بورس جانسن برطانیہ کے نئے وزیراعظم منتخب

اپ ڈیٹ 23 جولائ 2019

ای میل

بورس جانسن باضابطہ طور پر 24 جولائی کو برطانیہ کے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالیں گے— فوٹو: رائٹرز
بورس جانسن باضابطہ طور پر 24 جولائی کو برطانیہ کے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالیں گے— فوٹو: رائٹرز

برطانیہ کی یورپین یونین سے علیحدگی (بریگزٹ) کے حامی بورس جانسن اگلے وزیر اعظم کے لیے ہونے والی ووٹنگ کے آخری مرحلے میں کنزریٹو پارٹی کے قائد اور برطانیہ کے اگلے وزیراعظم منتخب ہوگئے۔

برطانوی خبررساں ادارے ’ رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے اگلے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے بورس جانسن اور سیکریٹری خارجہ جیرمی ہنٹ مدمقابل تھے جن کا انتخاب کنزرویٹو پارٹی کے 2 لاکھ اراکین نے کیا۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بورس جانسن نے 92 ہزار ایک سو 53 اور جیرمی ہنٹ نے 45 ہزار 6 سو 56 ووٹ حاصل کیے۔

وزارت عظمیٰ کی دوڑ کے آخری مرحلے کی ووٹنگ کا عمل گزشتہ روز منعقد ہوا تھا جس کے نتائج کا اعلان آج (23 جولائی) کو کیا گیا۔

بورس جانسن باضابطہ طور پر 24 جولائی کو سابق وزیراعظم تھریسا مے کی جگہ برطانیہ کے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالیں گے، جو پارلیمنٹ میں بریگزٹ معاہدہ منظور کروانے میں ناکامی پر مستعفیٰ ہوگئی تھیں۔

بورس جانسن نے وزیراعظم منتخب ہونے کے اعلان کے بعد تقریر میں کہا کہ وہ یورپی یونین کی جانب سے 31 اکتوبر کی ڈیڈلائن تک بریگزٹ مکمل کریں گے۔

31 اکتوبر تک یورپی یونین سے علیحدہ ہوجائیں گے، بورس جانسن

انہوں نے کہا کہ ’ ہم ملک کو متحرک کرنے جارہے ہیں، ہم 31 اکتوبر تک یورپی یونین سے علیحدہ (بریگزٹ) ہوجائیں گے اور اس سلسلے میں ہم ایک تمام مواقع سے فائدہ اٹھائیں گے‘۔

بورس جانسن نے کہا کہ ہم بہتر تعلیم، بہتر انفراسٹرکچر، مزید پولیس کے ذریعے خود اعتمادی کے فقدان اور منفی تاثر کا خاتمہ کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس حیرت انگیز ملک کو متحد کرنے جارہے ہیں اور ہم اسے مزید آگے لے کر جائیں گے۔

مزید پڑھیں: برطانیہ کے وزیر اعظم کی دوڑ، پہلے مرحلے میں بورس جانسن کامیاب

وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں اپنے فتح سے متعلق بورس جانسن نے کہا کہ ’ میں جانتا ہوں کہ کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو آپ کے فیصلے کی سوچ پر سوال اٹھائیں گے اور شاید ایسے افراد بھی ہوں گے جو اب تک حیران ہوں گے کہ انہوں نے کیا کیا ہے اور میں صرف یہ کہتا ہوں کہ کسی ایک جماعت کے پاس دانائی کی اجارہ داری نہیں ہے‘۔

بورس جانسن نے کہا کہ ’ اگر آپ گزشتہ 200 سال میں پارٹی کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو آپ دیکھیں گے کنزرویٹوز کے پاس انسانی فطرت کی بہترین پہچان تھی‘۔

بریگزٹ سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ کیا آپ کے حوصلے پست ہیں، کیا آپ کم ہمتی محسوس کرتے ہیں؟ مجھے ایسا نہیں لگتا، میں سمجھتا ہوں کہ ہم یہ کرسکتے ہیں اور اس ملک کے لوگ ایسا کرنے کے لیے ہم پر اعتبار کررہے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ہم ایسا کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: بورس جانسن وزیراعظم بنے تو مستعفی ہوجاؤں گا، برطانوی وزیر انصاف

اپنی ترجیحات سے متعلق انہوں نے کہا کہ ترجیحات میں بریگزٹ کا عمل پورا کرنا، ملک کو متحد کرنا اور جیرمی کوربین کو شکست دینا شامل ہیں۔

برطانیہ کی سابق وزیراعظم تھریسا مے نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بورس جانسن کو وزیراعظم منتخب ہونے پر مبارک باد دی اور کہا کہ ’ اب ہمیں بریگزٹ کے لیے اور جیرمی کوربین کو حکومت سے دور رکھنے کے لیے ایک ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے جو پورے برطانیہ کے لیے ہے، آپ کو عقبی نشستوں سے بھی مکمل حمایت حاصل ہوگی‘۔

خیال رہے کہ بورس جانسن نے اگلے وزیر اعظم کے امیدوار کے لیے ہونے والی ووٹنگ کے دوسرے مرحلے میں 40 فیصد ووٹ حاصل کرکے اپنی برتری قائم رکھی تھی جبکہ پہلے مرحلے میں بورس جانسن نے 313 میں سے 114 ووٹ حاصل کیے تھے۔

یاد رہے کہ برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے 24 مئی کو انتہائی جذباتی انداز میں اعلان کیا تھا کہ وہ 7 جون کو وزیراعظم اور حکمراں جماعت کنزرویٹو اور یونینسٹ پارٹی کی رہنما کے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گی اور 7 جون کو انہوں نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

بورس جانسن کو عالمی رہنماؤں کی مبارک باد

برطانیہ کے نئے وزیراعظم کے انتخاب کے اعلان پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سب سے پہلے بورس جانسن کو مبارک باد دی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں بورس جانسن کو برطانیہ کا وزیراعظم منتخب ہونے پر مبارک باد دی اور کہا کہ ’ وہ عظیم ہوں گے‘۔

امریکی خبررساں ادارے ’اے پی ‘ کی رپورٹ کے مطابق یورپین کمیشن کی نو منتخب صدر ارسلا وون ڈیر لائین نے بورس جانسن کو برطانیہ کا اگلا صدر منتخب ہونے پر مبارک باد دی۔

ارسلا وون ڈیر لائین نے کہا کہ وہ بورس جانسن کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہشمند ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ہم پر یورپ اور برطانیہ کے عوام کے حق میں کچھ اچھا کرنے کی ذمہ داری عائد ہے‘۔

مزید پڑھیں: برطانیہ کے اگلے وزیر اعظم کی دوڑ میں بورس جانسن دوسرے مرحلے میں بھی آگے

فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے کہا کہ ’ وہ جتنی جلدی ممکن ہوسکا بورس جانسن کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں نہ صرف یورپی مسائل پر بلکہ ایران اور بین الاقوامی سلامتی کے موضوعات پر بھی جن میں فرانس کا برطانیہ اور جرمنی سے قریبی تعلق قائم ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے بورس جانسن کو برطانیہ کا وزیراعظم اور کنزرویٹو پارٹی کا قائد منتخب ہونے پر مبارک باد دی۔

جواد ظریف نے ٹوئٹ کیا کہ ’ میں اپنے سابق ہم منصب کو مبارک باد دیتا ہوں، انہوں نے کہا کہ ایران خلیج فارس میں کسی تنازع کا ارادہ نہیں رکھتا لیکن ہمارے پاس 1500 میل پر مشتمل ساحلی پٹی موجود ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ یہ ہمارا سمندر ہے اور ہم اس کی حفاظت کریں گے‘۔

جواد ظریف نے تھریسا مے کی حکومت کو ایرانی تیل بردار جہاز تحویل میں لیے جانے کا ذمہ دار ٹھہرایا اور اسے قزاقی قرار دیا۔

یورپی یونین سے علیحدگی کے معاہدے کو بچانے کے لیے فوری اقدامات کرنے پر اصرار

دوسری جانب برطانیہ کے کاروباری افراد نے کنزرویٹو پارٹی کے نئے قائد بورس جانسن سے یورپی یونین سے علیحدگی کے معاہدے کو بچانے کے لیے فوری اقدامات کرنے پر اصرار کیا ہے۔

کونفیڈریشن آف برٹش انڈسٹری کی سربراہ کیرولین فیئربیئرن نے کہا کہ بورس جانسن کےپاس اپنے ابتدائی 100 روز میں ضائع کرنے کے لیے وقت نہیں اور انہیں خبردار کیا کہ اچھے بریگزٹ معاہدے کے فوائد کو حقیر قرار نہ دیں۔

یہ بھی پڑھیں: برطانوی وزیراعظم کا جذباتی انداز میں مستعفی ہونے کا اعلان

برٹش چیمبرز آف کامرس نے بورس جانسن سے ایک بے قاعدہ بریگزٹ سے اجتناب کرنے کا کہا۔

انسٹیٹیوٹ آف ڈائریکٹرز کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ بورس جانسن کے لیے یہ تسلیم کرنا اہم ہے کہ معاہدے کے بغیر بریگزٹ کئی فرمز کے حوصلے پست کرنے کے برابر ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کے بغیر بریگزٹ سے صرف غیر یقینی کی صورتحال اور چیلنجز سے دوری میں اضافہ ہوفا لیکن اس سے اجتناب سے ملک کو ان پر توجہ مرکوز کرنے اور سب کے فوائد کو مقدم رکھنے میں کا موقع ملے گا۔

' بریگزٹ' ، کب کیا ہوا ؟

واضح رہے کہ 2016 میں برطانیہ میں ہونے والے حیرت انگیز ریفرنڈم میں برطانوی عوام نے یورپی یونین سے اخراج کے حق میں ووٹ دیا تھا جس کے بعد طے کیا گیا تھا 29 مارچ 2019 کو برطانیہ، یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کرلے گا۔

جولائی 2016 کو وزیر اعظم بننے والی تھریسامے نے بریگزٹ معاہدے پر عوامی فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن شدید مخالفت کے بعد سے انہیں مشکلات کا سامنا ہے اور وہ اراکین پارلیمنٹ کو منانے کی کوشش کررہی ہیں کہ وہ اخراج کے معاہدے کو قبول کرلیں۔

اس معاہدے پر ووٹنگ گزشتہ سال دسمبر میں ہونا تھی لیکن بعد ازاں اسے جنوری تک کے لیے ملتوی کردیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کو بریگزٹ معاہدے کی تکمیل میں 6 ماہ تک کی توسیع مل گئی

مارچ 2017 میں برسلز میں شروع ہونے والے سخت مذاکرات کے نتیجے میں معاہدے کے مسودے پر اتفاق کیا گیا تھا جبکہ یورپی رہنماؤں نے دوبارہ مذاکرات کے امکان کو مسترد کردیا تھا اور اس غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے برطانوی معیشت میں مستقل اضطراب پایا جاتا ہے۔

بریگزٹ کے حوالے سے کی گئی پہلی ووٹنگ میں تھریسامے کے خلاف 308 ووٹ سے ترمیم پاس کی گئی جس میں حکمراں جماعت کے درجنوں اراکین بھی شامل تھے جبکہ 297 اراکین نے وزیراعظم کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

برطانوی وزیراعظم تھریسامے کی اپنی جماعت کنزرویٹو پارٹی کے اراکین نے بھی لیبرپارٹی کا ساتھ دیا جس کے بعد 29 مارچ کو یورپی یونین سے مکمل علیحدگی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوگئے تھے۔

تاہم تھریسامے کو سب سے بڑی ناکامی کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب 16 جنوری کو برطانوی پارلیمنٹ نے یورپی یونین سے علیحدگی کے وزیر اعظم تھریسامے کے بل کو واضح اکثریت سے مسترد کردیا اور انہیں 202 کے مقابلے میں 432 ووٹ سے شکست ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔

مزید پڑھیں: برطانوی پارلیمنٹ نے 'بریگزٹ' معاہدہ تیسری مرتبہ مسترد کردیا

بعد ازاں رواں سال 29 مارچ کو برطانیہ کی پارلیمنٹ نے وزیر اعظم تھریسا مے کے بریگزٹ معاہدے کو تیسری مرتبہ کثرت رائے سے مسترد کردیا ۔

برطانوی دارالعوام میں بریگزٹ معاہدے کے حق میں 286 جبکہ مخالفت میں 344 ووٹ دیے گئے جس کے بعد بعد آئندہ دو ہفتوں میں معاہدے کے بغیر بریگزٹ ہوگا یا اس میں طویل تاخیر ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے تھے۔

رواں سال 11 اپریل کو یورپی ممالک کے رہنماؤں نے برطانیہ کے ساتھ بریگزٹ معاہدے پر 6 ماہ تک کی توسیع پر آمادگی کا اظہار کردیا تھا۔

بریگزٹ میں توسیع کے معاملے میں یورپی ممالک کے 27 رہنماؤں نے برسلز میں مذاکرات کرنے کے بعد فیصلہ سنایا تھا۔

یاد رہے کہ برطانیہ نے 1973 میں یورپین اکنامک کمیونٹی میں شمولیت اختیار کی تھی تاہم برطانیہ میں بعض حلقے مسلسل اس بات کی شکایات کرتے رہے ہیں کہ آزادانہ تجارت کے لیے قائم ہونے والی کمیونٹی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے رکن ممالک کی ملکی خودمختاری کو نقصان پہنچتا ہے۔

بریگزٹ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد ابتدا میں معاشی مشکلات ضرور پیدا ہوں گی تاہم مستقبل میں اس کا فائدہ حاصل ہوگا کیوں کہ برطانیہ یورپی یونین کی قید سے آزاد ہوچکا ہوگا اور یورپی یونین کے بجٹ میں دیا جانے والا حصہ ملک میں خرچ ہوسکے گا۔