں ملیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ مشتبہ شخص نے مٹی کا تیل چھڑک کر اسٹوڈیو کو آگ لگائی۔

پولیس ترجمان کے مطابق زیر حراست مشتبہ شخص زخمی حالت میں گرفتار ہوا جسے مقامی ہسپتال میں طبی امداد دی جاری ہے اور پولیس کی جانب سے تفتیش کا عمل جلد شروع کردیا جائے گا۔

جاپانی میڈیا کے مطابق اسٹوڈیو کی پہلی منزل پر صبح ساڑھے دس بجے آگ لگی۔

پولیس نے بتایا کہ مقامی رہائشیوں نے اسٹوڈیو سے اٹھنے والے دھوئیں اور دھماکوں کی آواز پر پولیس کو مطلع کیا۔

بتایا گیا کہ آگ اس قدر خطرناک تھی کہ تقریباً 48 فائر فائٹرز کو متاثرہ اسٹوڈیو کی آگ بجھانے کے لیے تعینات کیا گیا۔

جاپان کے وزیراعظم شینزو ایبے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں متاثرہ خاندان سے اظہار افسوس کیا۔