بنگلہ دیش: کچی آبادی میں آتشزدگی سے ہزاروں افراد بے گھر

اپ ڈیٹ 18 اگست 2019

ای میل

حفاظتی اقدامات کی کمی کی وجہ سے ڈھاکا میں آتشزدگی کے واقعات عام ہیں — فوٹو: رائٹرز
حفاظتی اقدامات کی کمی کی وجہ سے ڈھاکا میں آتشزدگی کے واقعات عام ہیں — فوٹو: رائٹرز

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں قائم کچی آبادی میں آگ لگنے کے باعث ہزاروں جھونپڑیاں جل کر خاکستر ہوگئیں اور 10 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوگئے۔

خبر ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق فائر سروسز کے عہدیدار ارشاد حسین نے بتایا کہ ڈھاکا کے علاقے میر پور میں 16 اگست کی رات آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں 2 ہزار سے زائد جھونپڑیاں جل کر راکھ ہوگئیں۔

کچی آبادی میں چائے کا ٹھیلا چلانے والے 58 سالہ عبدالحامد نے کہا کہ 'میں اپنی ایک چیز بھی نہیں بچا سکا، میں نہیں جانتا کہ اب کیا کروں گا'۔

فائر فائٹرز کا کہنا تھا کہ حکام نے فوری طور پر آگ پر قابو پالیا تھا جس کے باعث کوئی ہلاکت نہیں ہوئی تاہم کئی افراد زخمی ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: فیکٹری میں آتشزدگی سے سو سے زائد ہلاک

رپورٹ کے مطابق اکثر رہائشی افراد حادثے کے وقت اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ عیدالاضحیٰ کا تہوار منانے گئے تھے۔

مقامی پولیس کے سربراہ غلام ربانی نے کہا کہ 'اگر آبادی کے تمام افراد حادثے کے وقت موجود ہوتے تو نقصان اس سے کہیں زیادہ ہوسکتا تھا'۔

ارشاد حسین نے کہا کہ کم از کم 10 ہزار افراد نے قریبی اسکولوں میں قائم کئے گئے کیمپوں میں پناہ لی ہے، اسکول ہفتے بھر کی طویل چھٹی کے باعث بند تھے۔

میونسپل عہدیدار شفیع الاعظم نے بتایا کہ 'ہم انہیں خوراک، پانی، ٹوائلٹس اور بجلی کی سہولیات فراہم کررہے ہیں'۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکام آتشزدگی کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کو مستقل رہائش فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: کیمیائی گودام میں آتشزدگی، 69 افراد ہلاک

چند خاندانوں نے مون سون کی موسلا دھار بارش سے بچنے کے لیے ترپال کا استعمال کیا تھا لیکن مسلسل بارش کے باعث ہر جگہ کیچڑ موجود ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ حفاظتی اقدامات کی کمی کی وجہ سے ڈھاکا میں آتشزدگی کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔

خیال رہے کہ بنگلہ دیش میں رواں برس عمارتوں میں آتشزدگی کے مختلف واقعات میں اب تک 100 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

2012 میں ڈھاکا میں 9 منزلہ گارمنٹ فیکٹری میں آگ لگنے سے کم ازکم 111 مزدور ہلاک ہوگئے تھے بعدازاں تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ فیکٹری میں موجود مینیجروں نے متاثرین کو باہر نکلنے سے روک دیا تھا۔

اس سے قبل 2012 میں ہی ڈھاکا کے گنجان آباد علاقے نمتولی میں آتشزدگی کے نتیجے میں 123 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔