بیوی پر تشدد کے الزامات پر محسن عباس حیدر کا بیان سامنے آگیا

ای میل

اداکار و گلوکار نے اپنی اہلیہ کی جانب سے تشدد کے الزام کو مسترد کردیا ہے۔

محسن عباس حیدر کی اہلیہ فاطمہ سہیل نے گزشتہ روز ایک فیس بک پوسٹ میں اپنے شوہر پر تشدد اور شادی کے بعد کسی سے افیئر چلانے کا الزام عائد کیا تھا۔

اس حوالے سے لاہور میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن عباس حیدر نے کہا کہ وہ جو کچھ کہہ رہی ہیں وہ جھوٹ ہے 'میں نے ان کو چھوا بھی نہیں، یہ ٹھیک ہے کہ ماضی میں غصے کے حوالے سے مجھے مسائل رہے ہیں مگر اب میں بدل چکا ہوں'۔

پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے اپنا ہاتھ قرآن مجید پر رکھے رکھا اور بار بار یہ بھی کہا کہ وہ قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر یہ سب کچھ کہہ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنی اہلیہ کو کافی عرصے سے طلاق دینا چاہتے تھے مگر ایسا کرنے سے قاصر تھے اور بس علیحدگی ہی ہوسکی۔

ان کے بقول دونوں کے درمیان کئی ماہ پہلے علیحدگی ہوگئی تھی اور اس کے بعد وہ اپنی بیوی اور بچوں کے لیے لاکھوں روپے ماہانہ خرچ دے رہے ہیں، بچے کی پیدائش پر بھی ہسپتال کے تمام اخراجات انہوں نے ادا کیے، مگر فاطمہ الزام لگارہی ہے کہ وہ اپنے بیٹے کی ذمہ داریوں سے بھاگ رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیٹے کی پیدائش کے بعد انہوں نے طلاق نہ دینے کے آپشن کو منتخب کیا اور علیحدگی چاہتے تھے کیونکہ میں بیٹے کے لیے بیوی کے ساتھ رہنا چاہتا تھا۔

محسن عباس حیدر نے کہا کہ فیس بک پر ان کی اہلیہ کی جانب سے جو تصاویر شیئر کی ہیں وہ 2018 کی ہیں جو کہ سیڑھیوں سے پھسلنے سے لگنے والی چوٹوں کی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فاطمہ کے مطابق یہ تشدد گزشتہ دنوں ہی ہوا ہے تو وہ وہاں اپنی میڈیکل رپورٹ پیش کردیں، وہ تھانے میں اپنا بیان کراچکے ہیں جبکہ اس تھانے میں ان کی بیوی کو بلایا جارہا ہے جہاں اس نے درخواست جمع کرائی۔

اداکار کا کہنا تھا کہ وہ اچھی ازدواجی زندگی گزارنا چاہتے تھے اور دوسری شادی کرنا چاہتے تھے، تاہم فاطمہ اس کے لیے تیار نہیں تھی 'میں نہیں جانتا کہ اس کے پیچھے حسد تھا یا کچھ اور، مگر وہ کسی بھی طرح کے حالات میں ایسا کرنے نہیں دینا چاہتی تھی'۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی بیوی کے الزامات ان کے خلاف سازش کا حصہ ہے جو کہ شوبز انڈسٹری میں ان کے دشمن کرہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا 'ہر خاتون جو الزام پر عائد کرتی ہے، اس کے آنسو ہمیشہ سچ نہیں بول رہے ہوتے'۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ فاطمہ کے خلاف دل میں برائی نہیں رکھتے مگر اب طلاق ہی واحد راستہ رہ گیا ہے۔

ان کا دعویٰ تھا کہ ان کی بیوی ویمن کارڈ کھیلنے کی کوشش کررہی ہے اور بدقسمتی سے ہر ایک اسے قبول بھی کررہا ہے۔