صدر، وزیراعظم کی قوم سے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے اتحاد، ہم آہنگی کی اپیل

ای میل

حکومت پاکستان نے یوم آزادی کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کے اعلان کیا ہے — فوٹو: ڈان نیوز
حکومت پاکستان نے یوم آزادی کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کے اعلان کیا ہے — فوٹو: ڈان نیوز

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نے یوم آزادی کے موقع پر قوم کے نام جاری پیغام میں اپیل کی ہے کہ وہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد اور ہم آہنگی کا مظاہرہ کریں۔

پاکستانی قوم آج 14 اگست 2019 کو اپنا 73 واں یوم آزادی منا رہی ہے اور حکومت نے یوم آزادی کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کے اعلان کیا ہے۔

یاد رہے کہ بھارتی حکومت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کا اعلان کیا تھا اور مقبوضہ وادی میں ٹیلی فون، انٹرنیٹ اور ٹیلی ویژن نیٹ ورکس کو معطل کرکے کرفیو نافذ کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: 'ہم کشمیریوں کے ساتھ تھے، ہیں اور رہیں گے'

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق صدر مملکت نے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک نئے عزم کے ساتھ پاکستان کو ترقی یافتہ بنانے کے عہد کی تجدید کرنا ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس قوم کے بیٹوں نے اپنی جانیں مادر وطن کے لیے نچھاور کیں تاکہ ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔

بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ جموں اور کشمیر کے حوالے سے صدر مملکت نے کہا کہ پاکستانی قوم اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور کشمیری ہمارے اور ہم کشمیریوں کے ہیں، ان کا دکھ ہمارا دکھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو ہمارے دل میں گرتے ہیں جبکہ بھارتی اقدام اقوام متحدہ کی قراردادوں اور شملہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

صدر مملکت نے مزید کہا کہ بھارت جان لے کہ آزادی کی تحریک کو اوچھے ہتھکنڈوں سے دبایا نہیں جا سکتا۔

کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے، وزیراعظم

علاوہ ازیں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد نے مذہبی، ثقافتی اور سماجی اقدار کے تحفظ کے لیے لازوال قربانیں دیں جبکہ پاکستان کو ترقی یافتہ اور خوشحال ملک بنانے کے لیے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قائداعظم محمد علی جناح کے رہنما اصولوں کو مشعل راہ بنا کر ملک کو درپیش چینلجز پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا 73واں یوں آزادی 'یوم یکجہتی کشمیر' کے طور پر منایا جارہا ہے

انہوں نے کہا کہ آج ہم مقبوضہ کشمیر میں اپنے بھائیوں کی حالت زار پر افسردہ ہیں اور ساتھ ہی اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ بھارتی اقدامات سے ہمارے آباؤ اجداد کے دو قومی نظریے کو مزید تقویت ملی ہے۔

اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کا قوم کے نام پیغام

علاوہ ازیں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے بھی یوم آزادی پر قوم کو مبارکباد دی اور کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت کا اعلان کیا۔

اسپیکر اسد قیصر کا کہنا تھا کہ قوم کو 73 ویں یوم آزادی کے پروقار موقع پر مبارکباد دیتا ہوں، آج کا دن ہمیں تحریک آزادی کے شہدا اور بانیان پاکستان کی انتھک جدوجہد اور قربانیوں کی یاد دلاتا ہے، جنہوں نے آئندہ نسلوں کی آزادی کی خاطر اپنی جانیں قربان کیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نکالنے کے لیے تمام اہل وطن کو مل کر مشکل حالات کا مقابلہ کرنا ہوگا جبکہ ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک جمہوری، خوشحال اور پر امن ملک کا خواب دیکھا تھا، جہاں سب کو مساوی حقوق میسر ہوں اور دنیا کے لیے ایک بہترین مثال ہو۔

مزید پڑھیں: پاکستان کے 73ویں یوم آزادی پر ستاروں کے مداحوں کے لیے پیغامات

اسد قیصر کا کہنا تھا کہ 14 اگست ہمیں ملک کے قیام اور دفاع کے لیے دی جانے والی بے شمار قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جبکہ تحریک آزادی کے شہدا اور بانیان پاکستان کو خراج عقیدت مستحق ہیں۔

ادھر ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے قوم کو یوم آزادی کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن ہمیں ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے خلوص نیت اور لگن سے کام کرنے کا پیغام دیتا ہے، آج کے دن ہمیں اپنے منصوبوں، عمل اور حاصل ہونے والے نتائج پر غور کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک نئے جذبے اور عزم کے ساتھ ملک کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کا عہد کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کبھی بھی کشمیری عوام کی تحریک خود ارادیت کو نہیں دبا سکتا، کشمیری عوام کی حق خود ارادیت کی تحریک جلد کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ وہ وقت دور نہیں جب کشمیری بھارتی تسلط سے آزادی حاصل کر لیں گے۔