'ریکوڈک معاہدے کےخلاف سپریم کورٹ کے فیصلے سے بلوچستان کو بھاری نقصان ہوا'

اپ ڈیٹ 07 اگست 2019

ای میل

وزیراعلیٰ بلوچستان کے مطابق ہم ریکوڈک کیس عالمی عدالت اور آئی سی ایس آئی ڈی دونوں میں ہار گئے  — فائل فوٹو / جام کمال ٹوئٹر
وزیراعلیٰ بلوچستان کے مطابق ہم ریکوڈک کیس عالمی عدالت اور آئی سی ایس آئی ڈی دونوں میں ہار گئے — فائل فوٹو / جام کمال ٹوئٹر

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال الیانی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا ریکوڈک معاہدہ منسوخ کرنے سے متعلق فیصلہ صوبے کے لیے بہت مہنگا ثابت ہوا ہے کیونکہ بلوچستان کو سرمایہ کاری کے تنازعات کے حل کے بین الاقوامی مرکز (آئی سی ایس آئی ڈی) کی طرف سے عائد کیا گیا 6 ارب ڈالر کا جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔

جام کمال نے 'آئی سی ایس آئی ڈی' کے فیصلے پر تحریک التوا پر بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ 'ہم ریکوڈک کیس، عالمی عدالت اور آئی سی ایس آئی ڈی دونوں میں ہار گئے'۔

ریکوڈک کے معاملے پر تحریک التوا اپوزیشن جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے رہنما ثنااللہ بلوچ نے پیش کی تھی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کے خیال میں اس وقت کی صوبائی حکومت کا ریکوڈک کی مائننگ کا منصوبہ ایٹمی سائنسدان ثمر مبارک مند کے حوالے کرنا 'مکمل طور پر' غلط فیصلہ تھا کیونکہ انہوں نے کچھ مشینری، ڈمپرز، گاڑیوں اور بھاری تنخواہوں پر ملازمین رکھنے میں 2 ارب روپے ضائع کیے۔

مزید پڑھیں: وزیر اعظم کی ریکوڈک کیس میں ہرجانے پر تفتیش کیلئے کمیشن بنانے کی ہدایت

انہوں نے کہا کہ ثمر مبارک مند تانبے اور سونے کی کان کے منصوبے متعلقہ شعبے میں کم تجربہ ہونے کی وجہ سے نہیں چلا سکتے تھے۔

جام کمال نے کہا کہ سائنسدان نے تھر کوئلے کے منصوبے کے ساتھ بھی اسی طرح کیا تھا تاہم اس وقت کی سندھ حکومت نے فوری طور پر یہ منصوبہ ان سے واپس لے کر جرمن اور چینی کمپنیوں کے حوالے کر دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تھر کوئلے کا منصوبہ 600 میگاواٹ بجلی فراہم کر رہا ہے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی سابق حکومت کے غلط فیصلوں اور پالیسیوں کی وجہ سے صوبے پر 6 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ گزشتہ اسمبلیوں میں ریکوڈک کے معاملے پر کئی قراردادیں پیش کی گئیں اور بحث ہوئی لیکن ان سے جذباتی تقریروں اور نعروں کے علاوہ کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں بھاری جرمانے کی ادائیگی کے لیے راستہ نکالنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ریکوڈک پر لگنے والے جرمانے کا ذمہ دار کون؟

انہوں نے اراکین اسمبلی سے سوال کیا کہ کیا ریکوڈک معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ اچھا تھا۔

جام کمال نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت کا ریکوڈک معاہدے سے کوئی تعلق نہیں لیکن وہ ایوان کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کی حکومت ایسا کوئی معاہدہ یا فیصلہ نہیں کرے گی جس سے بلوچستان یا اس کے عوام کو نقصان پہنچے۔

انہوں نے انجینئرز گرینڈ الائنس کے احتجاج سے متعلق کہا کہ حکومت تعلیم یافتہ لوگوں سے ایسے ردعمل کی امید نہیں کر رہی تھی، تقریباً 30 لاکھ لوگوں کے بے روزگار ہونے سے پیدا ہونے والی صورتحال کی تمام ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد نہیں کی جاسکتی۔

ریکوڈک کے معاملے پر تحریک التوا پیش کرنے والے بی این پی (مینگل) کے رہنما کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی طاقتوں کی نظریں بلوچستان کے قدرتی وسائل پر ہیں اس کے باوجود یہاں کی حکومتیں ان وسائل کے تحفظ کے لیے کوئی اقدامات نہیں اٹھا رہی۔


یہ خبر 8 اگست 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔