ایرانی صدر کا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر اظہارِ تشویش

ای میل

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مسئلہ کشمیر کا حل جنگ کے ذریعے ممکن نہیں: فائل فوٹو/ اے ایف پی
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مسئلہ کشمیر کا حل جنگ کے ذریعے ممکن نہیں: فائل فوٹو/ اے ایف پی

ایرانی صدر حسن روحانی نے مقبوضہ کشمیر کے عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے عالمی رہنماؤں کو آگاہ کرنے اور انہیں کارروائی پر زور دینے کی کوشش کے تحت ایرانی صدر حسن روحانی کو ٹیلیفون کیا۔

ایرانی صدر سے ٹیلیفونک گفتگو میں وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کے بھارتی اقدام سے آگاہ کیا جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔

بیان کے مطابق وزیراعظم نے بھارتی فوج کی جانب سے کریک ڈاؤن کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر قتل عام کے سنگین خدشے سے بھی آگاہ کیا اور عالمی برادری سے اصرار کیا کہ وہ کسی بڑی تباہی سے بچنے کے لیے فوری طور پر اپنا کردار ادا کرے۔

وزیراعظم عمران خان نے ایرانی صدر کو بتایا پاکستان اس مسئلے کو حل کرنا چاہتا ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قراردادوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے بھارت سے بارہا اصرار بھی کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ' حسن روحانی نے کہا کہ علاقائی کشیدگی میں کمی کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن کوششیں کرنی چاہیے اور اس بات پر زور دیا کہ کشمیری مسلمانوں کو پر امن زندگی گزارنے کے لیے تمام قانونی حقوق اور سہولیات حاصل ہونی چاہیئیں۔

اس میں مزید کہا گیا کہ ایرانی صدر نے مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور بہیمانہ قتل پر تشویش کا اظہار کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے مسئلہ کشمیر پر ایرانی کے اصولی موقف کو سراہا اور کشمیری عوام کے حقوق کے لیے ایرانی صدر کی جانب سے حمایت کو بھی سراہا۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مسئلہ کشمیر کا حل جنگ کے ذریعے ممکن نہیں۔

بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے زور دیا کہ بھارت کو فوری طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے ذریعے حل کرنے کا کہا جائے۔

واضح رہے کہ 5 اگست کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کا خاتمہ کرتے ہوئے اس حوالے سے صدارتی فرمان جاری کردیا تھا۔

بعد ازاں قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھارت سے سفارتی تعلقات محدود کرنے اور دو طرفہ تجارت معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

علاوہ ازیں پاکستان نے بھارت کے ساتھ سمجھوتہ ایکسپریس اور تھر ایکسپریس سروس بھی معطل کردی ہے۔