جج ارشد ملک کےخلاف کارروائی،لاہور ہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی کا اجلاس طلب

اپ ڈیٹ 23 اگست 2019

ای میل

جج ارشد ملک نے لاہور ہائی کورٹ کو رپورٹ کر دیا — فائل فوٹو / ڈان نیوز
جج ارشد ملک نے لاہور ہائی کورٹ کو رپورٹ کر دیا — فائل فوٹو / ڈان نیوز

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سردار شمیم خان نے جج ارشد ملک کے خلاف تادیبی کارروائی کے لیے ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا۔

جسٹس سردار محمد شمیم خان نے لاہور ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی کا اجلاس پیر مورخہ 26 اگست کو طلب کیا ہے۔

اجلاس میں احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کے خلاف کارروائی پر غور کیا جائے گا۔

لاہور ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی 7 سینئر ججز پر مشتمل ہے جو کارروائی کے حوالے سے غور کرے گی، جبکہ کمیٹی کی سربراہی چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کریں گے۔

کمیٹی کے دیگر سینئر ججز میں جسٹس مامون الرشید شیخ، جسٹس قاسم خان، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس امیر بھٹی اور جسٹس ملک شہزاد احمد خاں شامل ہوں گے۔

رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جج ارشد ملک سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ویڈیو سے متعلق تحقیقات کی جائیں گی اور انتظامی کمیٹی کی تجاویز کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جج ارشد ملک نے لاہور ہائی کورٹ رپورٹ کر دیا اور انہیں معطل ہو کر تحقیقات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

قبل ازیں جج ارشد ملک نے لاہور ہائی کورٹ کو رپورٹ کر دیا۔

گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے ارشد ملک کو لاہور ہائی کورٹ رپورٹ کرنے کا حکم دیا تھا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اور ایف آئی اے پہلے ہی ویڈیو کی تحقیقات کر رہا ہے اس لیے سپریم کورٹ فی الحال مداخلت نہیں کر رہی۔

سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو دیکھنا ہوگا کہ ویڈیو کا جج کے فیصلوں پر کیا اثر پڑا، ہائی کورٹ کے پاس اختیار ہے کہ وہ احتساب عدالت کے جج کی طرف سے دیئے گئے فیصلے میں شہادتوں کا جائزہ لے کر اس سزا کو ختم کردے، وہ دستیاب شہادتوں کو سامنے رکھ کر بھی کوئی فیصلہ دے سکتی ہے، ہائی کورٹ چاہے تو فیصلے کو دوبارہ ٹرائل کورٹ بھی بھیج سکتی ہے اور ٹرائل کورٹ فریقین کو سن کر کیس سے متعلق فیصلہ کر سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: جج ارشد ملک ویڈیو کیس سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ارشد ملک بیان حلفی اور پریس ریلیز ایک تلخ حقیقت ہے جس میں انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ بلیک میل ہوئے، جج کا یہ تسلیم کرنا ہمارے لیے چونکا دینے کے مترادف ہے اور ویڈیو پر ارشد ملک کے بیانات ان کے خلاف کارروائی کے لیے کافی ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جج ایسے لوگوں سے ذاتی ملاقاتیں کرتے رہے جو ملزمان کے ساتھی تھے، وہ ملزم کو سزا دینے کے بعد بھی دوسرے شہر جاکر اس سے ملے، جج ملزم کے بیٹے سے دوسرے ملک جاکر بھی ملے، جج اپنے ہی فیصلے میں مجرم ثابت کرنے والے شخص کی اپیل میں مددگار بنا، جج نے ملزم کے بیٹے سے ملاقات میں اپنے ہی فیصلے کی کمزوریاں بتائیں، ارشد ملک کو دھمکیاں، رشوت کی پیشکش ہوئی لیکن انہوں نے اعلیٰ حکام کو آگاہ نہیں کیا اور دھمکیوں، رشوت کی آفر کے باوجود وہ کیس سے الگ نہیں ہوئے، جج کا طرز عمل ادارے کے لیے بدنما داغ کی طرح ہے اور ان کی مکروہ حرکتوں سے کئی ایماندار ججز کے سر شرم سے جھک گئے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے 12 جولائی کو احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹانےکا فیصلہ کیا تھا اور خط لکھا تھا، جس پر وزارت قانون نے احتساب عدالت نمبر 2 کے ان جج کو مزید کام کرنے سے روک دیا تھا اور لا ڈویژن کو رپورٹ کرنے کا کہا تھا۔

اسی روز جج ارشد ملک کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک خط اور بیان حلفی جمع کروایا گیا تھا، جس میں ویڈیو میں لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا گیا تھا۔