برطانیہ کو بریگزٹ معاہدے کی تکمیل میں 6 ماہ تک کی توسیع مل گئی

11 اپريل 2019

ای میل

برطانوی وزیر بریگزٹ معاہدے پر ووٹنگ سے قبل پارلیمنٹ سے خطاب کر رہی ہیں— فوٹو: اے ایف پی
برطانوی وزیر بریگزٹ معاہدے پر ووٹنگ سے قبل پارلیمنٹ سے خطاب کر رہی ہیں— فوٹو: اے ایف پی

یورپی ممالک کے رہنماؤں نے برطانیہ کے ساتھ بریگزٹ معاہدے پر 6 ماہ تک کی توسیع پر آمادگی کا اظہار کردیا۔

خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق بریگزٹ میں توسیع کے معاملے میں یورپی ممالک کے 27 رہنماؤں نے برسلز میں مذاکرات کرنے کے بعد فیصلہ سنایا۔

یہ بھی پڑھیں: بریگزٹ معاہدے پر ووٹنگ، برطانوی وزیر اعظم کو بدترین شکست

خیال رہے کہ اگر برطانیہ 22 مئی کے بعد یورپی یونین کا حصہ رہتا ہے تو برطانوی شہری یورپین انتخابات میں حصہ لے سکیں گے۔

اس حوالے سے برطانوی وزیراعظم تھریسامے میں نے کہا کہ’اب وہ بریگزٹ کے معاملے پر پارلیمنٹ کی آمادگی کے لیے بھرپور انداز میں کام کریں گی اور میری خواہش ہو گی جلد از جلد بریگزٹ پر عملدرآمد ہو جائے‘۔

واضح رہے کہ تھریسامے مرکزی اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی سے مزید مذاکرات کے بعد جمعرات کو دارالعوم (ہاؤس آف کامن) سے خطاب کریں گی تاکہ سیاسی راہ نکل سکے۔

اس حوالےسے بتایا گیا کہ ’یورپی ممالک کے 27 رہنماؤں نے تھریسامے کی عدم موجودگی میں تفصیلی مشاورت کیا اور یورپین کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے بریگزٹ میں 31 اکتوبر تک کی توسیع کی تصدیق کی۔

مزیدپڑھیں: برطانیہ میں یورپی یونین سے علیحدگی کیلئے ریفرنڈم

مزید بتایا گیا کہ ’ڈونلڈ ٹسک نے ایک سال کی توسیع کا خیال پیش کیا تھا لیکن 6 ماہ بھی مسئلے کے حل کے تلاش میں بہت ہوتے ہیں، برائے مہربانی مزید وقت ضائع مت کیجئے گا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’برطانوی حکومت بروقت معاہدے کی تکمیل کرے ورنہ وہ بریگزٹ کا معاملہ ہمیشہ کے لیے ختم کردے‘۔

واضح رہے کہ 2016 میں برطانیہ میں ہونے والے حیرت انگیز ریفرنڈم میں برطانوی عوام نے یورپی یونین سے اخراج کے حق میں ووٹ دیا تھا جو اب آئندہ برس 29 مارچ کو عمل میں آئے گا۔

یہ بھی پڑھیں: بریگزٹ کا عمل 29 مارچ سے شروع ہوگا

جولائی 2016 میں وزیر اعظم بننے والی تھریسامے نے بریگزٹ معاہدے پر عوامی فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن شدید مخالفت کے بعد سے انہیں مشکلات کا سامنا ہے اور وہ اراکین پارلیمنٹ کو منانے کی کوشش کررہی ہیں کہ وہ اخراج کے معاہدے کو قبول کرلیں۔

اس معاہدے پر ووٹنگ گزشتہ سال دسمبر میں ہونا تھی لیکن بعدازاں اسے جنوری تک کے لیے ملتوی کردیا گیا تھا۔