زیرِ قبضہ برطانوی تیل بردار جہاز کو جلد چھوڑا جاسکتا ہے، ایران

اپ ڈیٹ 08 ستمبر 2019

ای میل

19 جولائی کو آبنائے ہرمز میں برطانوی جہاز اسٹینا امپیرو کو قبضے میں لیا گیا تھا— فائل فوٹو/ اے ایف پی
19 جولائی کو آبنائے ہرمز میں برطانوی جہاز اسٹینا امپیرو کو قبضے میں لیا گیا تھا— فائل فوٹو/ اے ایف پی

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی کا کہنا ہے کہ ایران کے قبضے میں موجود برطانوی تیل بردار جہاز کو قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد چھوڑا جاسکتا ہے۔

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے تہران کے سرکاری نشریاتی ادارے کو بتایا کہ ’مجھے امید ہے کہ قانونی کارروائی جلد مکمل ہوجائے گی اور تیل بردار جہاز کو رہا کردیا جائے گا‘۔

واضح رہے کہ 4 جولائی کو جبرالٹر پولیس اور برطانوی اسپیشل فورسز نے 21 لاکھ بیرل ایرانی تیل لے جانے والے جہاز گریس ون کو قبضے میں لے لیا تھا، جس کے بعد ان ممالک کے درمیان سفارتی محاذ شروع ہوگیا تھا۔

مزید پڑھیں: برطانوی تیل بردار جہاز کو آبنائے ہرمز سے قبضے میں لیا گیا، ایران

ایرانی جہاز کو مبینہ طور پر جنگ زدہ ملک شام میں خام تیل لے جانے کے شبہے میں قبضے میں لیا گیا تھا کیونکہ یہ عمل یورپی یونین اور امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی تھی۔

تاہم اس پر جوابی ردعمل دیتے ہوئے 19 جولائی کو آبنائے ہرمز میں برطانوی جہاز اسٹینا امپیرو کو قبضے میں لے لیا گیا تھا۔

دوسری جانب تہران نے اپنے جہاز کے قبضے کو 'پائریسی' قرار دیا تھا اور مسلسل گریس ون کو چھوڑنے کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔

ساتھ ہی اس بات پر زور دیا جارہا تھا کہ یہ تیل بردار جہاز بین الاقوامی پانیوں میں تھا اور یہ شام کی جانب نہیں جارہا تھا جبکہ حکام کا ماننا تھا کہ برطانیہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اشارے پر جہاز کو قبضے میں لیا۔

یہ بھی پڑھیں: زیرِ قبضہ برطانوی جہاز کی تحقیقات کا انحصار عملے کے تعاون پر ہے، ایران

15 اگست کو جبرالٹر کی سپریم کورٹ نے امریکی کوششوں کے باوجود ایران کے تیل بردار جہاز کو چھوڑنے کا فیصلہ سنا دیا تھا۔

برطانیہ کی جانب سے ایرانی تیل بردار جہاز کو چھوڑنے کے بعد ایران برطانوی جہاز اسٹینا امپیرو کے عملے کے 23 افراد میں سے 7 کو رہا کرچکا ہے جن میں ایک روسی ، ایک لٹویا کا شہری اور 5 بھارتی شہری شامل ہیں۔

تہران میں واقع روسی سفارت خانے کے عہدیدار نے کہا کہ ’ عملے کے دیگر 16 افراد اس وقت تک جہاز پر رہیں گے جب تک اس کی قسمت کا فیصلہ نہیں ہوجاتا۔

مزید پڑھیں: تیل بردار جہاز پر قبضہ: برطانیہ کی ایران کو سنگین نتائج کی دھمکی

اس حوالے سے ایران کی سرکاری خبر ایجنسی اِرنا نے کہا تھا کہ رہا کیا گیا ایرانی تیل بردار جہاز بحیرہ روم میں کسی مقام پر تیل پہنچا چکا ہے۔

تاہم سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق آئل ٹینکر ایڈریان دریا ون گزشتہ ہفتے شام کی بندرگاہ طرطوس پر موجود تھا جسے جبرالٹر میں مبینہ طور پر شام پر عائد پابندیاں توڑنے کے الزام میں تحویل میں لیا گیا تھا۔

ایران نے اگست کے اواخر میں کہا تھا کہ ٹینکر پر موجود تیل کو بیچ دیا گیا تھا اور اب خریدار کارگو کی منزل کا فیصلہ کرے گا۔