ایل او سی پر اقوام متحدہ کی نگرانی کا طریقہ کار مزید مضبوط بنایا جائے‘

اپ ڈیٹ 11 ستمبر 2019

ای میل

پاکستانی مندوب کے مطابق بڑھتی ہوئی بھارتی اشتعال انگیزی میں مبصر گروپ کا کردار مزید اہم ہوگیا ہے— فوٹو بشکریہ ٹوئٹر
پاکستانی مندوب کے مطابق بڑھتی ہوئی بھارتی اشتعال انگیزی میں مبصر گروپ کا کردار مزید اہم ہوگیا ہے— فوٹو بشکریہ ٹوئٹر

پاکستان نے بھارتی جارحیت اور مقبوضہ کشمیر کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر اقوام متحدہ کے مبصر گروپ برائے پاکستان و بھارت (یو این ایم او جی آئی پی) اور اس کی نگرانی کے طریقہ کار کو مزید مضبوط بنانے کا مطالبہ کردیا۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے سلامتی کونسل میں امن مشنز کی کارکردگی پر مباحثے کے دوران یہ مطالبہ کیا۔

ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ یو این ایم او جی آئی پی کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی اشتعال انگیزیوں کی نگرانی کا طریقہ کار مزید سخت کرنا چاہیے۔

پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ نئی دہلی کی جانب سے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد بڑھتی ہوئی بھارتی اشتعال انگیزی میں مبصر گروپ کا کردار مزید اہم ہوگیا ہے۔

مزید پڑھیں: جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا ایل او سی پار کرنے کا اعلان

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کو اس گروپ کی رپورٹنگ کی ذمہ داریوں میں ابھی اضافہ کرنا چاہیے۔

انہوں نے اقوام عالم کو باور کروایا کہ یو این ایم او جی آئی پی کی میزبانی کی حیثیت سے پاکستان اس کی افادیت سے اچھی طرح واقف ہے۔

ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے خطے میں امن کو برقرار رکھنے میں اقوام متحدہ کے مبصر گروپ کے کردار کی تعریف بھی کی۔

خیال رہے کہ 5 اگست کو بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے صدارتی فرمان کے ذریعے آئین میں مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا تھا۔

مذکورہ اعلان کے بعد مقبوضہ علاقہ ریاست کے بجائے وفاقی اکائی میں تبدیل کردیا گیا جس کی اپنی قانون ساز اسمبلی بھی ہوگی۔

اس منسوخی سے قبل مذکورہ آئینی دفعہ کے تحت وادی سے باہر سے تعلق رکھنے والے بھارتی نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں زمین خرید سکتے تھے اور نہ ہی سرکاری ملازمت حاصل کر سکتے تھے کیونکہ اس پر صرف کشمیری عوام کا حق تسلیم کیا گیا تھا۔

بھارت کو اس اقدام کے بعد نہ صرف دنیا بھر سے بلکہ خود بھارتی سیاست دانوں اور اپوزیشن جماعت کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایل او سی پر جارحیت، بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر دفتر خارجہ طلب

یہی نہیں بلکہ بھارت نے 5 اگست کے اقدام سے کچھ گھنٹوں قبل ہی مقبوضہ وادی میں مکمل لاک ڈاؤن اور کرفیو لگا دیا تھا جبکہ مواصلاتی نظام بھی منقطع کردیے تھے جو ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بھی تاحال معطل ہیں۔

نئی دہلی کے اس اقدام کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان ایل او سی پی کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا جبکہ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری ہے۔

بھارتی فوج جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے متعدد مرتبہ پاکستانی حدود میں بلا اشتعال فائرنگ کر چکی ہے جس کے نتیجے میں متعدد شہری شہید ہوچکے ہیں جبکہ پاکستان اس معاملے پر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کرکے احتجاج بھی ریکارڈ کرواچکا ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان کی جوابی فائرنگ سے متعدد بھارتی فوجی بھی مارے گئے تھے۔