سرکاری گیسٹ ہاؤس سے متعلق حکومتی فیصلے پر مسلم لیگ (ن) کی کڑی تنقید

اپ ڈیٹ 25 اگست 2019

ای میل

مریم اورنگزیب نے سرکاری گیسٹ ہاؤس سے متعلق حکومتی فیصلے کو  ’ڈرامہ ‘ قرار دیا —فائل فوٹو: ڈان نیوز
مریم اورنگزیب نے سرکاری گیسٹ ہاؤس سے متعلق حکومتی فیصلے کو ’ڈرامہ ‘ قرار دیا —فائل فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے نتھیا گلی کا سرکاری گیسٹ ہاؤس عوام کے لیے کھولنے کے فیصلے پر کہا ہے کہ وہ پہلے عوام کو اپنی ’آمرانہ اور فسطائی سوچ‘ سے آزاد کریں۔

مریم اور نگزیب نے کہا کہ عمران خان نے ملک کو نوآبادیات کی ’عبرتناک مثال‘ بنایا ہوا ہے، تحریک انصاف کو خیبر پختونخوا میں نتھیا گلی کا سرکاری ریسٹ ہاؤس عوام کے لیے کھولنے میں 6 سال لگے۔

مزیدپڑھیں: وزیر اعظم ہاؤس میں یونیورسٹی کے 8 شعبے قائم کریں گے، فواد چوہدری

انہوں نے سرکاری گیسٹ ہاؤس سے متعلق حکومتی فیصلے کو ’ڈرامہ ‘ قرار دیا اور کہا کہ اس فیصلے سے مہنگائی 10 فیصد سے کم اور ترقی کی شرح 3 فیصد سے زیادہ نہیں ہوجائے گی۔

مسلم لیگ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے صرف ایک سال میں حکومتی اخراجات میں 1100 ارب کا اضافہ کردیا اس لیے وہ ٹیکس دینے والوں کے ’دکھ کا ڈرامہ‘ نہ کریں۔

اس حوالے سے انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ٹیکس دہندگان کا ایک کھرب میٹرو پشاور کے ’کھڈوں پہ ضائع‘ ہوچکا ہے اور 6 سال بعد نتھیا گلی کا سرکاری گیسٹ ہاؤس کھولنے سے عوام کو روٹی، کاروبار اور روزگار نہیں ملے گا۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے، انڈے، کٹے، مرغیوں، بکریوں سے جی ڈی پی نہیں بڑھے گا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بناؤں گا، وزیراعظم عمران خان کا قوم سے خطاب

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ ہاؤس کی دیواریں توڑنے سے آپ کی لائی ہوئی ’معاشی تباہی‘ ٹھیک نہیں ہو گی۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے آج اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ میں کہا کہ ’نوآبادیات کی یہ نشانیاں (نتھیا گلی کا سرکاری ریسٹ ہاؤس) جن کی دیکھ بھال کے لیے ٹیکس کے پیسوں سے سالانہ کروڑوں کے اخراجات اٹھتے (تھے)، اب حکومت کے لیے آمدن کا ذریعہ بنیں گے‘۔

عمران خان نے ایک ویڈیو بھی شیئر کی گئی جس میں ریسٹ ہاؤس کا تاریخی حوالہ دیا گیا اور ساتھ ہی ریسٹ ہاؤس کے خارجی اور داخلی مقامات کی خوبصورت عکاسی کی گئی۔

خیال رہے کہ وزیراعظم پاکستان نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ وزیر اعظم ہاؤس کو اعلیٰ ترین یونیورسٹی بنائیں گے جہاں تحقیق ہوگی اور دنیا سے بڑے بڑے اسکالرز کو بلائیں اور اعلیٰ طرز کی یونیورسٹی ہوگی۔

رواں برس جنوری میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے وفاقی حکومت کو بتایا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس میں یونیورسٹی بنانے کا اقدام شہر کے ماسٹر پلان کی خلاف ورزی ہوگی۔

مزیدپڑھیں: عمران خان کا وزیر اعظم ہاؤس میں نہ رہنا قومی خزانے کیلئے کتنا فائدے مند؟

سی ڈی اے کی جانب سے وفاقی حکومت کو کہا گیا تھا کہ اگر سرکاری عمارت میں یونیورسٹی قائم کرنے کی خواہش ہے تو اس کے ماسٹر پلان میں تبدیلی کرنا پڑے گی۔

مئی میں وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس میں چین کی مدد سے 55 ارب روپے کی لاگت سے یونیورسٹی کے 18 شعبے قائم کریں گے۔