وزیر اعظم ہاؤس میں یونیورسٹی کے 8 شعبے قائم کریں گے، فواد چوہدری

اپ ڈیٹ 08 مئ 2019

ای میل

فواد چوہدری نے گزشتہ برس پاکستانی خلائی مشن بھیجنے کا اعلان کیا تھا—فائل/فوٹو:فیس بک
فواد چوہدری نے گزشتہ برس پاکستانی خلائی مشن بھیجنے کا اعلان کیا تھا—فائل/فوٹو:فیس بک

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے میڈیا یونیورسٹی کو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے منصوبوں میں شامل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس میں چین کی مدد سے 55 ارب روپے کی لاگت سے یونیورسٹی کے 18 شعبے قائم کریں گے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وزارت اطلاعات سالانہ35 ارب سے 40 ارب روپے ضائع کردیتی ہے اس طرح 13ارب روپے پی ٹی وی، 6 ارب روپے ریڈیو اور 85 کروڑ روپے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان ( اے پی پی) پر خرچ ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بطور وزیر اطلاعات ایک ارب روپے سے زائد کے اشتہارات کا بجٹ بچا کر حکومت کو واپس کیا تاہم اس وقت وزیراعظم خود وزیر اطلاعات ہیں اور امید ہے کہ وہ وزارت کے امور کو بہتر انداز سے چلائیں گے۔

فواد چودھری نے وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے فریم ورک کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سائنسی ترقی کے بغیر تیسری دنیا ترقی نہیں کرسکتی اس لیے ٹیکنالوجی پر بھروسہ کریں گے تو آگے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ41 ڈویژنوں کے دس، دس اسکولوں کو ماڈل اسکول بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور ہر ڈویژن کے 30 اسکولوں میں نویں کلاس سے بارہویں کلاس تک اسٹیٹ آف دی آرٹ لیبارٹریاں تیار ہوں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ لڑکیوں کے لیے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا خصوصی پروگرام لارہے پیں۔

وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم ہاؤس میں چین کے تعاون سے 55 ارب روپے کی لاگت سے یونیورسٹی کے 8 شعبے قائم کریں گے۔

مزید پڑھیں:وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بناؤں گا، وزیراعظم عمران خان کا قوم سے خطاب

فواد چوہدری نے کہا کہ وزیر اعظم سیکریٹریٹ کو مکمل سولر نظام میں منتقل کرنے کا اور پی سی ایس آئی کو مزید بہتر بنانے کا منصوبہ ہے۔

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے پاکستانی خلائی مشن بھجوانے کے فیصلے کو دہراتے ہوئے کہا کہ2022 میں پاکستان کا پہلا خلائی مشن بھیجا جائے گا اور یوں پہلا مسلم خلا باز بھیجا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگست میں اسلام آباد میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میلہ کروانے کا فیصلہ کیا ہے اور پورے مہینے کو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ماہ کے طور پر منانے کے لیے وزیر اعظم سے درخواست کریں گے۔

سائنسی میلے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ میلے میں جس نے سائنسی ایجادات کے حوالے سے جو کام ہے ان کو بلایا جائے گا اور اس کی نمائش ہو گی۔

مزید پڑھیں:پاکستان کا 2022 تک خلاء میں پہلا مشن بھجوانے کا اعلان

وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے منصوبوں سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے 30 قصبوں کو منتخب کرکے وہاں صاف پانی فراہم کیا جائے گا اور گندگی سے توانائی کا منصوبہ 16 قصبوں میں شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔

پانچ سال کا قمری کیلنڈر تیار کرلیا ہے

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کہا کہ رویت ہلال سے متلعق وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی قمری کیلنڈر 15ویں روزے کو کابینہ بھجوائے گی، اور وزارت نے 5 سال کا قمری کیلندر تیار کرلیا ہے تاہم یہ کابینہ پر منحصر ہے کہ وہ چاہے تو منظورکرے یا مسترد کردے۔

انہوں نے کہا کہ مفتی منیب الرحمٰن سمیت دیگر تمام علما کا احترام ہے، وہ علما آج چاند دیکھتے ہیں جنھیں پاس بیٹھا شخص بھی دکھائی نہیں دیتا۔

انہوں نے کہا کہ جدید دوربین کو حرام قرار دینے کی سمجھ نہیں آتی جبکہ ہماری پرانی دور بین سو سال پرانی ہے، نماز کے اوقات سورج سے منسلک ہیں اسی طرح چاند کا مسئلہ بھی ایسا ہی ہے۔

مزید پڑھیں:چاند کی رویت: آئندہ 10 سال کا اسلامی کلینڈر بنانے کیلئے کمیٹی تشکیل

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ چاند دیکھنا سائنسی علم ہے اور مذہب انسان کا ذاتی عمل ہے، ہم قوم کے سامنے متبادل طریقہ کار رکھیں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ میڈیا یونیورسٹی کو بھی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے منصوبوں میں شامل کرلیا ہے، سائنس ٹیکنالوجی اور میتھس اسٹمپ کے نام سے نیا سلیبس لا رہے ہیں۔

این ٹی ایس سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس کا جائزہ لینے کے لیے وزیر تعلیم کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کردی گئی ہے جبکہ این ٹی ایس کو براہ راست وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ماتحت کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔

سابق حکومت کی کارکردگی کو ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی پر صرف 80 کروڑ روپے خرچ کیے جبکہ بھارت نے ایک کھرب روپے خرچ کیے لیکن اب ہمارے ہاں بھی اگلے پانچ سال میں سائنس کے شعبے میں ترقی ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ بحیثیت وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ہمارا فرض ہے کہ اپنی رائے دیں، اگلے 3 چار سال میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں واضح فرق ہوگا۔