درمیانی عمر میں موت کا خطرہ بڑھانے والی عادت

22 اگست 2019

ای میل

یہ دعویٰ ناروے میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا— شٹر اسٹاک فوٹو
یہ دعویٰ ناروے میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا— شٹر اسٹاک فوٹو

اگر درمیانی عمر میں کسی بھی مرض سے موت سے بچنا چاہتے ہیں تو اپنی اس عام عادت پر قابو پالیں جو آج کل بیشتر افراد میں پائی جاتی ہے۔

یہ دعویٰ ناروے میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

نارویجن اسکول آف اسپورٹ میڈیسین کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دن میں زیادہ تر وقت بیٹھ کر گزارنا (سونے کے وقت کو نکال کر) درمیانی عمر میں کسی بھی مرض سے موت کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

اس کے مقابلے میں بظاہر معمولی جسمانی سرگرمیاں بھی لمبی زندگی کے حصول میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق بیٹھنے کے وقت کو محدود اور کسی بھی قسم کی جسمانی سرگرمیوں کے وقت میں اضافہ صحت کو بہتر کرنے کے ساتھ موت کا خطرہ کم کرتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران 36 ہزار سے زائد بالغ افراد پر ہونے والی 8 تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ سست طرز زندگی یعنی زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا جلد موت کا خطرہ بڑھاتا ہے جبکہ کسی بھی قسم کی جسمانی سرگرمیاں جلد موت کا خطرہ نمایاں حد تک کم کرتی ہیں۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دن بھر میں 300 منٹ یا 5 گھنٹے کی ہلکی جسمانی سرگرمیاں درمیانی عمر میں موت کا خطرہ نمایاں حد تک کم کرتی ہیں۔

جسمانی طور پر زیادہ متحرک افراد میں درمیانی عمر میں کسی مرض سے موت کا خطرہ 70 فیصد تک کم ہوجاتا ہے جبکہ سست طرز زندگی کے عادی افراد میں یہ خطرہ 4 سے 5 گنا تک بڑھ جاتا ہے۔

محققین کے مطابق دن بھر میں 9 گھنٹے سے زائد وقت بیٹھ کر گزارنا جلد موت کا خطرہ بہت زیادہ بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل بی ایم جے میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل اسکاٹ لینڈ کی ایڈنبرگ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ درمیانی عمر کے افراد جو اپنا زیادہ دفتر میں بیٹھ کر گزارتے ہیں، ان میں کینسر، ذیابیطس ٹائپ ٹو، خون کی شریانوں کے مسائل (امراض قلب یا فالج) اور جلد موت کا خطرہ جسمانی طور پر متحرک افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں آبادی کا بڑا حصہ خطرناک حد تک سست طرز زندگی کا عادی ہوچکا ہے، دفاتر سے ہٹ کر بھی گھر میں ٹیلیویڑن کے سامنے بیٹھے رہنا لوگوں کو دلپسند مشغلہ بن چکا ہے جو کہ مختلف امراض کی وجہ بنتا ہے۔