کشمیر معاملے پر بھارت کو مذاکراتی ٹیبل پر کس طرح لایا جاسکتا ہے؟

02 ستمبر 2019

ای میل

جموں و کشمیر کے الحاق سے متعلق مودی کی جانب سے اٹھائے گئے اچانک اور غیر قانونی اقدام نے پاکستان، کشمیری عوام، بھارت کے ’سیکولر حلقوں‘ اور عالمی برادری پر حقیقت اجاگر کردی ہے۔

پاکستان میں جو حضرات یہ مانتے تھے کہ جموں و کشمیر پر سمجھوتے سے بھارتی دشمنی کا خاتمہ ہوگا اور تعاون کو فروغ ملے گا، اس اقدام نے ان کی آنکھیں کھول دیں۔

اب یہ واضح ہوچکا ہے کہ مودی اور ان کی بی جے پی-آر ایس ایس پر مشتمل گروہ کے لیے کشمیر کا (آبادیاتی تبدیلی کے ذریعے) ’آخری حل‘ اور پاکستان کے لیے دشمنی محض انتخابی چالیں نہیں تھیں بلکہ یہ اس ہندو انڈیا کے مخصوص مذہبی بالادستی کے حامی نظریے کا حصہ تھے جسے بے رحمی سے مسلط کیا جانا ہے۔

پاکستان کو پہلے ہی اس بدصورت حقیقت کے مطابق اپنی سمت کا تعین کرلینا چاہیے تھا۔ وزیرِاعظم عمران خان مانتے ہیں کہ ان کی جانب سے مذاکرات کی دعوت اور گزشتہ فروری کی فوجی کارروائیوں کے تبادلے کے دوران پاکستان کے مزید کارروائی نہ کرنے کے اقدام کو مودی کمزوری اور خوشامد کی علامات سمجھ بیٹھے تھے۔ لہٰذا اب انہوں نے یہ ٹھان لیا ہے کہ وہ کشمیریوں کے ’سفیر‘ کے طور پر کشمیر کاز کے حوالے سے عالمی سطح پر آواز اٹھائیں گے۔

پاکستان کا ابتدائی ردِعمل حسبِ معیار تھا: سفیروں کو واپس بلوانا، تجارتی تعلقات ترک کرنا اور اقوام متحدہ اور انسانی حقوق سے منسلک تنظیموں سے رجوع کرنا۔

لیکن مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں اٹھانا واقعی ایک غیر معمولی اقدام تھا۔

50 برسوں کے وقفے کے بعد اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں جموں و کشمیر پر ہونے والی ’غیر رسمی مشاورت‘ پر تمام 15 اراکین کا اتفاق پاکستان کے لیے ایک واضح سفارتی فتح کو ظاہر کرتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ اس بات کی بھی توثیق کرتا ہے کہ جموں و کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے اور یہ بھارت کا داخلی معاملہ نہیں ہے۔ کونسل مسئلہ کشمیر پر بھرپور انداز میں نظر رکھے ہوئے ہے اور مقبوضہ کشمیر کے موجودہ حالات کا بغور جائزہ لے گی۔

اقوامِ متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں (سوائے پاکستانی تنظیموں کے، جو بڑی حیرانی کی بات ہے) کی جانب سے کشمیر میں بھارت کے نافذ کردہ 24 گھنٹے کے کرفیو، مواصلاتی اور نیوز بلیک آؤٹ، غیر قانونی گرفتاریوں اور مظاہرین کو دبانے کے لیے پُرتشدد اور مہلک طریقہ کار کے استعمال پر گہرے سنجیدہ خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔

اسلام آباد نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ ستمبر کی ابتدا میں جینیوا میں منعقد ہونے والے انسانی حقوق کی کونسل کے اجلاس میں بھارت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھائیں گے۔

وزیرِاعظم عمران خان نے یہ واضح کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے (اطلاعات کے مطابق 27 ستمبر کو) اپنے خطاب اور دیگر سربراہانِ ریاست و حکومت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں کشمیر کاز پر بھرپور انداز میں بات کریں گے۔

افسوس کے ساتھ، جہاں بھارت کا نام نہاد آزاد میڈیا مودی کے کشمیر کے الحاق کے غیر قانونی اقدام کی حمایت میں پیش پیش ہے اور کشمیر میں ہو رہے بڑے پیمانے پر مظالم کو چھپانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا، وہیں پاکستانی میڈیا کے کچھ حلقوں نے پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے بنائی گئی کشمیر پالیسی کی تیاری اور بیرونی حمایت کے حصول میں مبیّنہ ناکامیوں پر بغیر یہ سوچے سمجھے تنقید شروع کردی ہے کہ ان کی تنقید سے مظلوم کشمیریوں کے مورال پر کیا کچھ اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ عرب اور اسلامی دنیا کمزور اور تقسیم کا شکار ہے۔ او آئی سی کی آواز صرف مسئلہ کشمیر ہی نہیں بلکہ اُس فلسطین کے معاملے پر بھی خاموش کروا دی گئی ہے جو اس کے قیام کا باعث تھا۔ پاکستان او آئی سی کا اتحاد اور اثر و رسوخ فوراً سے بحال نہیں کرسکتا ہے۔

لیکن اس کے باوجود اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں کویت ہمارا حمایتی رہا، جبکہ سعودی عرب، او آئی سی سیکریٹریٹ اور اسلامی کونسل برائے انسانی حقوق نے اپنے بیان جاری کیے جس میں کشمیر کو لے کر اپنے خدشات کا اظہار کیا گیا۔ امید ہے او آئی سی کشمیریوں کے بنیادوں حقوق کے تحفظ کے لیے آگے بڑھ کر بھی کام کرے گی۔

سب سے اہم کردار دنیا کی بڑی طاقتوں بالخصوص اقوام متحدہ کے 5 مستقل اراکین ممالک کے مؤقف کا ہوگا۔ زمینی سیاست ان کے مؤقف کے تعین میں اہم کردار ادا کرے گی۔

ابھی تک چین پاکستانی مؤقف کی حمایت کا اعلان کرچکا ہے۔ پاکستان کی حکمت عملی اس اہم حمایت کی بنیاد پر ہی مرتب کرنا ہوگی۔ روس بھارت کے ساتھ اپنے روایتی تعلقات اور اپنے نئے اسٹریٹجک شراکت دار چین کے ساتھ ساتھ پاکستان سے تعلقات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کسی محفوظ راہ کا انتخاب کرے گا۔

امریکا بھارت کو اپنے قابو میں رکھنے کے لیے کشمیر پر بھارت کے خود ساختہ غیر محفوظ حالات کا فائدہ اٹھائے گا، ظاہر ہے طالبان کے ساتھ افغان ڈیل کروانے میں اسے پاکستان کا ساتھ جو درکار ہے۔

ٹرمپ کی ثالث کاری کی پیش کش سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا اور پیش کش کے سحر میں آکر پاکستان کی توجہ کسی بھی طور پر بھٹکنی نہیں چاہیے۔ فرانس کی شدید خواہش ہے کہ روس کی جگہ وہ بھارت کا مرکزی اسلحہ فراہم کنندہ بن جائے اور فرانس اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں بھارت کے متبادل کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا۔ برطانیہ انسانی حقوق کے مسائل پر تو شاید ہمدردی کا مظاہرہ کرے لیکن دیگر ممالک کی طرح یہ بھی کشمیر تنازع پر ’دو طرفہ‘ پاک بھارت مذاکرات کی ناتواں وکالت کا سہارا لے گا۔

چین کی حمایت کے ساتھ اپنی حکمت عملی مرتب کرتے وقت پاکستان کو کشمیر کے حوالے سے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے امریکی رضامندی بھی درکار ہوگی۔ اس مقصد کے لیے اسلام آباد امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کے اپنے غیر معمولی کردار کا فائدہ اٹھاسکتا ہے، جبکہ مستحکم سفارتی اور دیگر اقدامات کی مدد سے فرانس کو غیر جانبدار بنانا ہوگا۔

سیکیورٹی کونسل اور عالمی برادری کے لیے کشمیر تنازع میں مداخلت اور اس کا حل ناگزیر بنانے کا دار و مدار بھارتی دھمکیوں اور دباؤ کے باوجود کشمیر کاز پر اپنے مؤقف کو فروغ دینے میں پاکستان کی مستقل مزاجی اور اس سے بھی بڑھ کر کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کے ابھار اور طاقت پر ہے۔

اگر کشمیر میں نسلی صفائی اور نسل کشی ہوتی ہے یا پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان کے ایک اور جنگ کا حقیقی خطرہ پیدا ہوجاتا ہے تو دنیا اس تنازع میں ضرور مداخلت کرے گی۔

اس بات کو سمجھ لینا ضروری ہے کہ مودی کی جانب سے کشمیر کی شناخت اور خودمختاری کو ختم کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے پاس مزاحمت کے سوائے اور کوئی آپشن نہیں ہے۔

کشمیریوں کے درمیان اب یہی عالمگیر جذبہ بیدار رہے گا۔ چند ایسے بھی ہوں گے جو یا تو غیر جانبداری کا مظاہرہ کریں گے یا پھر بھارت کے شریک کار ہوں گے۔ اس کے علاوہ کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد مسلح مزاحمت کی حامی بھی ہوسکتی ہے۔ یوں حریت کی سیاسی قیادت کے بجائے مسلح تنظمیں، بالخصوص حزب المجاہدین جیسے مقامی گروہ ایک نئی جدوجہد کی قیادت کریں گے۔

پاکستان کو کشمیری جدوجہد آزادی پر واضح اور سیاسی طور پر قابلِ دفاع مؤقف اپنانا ہوگا جو ایک طرف بین الاقوامی قوانین اور متعدد اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بنیاد پر اس جدوجہد کی جائز حیثیت کو فروغ دیتا ہو۔ دوسری طرف اسلام آباد کو کالعدم دہشتگرد تنظیموں سے خود کو دُور رکھنا ہوگا جو مقبوضہ جموں و کشمیر میں متوقع تصادم کا حصہ بن سکتی ہیں۔

اگر بھارت کو کشمیری بغاوت، اپنے عزم پر ڈٹے ہوئے پاکستان، بین الاقوامی دباؤ اور کمزور معیشت کا سامنا ہوا تو یہ شاید پاکستان اور کشمیریوں کے ساتھ باہمی طور پر قابلِ قبول حل کے لیے مذاکرات کی حامی بھر سکتا ہے۔ مگر ہندو فاشسٹ شاید سمجھوتے کی راہ نہ لیں۔ مقبوضہ کشمیر میں خونریزی سے یہ پاکستان کے ساتھ ایک اور جنگ کو دعوت دے رہے ہیں جو جنوبی ایشیا اور دنیا کے ایک بڑے حصے کو تباہی کے دہانے پر لانے کے مترادف ہے۔

بین الاقوامی برادری کو انہیں روکنے کے لیے متحرک ہونا ہی پڑے گا۔


یہ مضمون یکم ستمبر 2019ء کو ڈان اخبار میں شایع ہوا۔