پاکستان کا بھارتی اقدامات کے خلاف سلامتی کونسل جانے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 08 اگست 2019

ای میل

شاہ محمود قریشی 
 کے مطابق بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو جیل میں تبدیل کردیا ہے — فوٹو: ڈان نیوز
شاہ محمود قریشی کے مطابق بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو جیل میں تبدیل کردیا ہے — فوٹو: ڈان نیوز

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی اقدامات کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل جانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 28 ممالک کو کشمیر کے حوالے سے تشویش اور قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلے سے بھی آگاہ کردیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کا اصرار ہے کہ آرٹیکل 370 کا خاتمہ ان کا اندرونی معاملہ ہے اور یہ اس لیے ختم کیا ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی فلاح و بہبود کی جاسکے تو پاکستان کو اس پر اعتراض کیوں ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کا یہ تاثر درست نہیں ہے اور پاکستان اس موقف کو مسترد کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کرتارپور راہداری میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گا، ترجمان دفتر خارجہ

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم کردہ متنازع علاقہ ہے، اس پر سلامتی کونسل کی بہت سی قراردادیں موجود ہیں جنہیں بنیاد بنا کر ہم نے دوبارہ سلامتی کونسل جانے کا فیصلہ کیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت تاثر دے رہا ہے کہ آرٹیکل 370 کا خاتمہ ان کا اندرونی معاملہ ہے جو تاریخی، قانونی اور اخلاقی طور پر درست نہیں اور پاکستان اسے مسترد کرتا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کا کہنا تھا کہ انہوں نے کشمیریوں کی فلاح و بہبود کے لیے یہ فیصلہ کیا ہے تو میں بھارتی ہم منصب جے شنکر سے پوچھنا چاہتا ہوں کیا 70 سال پہلے اور جب سے یہ آرٹیکل 370 ان کے آئین میں شامل کیا گیا تھا، کیا اس وقت فلاح و بہبود کے کاموں میں قدغن تھی، کوئی پابندی یا ممانعت تھی جو اس ممانعت کو ختم کرنے کے لیے آئین میں یہ ترمیم کرنی پڑی۔

ان کا کہنا تھا کہ کیا بھارت نے ایک کروڑ 40 لاکھ کشمیریوں کو حراست میں لے کر پورے مقبوضہ کشمیر کو ایک جیل کی شکل دے کر سماجی و اقتصادی بہبود کا یہ پہلا قدم اٹھایا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں خونریزی کا خدشہ ہے، اس وقت یہ صورتحال ہے کہ 9 لاکھ بھارتی فوجی کشمیر میں تعینات ہیں یعنی ہر گھر کے باہر ایک سپاہی موجود ہے، کیا یہ بھی اس فلاح و بہبود کا حصہ ہے؟

انہوں نے کہا کہ بھارت کہتا ہے کہ یہ اندرونی معاملہ ہے لیکن بھارت کے سابق وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے بھی کہا تھا کہ کشمیر کا فیصلہ اس کے عوام کی خواہش کے مطابق ہوگا۔

'یورپی یونین مذاکرات میں کردار ادا کرنا چاہے تو پاکستان تیار ہے'

وزیر خارجہ نے کہا کہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگرینی سے اس مسئلے پر بات چیت ہوئی، انہوں نے کہا کہ ہمیں تشویش ہے اور چاہتے ہیں کہ کشمیر میں کشیدگی نہ بڑھے جس پر میں نے کہا کہ آپ دیکھیں یہ کشیدگی کس وجہ سے بڑھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فیڈریکا موگرینی نے مزید کہا کہ یورپی یونین کی خواہش ہے کہ یہ مسئلہ مذاکرات اور سفارتی ذرائع کے ذریعے حل کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا 'سمجھوتہ ایکسپریس' بند کرنے کا اعلان

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم نے کب مذاکرات سے انکار کیا ہے، ڈائیلاگ سے کون کترا رہا ہے پاکستان یا بھارت، جب بھی ڈیڈلاک آیا ہے ہم نے اسے حل کرنے کی کوشش کی ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ یورپی یونین مذاکرات کو آگے بڑھانے میں کوئی کردار ادا کرنا چاہتی ہے تو پاکستان کی طرف سے اجازت ہے، بھارت سے پوچھ لیں کیا وہ تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ثالثی کی پیشکش کی تھی تو پاکستان نے اس کا خیر مقدم کیا تھا، مسترد کس نے کیا یہ چیز قابلِ غور ہے۔

'امریکا بھارتی فیصلے سے لاعلم تھا'

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایک افواہ اڑائی گئی کہ بھارت کا فیصلہ امریکا کی مشاورت سے ہوا اور اس کے علم تھا، جب وزیراعظم پاکستان، ٹرمپ سے ملے اور ثالثی کی پیشکش کی تو وہ اس سب سے آگاہ تھے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے امریکا سے اس معاملے کو اٹھایا کہ یہ تاثر دیا جارہا ہے اور کچھ اپوزیشن اراکین نے غلط فہمی سے اسے بڑھانے کی کوشش کی تو ہمیں وضاحت چاہیے۔

مزید پڑھیں: بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی، صدارتی فرمان جاری

انہوں نے کہا کہ ایلس ویلز کا واضح بیان آچکا ہے کہ نہ امریکا کے علم میں تھا اور نہ ہی بھارت نے ہم سے کوئی مشاورت کی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکی سینیٹ کے سینئر ترین رکن لِنزے گراہم نے اپنی ٹوئٹ میں اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

'کرتارپور راہداری منصوبہ جاری رہے گا'

وزیر خارجہ نے کہا کہ فضائی حدود کی بندش سے متعلق نشر کی جانے والی خبریں جھوٹی ہیں، پاکستان نے بھارت کے لیے فضائی حدود بند نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ کرتارپور راہداری سے متعلق اپنے موقف پر قائم ہیں، ہم تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں، پاکستان نے ازخود یہ اقدام اٹھایا تھا اور وہ طبقہ جو بابا گرونانک کے 550ویں جنم دن پر یہاں آنا چاہتا ہے انہیں اپنی حکومت سے وضاحت طلب کرنی چاہیے کہ ان کے کیا ارادے ہیں۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کی معلومات تک رسائی نہ ہونا تشویشناک ہے، اقوام متحدہ

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان آج بھی ان کے استقبال کے لیے تیار ہے کیونکہ ہم اپنے عزم پر قائم ہیں بھارت سے پوچھیں کہ کیا انہوں نے عوام کے دباؤ میں اور سکھ برادری کی رائے پر کرتارپور راہداری کا فیصلہ کیا تھا یا ان کی دلی خواہش تھی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ کرتارپور راہداری اگر بھارت کی دلی خواہش تھی تو کیا وہ اسے جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا اس پر نظرثانی کا ارادہ ہے۔

'افغانستان کی تجارت متاثر نہیں ہوگی'

انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان سے دوستی، محبت اور احترام کا رشتہ چاہتے ہیں اور صدر اشرف غنی کا حالیہ دورہ انتہائی مفید تھا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم نے بھارت سے دوطرفہ تجارت معطل کرنے کی بات کی ہے لیکن اس سے افغانستان کی تجارت متاثر نہیں ہوگی، ہم افغان بھائیوں کو مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے۔

'بھارت پلوامہ جیسا ڈرامہ رچا سکتا ہے'

وزیر خارجہ نے کہا کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا سماں ہے، آخر کب تک ایک کروڑ 40 لاکھ کشمیریوں کو قید میں رکھیں گے بالآخر کرفیو ہٹانا ہوگا، جب کرفیو اٹھے گا اور وہاں اگر احتجاج کی کیفیت بنتی ہے تو کیا بھارت 9 لاکھ فوجیوں کے ذریعے انہیں کچلے گا؟ کیا خون کی ہولی کھیلیں گے؟ کیا کالے قوانین لاگو کریں گے؟ تو کیا ان کا ردعمل نہیں آسکتا؟

یہ بھی پڑھیں: بھارت: مقبوضہ کشمیر کو 2 حصوں میں تقسیم کرنے کا بل لوک سبھا سے منظور

انہوں نے کہا کہ میں عالمی برادری کو بروقت اطلاع کرنا چاہتا ہوں ہمیں ڈر ہے کہ بھارت کوئی نیا آپریشن کر سکتا ہے، پلوامہ 2 جیسا نیا ڈرامہ رچایا جاسکتا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عین ممکن ہے وہاں جاری جبر و تشدد سے توجہ ہٹانے کے لیے کوئی ڈرامہ رچایا جائے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ فیصلہ بھی کرلیا گیا ہے کہ اب سمجھوتہ ایکسپریس نہیں چلے گی۔

سلامتی کونسل جانے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ میں نریندر مودی کی سوچوں کا پابند نہیں ہوں، میں ان قراردادوں کا پابند ہوں اور سلامتی کونسل میں انہی قراردادوں کو بنیاد بنا رہوں۔

انہوں نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ کتنا پرانا ہے اور یہی مسئلہ او آئی سی کی بنیاد بنا، جب دارالحکومت تبدیل کیا گیا اور گولان ہائیٹس سے متعلق فیصلہ کیا گیا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سفارتی کوششیں جاری نہ رکھی جائیں۔