محسن عباس کی اہلیہ نے مجھ پر جھوٹا الزام لگایا، ماڈل نازش جہانگیر

ای میل

نازش جہانگیر نے فاطمہ سہیل کی جانب سے لگائے تمام الزامات کو بےبنیاد قرار دے دیا —فوٹو/ اسکرین شاٹ
نازش جہانگیر نے فاطمہ سہیل کی جانب سے لگائے تمام الزامات کو بےبنیاد قرار دے دیا —فوٹو/ اسکرین شاٹ

پاکستان کے نامور اداکار، گلوکار اور لکھاری محسن عباس حیدر کی اہلیہ فاطمہ سہیل نے ان پر ہفتے کی رات گھریلو تشدد کرنے اور ابھرتی ہوئی ماڈل کے ساتھ افیئر چلانے کا الزام لگایا تھا۔

فاطمہ نے فیس بک پر ایک طویل پوسٹ میں محسن عباس پر الزام لگاتے ہوئے لکھا تھا کہ وہ انہیں مارتے پیٹتے تھے، جبکہ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ محسن کا نازش جہانگیر نامی ماڈل و اداکارہ کے ساتھ افیئر ہے۔

مزید پڑھیں: محسن عباس حیدر کی اہلیہ کا شوہر پر تشدد کرنے اور دھوکہ دینے کا الزام

دوسری جانب محسن عباس حیدر نے اہلیہ کی جانب سے لگائے تمام الزامات کو بےبنیاد ٹھہراتے ہوئے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ وہ ان پر جھوٹے الزامات لگارہی ہیں۔

تاہم اس پورے تنازع کے دوران سوشل میڈیا پر نازش جہانگیر کو صارفین کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

اداکارہ پر گھر توڑنے اور شادی شدہ مرد سے افیئر چلانے کے الزامات عائد بھی کیے گئے، جس کے بعد اب نازش جہانگیر نے اپنے دفاع میں بھی بیان جاری کردیا۔

اپنے انسٹاگرام پر جاری پوسٹ اور اسٹوری میں اداکارہ نے فاطمہ سہیل کی جانب سے ان پر لگائے تمام الزامات کو جھوٹا قرار دے دیا، تاہم انہوں نے یہ لکھا کہ اگر فاطمہ کو گھریلو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تو انہیں فاطمہ سے ہمدردی ہے۔

نازش جہانگیر کا کہنا تھا کہ 'جو بھی حقیقت ہے وہ خود سب کے سامنے آجائے گی، فاطمہ نے بغیر کسی ثبوت کے میرے خلاف یہ لکھ دیا کہ میں ان کے شوہر کے ساتھ سو رہی تھی اور آپ سب نے مجھ پر گھر توڑنے والی عورت کا الزام لگادیا، اپنی عقل کا استعمال کریں، اگر اس کے پاس کوئی ثبوت ہوتا تو وہ اسے پوسٹ کرتی، اس ہی طرح جس طرح اس نے شوہر کی جانب سے کیے تشدد کا ثبوت دیا'۔

'فاطمہ اپنی ڈلوری سے ایک روز قبل فون پر میرے ساتھ رابطے میں تھی، میں نے اسے مبارکباد بھی دی، اس وقت محسن کراچی میں کسی شوٹ میں مصروف تھے اور میں اسلام آباد میں موجود تھی، لیکن پھر بھی، اگر فاطمہ گھریلو تشدد کا شکار ہے تو مجھے اس سے ہمدردی ہے، لیکن میں یہ اعلان کرنا چاہتی ہوں کہ میں ان کی شادی شدہ زندگی کو متاثر کرنے کی وجہ نہیں ہوں'۔

یہ بھی پڑھیں: بیوی پر تشدد کے الزامات پر محسن عباس حیدر کا بیان سامنے آگیا

'صرف محسن حیدر خود یہ بات واضح کرسکتے ہیں کہ بغیر کسی ثبوت اس معاملے میں میرے نام کا استعمال کیوں کیا گیا، جس کی وجہ سے پورے میڈیا میں میری شخصیات منفی انداز میں پیش کی گئی، میں اب تک کافی حیران ہوں، کیوں کہ میں اس طرح کی نہیں کہ کسی کے کردار پر انگلی اٹھاؤں، میرے لیے یہ ایک شرمناک کام ہوگا، میں بس یہی کہنا چاہتی ہوں کہ صرف فاطمہ نے اذیت نہیں جھیلی، بلکہ اپنے ذاتی جھگڑوں میں میرا نام بھی لے لیا جس سے مجھے کافی ذہنی تناؤ ہوا'۔

'فاطمہ خود مجھ سے بات کیا کرتی تھی، وہ تو اپنی شادی شدہ زندگی کے بارے میں بھی مجھ سے کافی کچھ شیئر کرتی تھی، اس نے اپنے حاملہ ہونے کے دوران بھی مجھ سے بات چیت رکھی، اگر میں اس کے شوہر کے ساتھ سو رہی تھی تو پھر وہ مجھ سے باتیں کیوں کرتی تھی؟ میں اپنے دفاع میں بہت سے سوالات اٹھا سکتی ہوں لیکن میں ایسی نہیں ہوں، میرے لیے یہ سب کافی پریشان کن ہے اس لیے میں اس پر زیادہ بات نہیں کروں گی، محسن عباس اور اس کی اہلیہ دونوں ہی میرے بہت اچھے دوست ہیں، مجھے کوئی اندازہ نہیں کہ اس نے میرا نام کیوں لیا اور مجھے اس معاملے میں کیوں گھسیٹا، میں تو ایسا کچھ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی'۔

اس دوران سوشل میڈیا پر نازش جہانگیر کی جانب سے کچھ عرصہ قبل انسٹاگرام پر لگائی ایک اسٹوری کا بھی اسکرین شاٹ بہت زیادہ وائر ہورہا ہے۔

اس اسٹوری میں نازش نے محسن عباس کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ 'یہ میرے ہیں'۔

سوشل میڈیا صارفین اس اسکرین شاٹ کو لے کر بھی نازش جہانگیر کو شدید تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔

تاہم اس پر بھی نازش نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ 'مجھ سے میرے ALL MINE پر سوال کرنے والے یہ بتائیں کے کیا اس سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ میں اس کے ساتھ سوئی ہوں؟ اب مجھے مزید وضاحت دینے کی ضرورت نہیں، آپ سب کو انٹرٹینمنٹ مل گئی، انجوائے کیجیئے'۔

واضح رہے کہ محسن عباس کی اہلیہ کی جانب سے لگائے الزامات کے بعد کئی اداکاروں نے محسن عباس حیدر پر تنقید کی جبکہ 2 اداکاروں نے دعویٰ بھی کیا کہ وہ اس سب سے آگاہ تھے۔

اداکارہ دعا ملک نے محسن عباس حیدر اور ان کی اہلیہ کے درمیان تنازع سے متعلق کہا تھا کہ ’میں یقین کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ میں اس انڈسٹری میں واحد عینی شاہد ہوں، میں نے یہ آگ 3 سال سے اپنے دل میں چھپا کر رکھی ہے‘۔

جبکہ اداکار گوہر رشید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’ میں دوسرا شخص ہوں جو فاطمہ سہیل کے ساتھ ہونے والی ناانصافی سے متعلق آگاہ ہے، 2018 میں جب محسن عباس حیدر نے فاطمہ پر تشدد کیا تھا میری دوست اسے ہسپتال لے کر گئی تھی، مجھے اسی کے ذریعے پوری بات کا علم ہوا، فاطمہ میری بہن جیسی ہے‘۔