دیوانی مقدمات کی مدت 40 سال سے کم ہوکر چند سال ہوجائے گی

اپ ڈیٹ 22 اگست 2019

ای میل

ڈاکٹر نفیسہ شاہ اور عالیہ کامران نے اس ترمیمی بل کی مخالفت میں نوٹ جمع کروائے — فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
ڈاکٹر نفیسہ شاہ اور عالیہ کامران نے اس ترمیمی بل کی مخالفت میں نوٹ جمع کروائے — فائل فوٹو: شٹر اسٹاک

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے سول کیسز (دیوانی مقدمات) کے خاتمے کے دورانیے کو کافی حد تک کم کرنے کے لیے سول پروسیجر کوڈ (سی پی سی) میں ترمیم کا بل منظور کر لیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی اراکین کو بل کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ اس وقت ایک سول کیس کی اوسط مدت 30 سے 40 سال ہے جس پر انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مذکورہ ترمیم سے یہ مدت کم ہو کر چند سال رہ جائے گی۔

واضح رہے دیوانی مقدمات یا سول کیسز، آپس کے جھگڑوں، ذاتی چپقلش اور جائیداد وغیرہ سے متعلق مقدمات ہوتے ہیں۔

مجوزہ تجویز کی وضاحت دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزارت نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر دوبارہ مقدمہ بازی کو ختم کر کے پہلے فیصلے کو ہی حتمی حکم سمجھنے کی تجویز بھی دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’حکومت کا نیب قوانین میں ترمیم کا فیصلہ، کابینہ سے منظوری بھی مل گئی

وزیر قانون نے بتایا کہ کیس کے پہلے مرحلے میں 2 سول جج یبک وقت کارروائی کریں گے جس میں ایک حکم امتناع کے معاملے جبکہ دوسرے جج سماعت کی کارروائی دیکھیں گے تاکہ امتناع کی صورت میں تاخیر سے بچا جائے اور اگر کیس کا فیصلہ ہوجائے تو امتناع خود بخود ختم ہو جائے گا۔

اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سول جج کے حکم کے خلاف ڈسٹرکٹ اور سیشن جج کی سماعت کے بجائے ہائی کورٹ کے ایک رکنی بینچ میں اپیل کی جاسکے گی اور انٹر کورٹ اپیل کے بجائے مدعی معاملے کے حتمی فیصلے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر سکے گا۔

تاہم پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رہنما ڈاکٹر نفیسہ شاہ اور عالیہ کامران نے اس ترمیمی بل کی مخالفت میں نوٹ جمع کروایا۔

مزید پڑھیں: وزارت قانون کا 100 روز کا ایجنڈا مکمل، قانونی پیکج تیار کرلیا گیا

بعد ازاں وزارت قانون کی درخواست پر قائمہ کمیٹی نے مسلم فیملی لاز ترمیمی بل 2019 (دفعہ 4) اور مسلم فیملی لاز ترمیمی بل 2019 (دفعہ 7) کے حکومتی بل کو آئندہ اجلاس تک کے لیے ملتوی کر دیا۔

کم عمری میں شادی کی روک تھام کا بل مسترد

دوسری جانب کمیٹی نے ڈاکٹر رامیشن کمار کے پیش کیے گئے کم عمری میں شادی کی روک تھام کے بل برائے 2019 پر بھی تفصیلی غور و خوض کیا اور اراکین کی اکثریت کے ووٹ کی بنیاد پر قومی اسمبلی سے اسے منظور نہ کروانے کا فیصلہ کیا گیا۔