ہندو برادری نے مذہبی تہوار 'کرشنا جنم اشٹمی' کو یکجہتی کشمیر سے منسوب کردیا

اپ ڈیٹ 23 اگست 2019

ای میل

رمیش کمار نے جنم اشٹمی کے موقع پر ویڈیو پیغام جاری کیا—منوج گینانی
رمیش کمار نے جنم اشٹمی کے موقع پر ویڈیو پیغام جاری کیا—منوج گینانی

مقبوضہ کشمیر کے عوام پر بھارتی پابندیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے پاکستان کی ہندو کونسل کے پیٹرن ان چیف نے مذہبی تہوار 'کرشنا جنم اشٹمی' کو یوم یکجہتی کشمیر سے منسوب کرنے کا اعلان کردیا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی اور پاکستان ہندو کونسل کے پیٹرن ان چیف ڈاکٹر رمیشن کمار واکوانی نے ایک ویڈیو پیغام میں یہ اعلان کیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کیے گئے ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ 'مجھے یہ سن کر بہت افسوس ہوا کہ سرحد کے اُس پار لوگوں کو عید کی نماز نہیں پڑھنے دی گئی، میں دنیا کے ان تمام ممالک جو پاکستان میں معمولی سے انسانی حقوق کے واقعات کو اجاگر کرتے ہیں، انہیں اور خاص طور پر بھارت کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ آئیں صادق آباد، ضلع رحیم یار خان میں اور دیکھیں کہ ہندو برادری کس طرح اپنا تہوار کرشنا جنم اشٹمی کو مناتی ہے'۔

اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ 'کرشنا جنم اشٹمی کے دن میں تمام ہندو برادری کو اکٹھا کرکے اسے یکجہتی کشمیر کا دن کہہ رہا ہوں، پاکستان کے اندر ہندو کمیونٹی 30، 40 ہزار کے اجتماع کے ساتھ یہ تہوار منائے گی، مجھے کل کا دن بہت تاریخی نظر آرہا ہے'۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر: بھارتی اقدام کے خلاف اقوام متحدہ کے دفتر کی طرف مارچ کا اعلان

رمیش کمار واکوانی کا کہنا تھا کہ 'ہم ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوکر آزادی سے کرشنا مندر میں آرتی کریں گے، جنم اشٹمی کا دن بھی منائیں گے اور ساتھ ہی اسے یوم یکجہتی کشمیر سے منسوب کریں گے'۔

پی ٹی آئی ایم این اے کا کہنا تھا کہ 'جب وزیراعظم کو کہا کہ وہ اس دن کو ہمارے ساتھ منائیں تو انہوں نے 31 اگست کا وقت دیا اور وہ اس روز ہندو برادری کے ساتھ عمرکوٹ کے شو مندر میں یہ دن منائیں گے'۔

ویڈیوپیغام میں ان کا کہنا تھا کہ 'آئندہ ہفتے بلوچستان، خیبرپختونخوا اور یہاں تک کہ آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر شادرہ پیک مندر میں جاکر یہ دن منایا جائے گا، تاکہ دنیا کو یہ دکھایا جاسکے کہ سرحد کے اِس پار پاکستان میں ہندو برادری کس طرح آزادی سے یہ تہوار منارہی'۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'ان چیزوں کو اجاگر نہیں کیا جاتا بلکہ کہا جاتا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہیں لیکن انہیں سرحد کے اُس پار یہ نظر نہیں آتا کہ عید کی نماز نہیں پڑھنے دی جائے'۔

ڈاکٹر رمیش کمار نے بذریعہ ویڈیو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو پیغام دیا کہ 'اگر خطے میں امن چاہتے ہیں تو یہ چیزیں نہ کریں، تکبرآدمی کو ہمیشہ گراتا ہے، اب بھی وقت ہے کہ اگر آپ ان چیزوں کو ختم کرتے ہیں تو مجھے دعوت دیں، میں سری نگر میں آکر اپنے بھائیوں سے ملوں اور پوچھوں کہ وہ کس طریقے سے رہ رہے ہیں، آیا انہیں عید کی نماز نہیں پڑھنے دی گئی، آیا وہ کرفیو میں رہ رہے ہیں، کیا یہ سیکولر ملک کا کام ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم تو اسلامی ملک میں رہ رہے ہیں لیکن ایک سیکولر ملک کی تو زیادہ ذمہ داری ہے، جسے پورا کرنا ہوگا'۔

یہ بھی پڑھیں: جنگ کا آغاز بھارت نے کیا ہے، ختم ہم کریں گے، صدر آزاد کشمیر

علاوہ ازیں اپنے پیغام کے آخر میں انہوں نے کہا کہ 'دنیا کے ممالک کل رحیم یار خان اور 31 اگست کو عمر کوٹ میں ہندو برادری کا سمندر جیسا منظر دیکھیں اور یہ بھی دیکھیں کہ وہ کس طریقے سے کرشنا بھگوان کا جنم دن کرشنا جنم اشٹمی کو مندر میں کتنی آزادی سے مناتے ہیں'۔

خیال رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیری کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کردیا تھا اور وادی کو 2 حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس اعلان سے قبل ہی ہزاروں کی تعداد میں اضافی بھارتی فوجی مقبوضہ وادی میں مرکزی چیک پوائنٹس پر بھیجی گئیں تھیں جبکہ یہ علاقہ پہلے ہی دنیا کا سب سے زیادہ عسکری زون ہے، اس کے ساتھ ساتھ وادی کے 70 لاکھ لوگوں کے لیے ٹیلی فونی رابطے، موبائل فون، بروڈبینڈ انٹرنیٹ اور کیبل ٹی وی سروسز کو معطل کردیا تھا۔

علاوہ ازیں بھارت کی جانب سے متنازع علاقے کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد مزاحمت کو روکنے کے لیے مکمل سیکیورٹی لاک کردیا گیا تھا جبکہ اب تک مقبوضہ وادی میں کم از کم 4 ہزار افراد، جس میں زیادہ تک نوجوان ہیں انہیں حراست میں لیا جاچکا ہے۔